ملک ایک بار بنتے اور ٹوٹتے ہیں،اگر ہمیں ساتھ چلانا ہے تو ہاتھ پکڑکر چلائیں گردن پکڑ کر نہیں: سردار اختر مینگل

ملک ایک بار بنتے اور ٹوٹتے ہیں،اگر ہمیں ساتھ چلانا ہے تو ہاتھ پکڑکر چلائیں ...
ملک ایک بار بنتے اور ٹوٹتے ہیں،اگر ہمیں ساتھ چلانا ہے تو ہاتھ پکڑکر چلائیں گردن پکڑ کر نہیں: سردار اختر مینگل

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ملک ایک بار بنتے اور ایک بار ٹوٹتے ہیں، اگر ہمیں ساتھ چلانا ہے تو ہاتھ پکڑکر چلائیں گردن پکڑ کر نہیں، پاکستان میں ادارے مضبوط ہوتے تو ہر تین ماہ کے بعد کسی کل جماعتی کانفرنس کی ضرورت نہ پڑتی۔

آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو مایوسی سے نکالنے کی ذمہ داری تمام جماعتوں پر عائد ہوتی ہے اب اگر دلدل پر مٹی ڈالی گئی تو بلوچستان کے لوگوں اور جماعتوں کا اسلام آباد آنا مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں نے چھ نکات پیش کیے میرا مذاق اڑایا گیا، طنز کیا گیا کوئی بتائے کیا یہ نکات پاکستان کے آئین ،قانون اور عالمی ضابطوں کے خلاف تھے؟ان چھ نکات کو تسلیم نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان کا پاکستان کی معیشت میں کوئی حق نہیں ہے۔ میں اپنا رونا رو رہا تھا تو اسلام آباد سے چند کلو میٹر دور کے فاصلے پر واقع خیبرپختونخوا بھی رو رہا ہے۔اتنے قریب والوں کا روناکوئی نہیں سن رہا ہے ہماری کون سنے گا؟ سردار اختر مینگل نے کہا کہپاکستان میں صرف ایک ادارہ مضبوط ہے جس کا ڈنڈا کبھی سیاستدانوں اورکبھی عدالتوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس اے پی سی سے فائدہ اٹھائے پالیسی سازی میں نمائندوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، 1998میں مشترکہ قیادت کونسل میں واحد وزیر اعلی تھا جس نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی۔

مزید :

قومی -