ہائیڈروجن بم کے تجربے کے بعد شمالی کوریا نے انتہائی خطرناک اعلان کر دیا، بڑا خطرہ!

ہائیڈروجن بم کے تجربے کے بعد شمالی کوریا نے انتہائی خطرناک اعلان کر دیا، بڑا ...
ہائیڈروجن بم کے تجربے کے بعد شمالی کوریا نے انتہائی خطرناک اعلان کر دیا، بڑا خطرہ!

  

سیؤل(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں شمالی کوریا کی طرف سے مبینہ طور پر ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربات کرنے کے دعوے کے جواب میں جنوبی کوریا نے ایک ایسے ہتھیار کا استعمال شروع کر دیا ہے جس کا استعمال روکنا شمالی کوریا کے مطلق العنان آمرکم جون انگ کے بس کی بات نہیں۔ جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بارڈر پر جو سینکڑوں کی تعداد میں سپیکرز نصب کر رکھے ہیں ان کا ایک بار پھر استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ سپیکر اگست 2015ء میں پہلی بار نصب اور استعمال کیے گئے۔ جنوبی کوریا ان سپیکرز کے ذریعے شمالی کوریا کے لیڈر کم جون انگ کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیتا ہے جو کم جون انگ کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ شمالی کوریا کے عوام کا دنیا سے کوئی رابطہ نہیں، ریاست کا حکومتی میڈیا ہی اطلاعات کا واحد ذریعہ ہے۔ ایسے میں سرحد کے اس طرف سے سینکڑوں سپیکروں کے ذریعے جب شمالی کوریا کے عوام کو تصویر کا دوسرا رخ دکھایا جاتا ہے تو وہ اپنے لیڈر کم جون انگ سے بددل ہونے لگتے ہیں اور کم جون کی اپنے ملک میں مقبولیت کم ہونے لگتی ہے۔ جنوبی کوریا نے بارڈر پر 11مقامات پر سپیکروں کی دیواریں بنا رکھی ہیں

برطانوی اخبار ”دی انڈیپنڈنٹ“ کی رپورٹ کے مطابق ایک بار پھرپراپیگنڈے کے لیے سپیکروں کا استعمال کرنے پر شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو دھمکی دے دی ہے کہ اس اقدام کے ذریعے وہ جنگ کو دعوت دے رہے ہیں، شمالی کورین حکام کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ اگر جنوبی کوریا نے یہ پراپیگنڈہ سپیکر بند نہ کیے تو اس پر حملہ کر دیا جائے گا۔شمالی کوریا کی حکومتی جماعت کے پراپیگنڈہ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ”کم کی نم“ کا ایک ریلی سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ”امریکہ اور اس کے پیروکار ہمارے ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے پر حسد میں مبتلا ہیں اور ایسے اقدامات کے ذریعے صورتحال کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔“دوسری طرف جنوبی کوریا کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ”شمالی کوریا کے ہائیڈروجن بم کے تجربے کے بعد جنوبی کوریا اور امریکہ بارڈر پر امریکی ساختہ ہتھیار بارڈر پر نصب کرنے کے متعلق تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔“تاہم فوجی حکام کی طرف سے ہتھیاروں کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ بی 2اور بی 52بمبار طیارے اور ایک ایٹمی آبدوز جنوبی اور شمالی کوریا کے بارڈر پر تعینات کر سکتا ہے۔دوسری طرف شمالی کوریا کے ہائیڈروجن بم کے تجربے پر چین میں بھی غم و غصہ پایا جاتا ہے اور چینی حکام بھی اس معاملے پر امریکہ سے رابطے میں ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -