چائلڈ لیبر پالیسی وضع کرنے کا فیصلہ

چائلڈ لیبر پالیسی وضع کرنے کا فیصلہ

  

پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بتایا ہے کہ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی صوبے میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق چائلڈ لیبر پالیسی تیار کررہی ہے، جس کے تحت تیرہ سال سے 18سال تک کے بچے سکول میں تعلیم کے ساتھ کام بھی کرسکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پٹرول پمپس، ورکشاپس اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے 30ہزار سے زیادہ بچوں کو تعلیمی اخراجات کے علاوہ مفت فنی تربیت اور پھر ملازمت کے مواقع بھی مہیا کئے جائیں گے۔ پسماندہ اضلاع میں سکول جانے والے بچوں کو خصوصی طور پر ایک ہزار روپیہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔ پنجاب حکومت کا یہ لائق تحسین پروگرام ہے۔ جس سے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہنر مندی اور ملازمت کے مواقع بھی میسر آسکیں گے۔ حکومت پنجاب اس سے پہلے اینٹیں بنانے کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کے لئے تعلیمی وظیفے کے ساتھ تعلیم کا بندوبست کرچکی ہے۔ اب پٹرول پمپس، موٹر ورکشاپس اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے بچوں کے لئے بہت اچھا اور مفید پروگرام ہے، اس کے یقیناًبہتر نتائج برآمد ہوں گے جبکہ چائلڈ لیبر پالیسی وضع ہونے سے مختلف مقامات پر کام کرنے والے بچوں کے والدین کو اُن کے مستقبل کے بارے میں تشویش نہیں ہوگی۔ بچوں کو تعلیم اور ہنر سیکھنے کے بعد ملازمت کے مواقع مہیا کرنے کا فیصلہ بھی لائق تحسین ہے بہتر ہوگا کہ چائلڈ لیبر پالیسی وضع کرتے ہوئے ان بچوں کے لئے ملازمتوں کا کوٹہ بھی مختص کردیا جائے تاکہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند بچوں کو ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے دردر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں، اُن کے لئے کوٹہ ایسے بچوں کی تعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے معقول ہو نا چاہئے۔ ویسے بھی یہ پروگرام پاپولر ہوگا، بچو ں کی تعداد بڑھنے کے امکانات ہیں لہٰذا کوٹے کی شرح زیادہ مقرر کی جائے۔

مزید :

اداریہ -