شامی شہر میں بھوک سے بلکتے 40 ہزار شہریوں کو بشارالاسد کے حامیوں کا ایسا طعنہ جسے جان کر آپ کا انسانیت سے اعتبار اٹھ جائے گا

شامی شہر میں بھوک سے بلکتے 40 ہزار شہریوں کو بشارالاسد کے حامیوں کا ایسا طعنہ ...
شامی شہر میں بھوک سے بلکتے 40 ہزار شہریوں کو بشارالاسد کے حامیوں کا ایسا طعنہ جسے جان کر آپ کا انسانیت سے اعتبار اٹھ جائے گا

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام کا سرحدی شہر مضایا گزشتہ 6ماہ سے شامی صدر بشارالاسد کی افواج اور اس کی اتحادی لبنانی تنظیم حزب اللہ کے شدت پسندوں کے محاصرے میں ہے۔ اس شہر کی آبادی 40ہزار سے زائد ہے۔ اس قدر طویل محاصرے کے باعث شہر میں اشیائے خورونوش کا شدید قحط پڑ چکا ہے اور اب تک 23سے زائد مردو خواتین اور بچے بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ یہ شہر کبھی سیاحتی مرکز ہوا کرتا تھا مگر آج بھوک اور فاقوں کی لپیٹ میں ہے اور شامی صدر کی طرف سے کسی بیرونی فلاحی تنظیم و کارکنوں کو اس شہر تک رسائی نہیں دی جا رہی تھی۔

گزشتہ دنوں عالمی دباؤ کے باعث بشارالاسد کو مجبوراً فلاحی ورکرز کو اس شہر تک رسائی دینی پڑی جو کھانے پینے کی اشیاء لے کر وہاں پہنچے۔ ایسے میں بشارالاسد حکومت کے حامی شامی باشندوں کی طرف سے ایسی سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا کہ انسانیت شرم سے پانی پانی ہو گئی۔ بشارالاسد کے حامیوں نے ٹوئٹر اور فیس بک پر عربی زبان میں ایک ہیش ٹیگ چلایا جس کا مطلب تھا ”مضایا کے محصورین کے ساتھ یکجہتی۔“

اس ہیش ٹیگ کے تحت ان شامی باشندوں نے انواع و اقسام کے کھانوں کی تصاویر شیئر کرنا شروع کر دیں جن کا مقصد بھوک اور فاقوں سے مرتے ہوئے مضایا کے شہریوں کا مذاق اڑانا تھا۔بشارالاسد کے حامی اپنی اس گھٹیا مہم میں شامی حکومت کے حامی سالم فرائی مچھلی، بھنے ہوئے گوشت، کباب، چپس، سلاد اور بریڈ کی تصاویرشیئر کرکے مضایا کے فاقوں مرتے مردوں، عورتوں اور بچوں کی بھوک کا مذاق اڑاتے رہے۔ انٹرنیٹ پر صارفین کی طرف سے بشارالاسد کے حامیوں کی اس سنگدلی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لوگ شامی باشندوں کے اس روئیے کو انتہائی سفاکانہ اور قابل نفرت قرار دے رہے ہیں۔

مزید :

انسانی حقوق -