نائلہ کی خود کشی اور ذرائع ابلاغ

نائلہ کی خود کشی اور ذرائع ابلاغ
 نائلہ کی خود کشی اور ذرائع ابلاغ

  

سندھ یونی ورسٹی کی سال آ خر کی طالبہ نائلہ رند بلوچ کی موت کا سبب بالآخر خود کشی ہی قرار پایا ہے۔ پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نائلہ کی خود کشی کے پس منظر میں ایسے اسباب ہیں جن کی ذمہ داری ایک شخص پر ہو سکتی ہے۔ پولیس کے خیال میں اس شخص کی وجہ سے ہی نائلہ ذہنی دباؤ کا اس حد تک شکار ہوئی کہ اس نے اپنی زندگی ہی ختم کر لی۔ پولیس کے بیان کے مطابق انیس خاصخیلی نامی شخص کے ساتھ فیس بک پر اس کی دوستی ہو گئی جو تین ماہ کے دوران اتنی بڑھی کہ نائلہ کو انیس سے شادی کا مطالبہ کرنا پڑا اور انیس کے انکار نے نائلہ کو خود کشی پر مجبور کردیا۔ انیس تعلیم یافتہ شخص ہیں ۔ وہ انگریزی زبان کے لیکچرر ہیں پولیس جو کچھ کہہ رہی ہے اس کی بنیاد (پولیس کے مطابق) نائلہ اور انیس کے موبائل فون سے حاصل کردہ معلومات ہیں۔ اب تو انیس کے خلاف مقدمہ بھی درج ہو گیا ہے اور انہیں عدالت میں بھی پیش کر کے پولس نے ان کا ریمانڈ لے لیا ہے۔ ڈی آئی جی پولس حیدرآباد خادم حسین رند کا دعوی ہے کہ پولیس کے پاس جو بھی ثبوت ہیں وہ مقدمہ کو مضبوط بنانے کے لئے کافی ہیں اور انیس کے خلاف مقدمہ میں درج دفعات کے تحت انہیں عمرقید کی سزا مل سکتی ہے۔ پولیس اپنے تئیں درست سمجھتی ہو گی لیکن جب عدالت میں وکلاء اپنے موکل کو بچانے کی کوشش کریں گے تو بات دور تلک جائے گی۔ جس طرح پولس کا کہنا ہے کہ انیس کے فون سے انہیں نائلہ سمیت کئی لڑکیوں کی قابل اعتراض تصاویر بھی ملی ہیں۔ وکلاء کیوں نہیں ایک ایک تصویر پر جرح کریں گے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ یہ سب باہمی رضا مندی کا نتیجہ تھا۔ بہر حال اس کالم میں یہ بحث نہیں ہے کہ انیس یہ سب کچھ کیوں کر رہے تھے اور تیس لڑکیوں کو انہوں نے کیا جھانسہ دے کر اپنی دوستی کے جال میں پھنسایا تھا۔ یہ لڑکیاں کیوں ان کے جال میں پھنس گئی تھیں؟

اس کالم میں بحث یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ خصوصا ٹی وی چینلوں نے پولیس کی تفتیش سے قبل ہی اپنی تفتیش کر لی جسے نشر بھی کیا گیا۔ کوشش یہ کی گئی کہ نائلہ کی خودکشی کو قتل بنا دیا جائے۔ یونی ورسٹی انتظامیہ کے ساتھ ماروی ہاسٹل کی وارڈن کو بھی نائلہ قتل کا ملزم بنا دیا جائے۔ سات بچوں کی ماں نسیم ملاح کو جو ان کے شوہر کے مطابق ، اپنی بیماری کی وجہ سے نائلہ کی موت کے تین روز بعد انتقال کر گئی، نائلہ کی خود کشی سے اس طرح جوڑ دیا جائے جیسے وہ خاتون بھی اس نام نہاد قتل میں اگر ملوث نہیں تھیں تو انہیں علم ضرور تھا کہ نائلہ کیوں کر قتل ہوئی۔ نائلہ کا کمرہ بھی وجہ تنازعہ بنایا گیا۔ نائلہ کا پس منظر بھی نشر کیا گیا۔ پولس کے بارے میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ قتل پر پردہ ڈالنے کے لئے حقائق کو چھپا رہی ہے۔ یہ کہا گیا کہ ایس ایس پی چوں کہ یونی ورسٹی کے اندر رہائش رکھتے ہیں اس لئے، یونی ورسٹی انتظامیہ کی طرف داری کر سکتے ہیں۔ غرض نائلہ سے متعلق خبروں کو اس قدر بڑھا چڑھا کر نشر کیا گیا جیسے ٹی وی چینل جو کچھ بول رہے تھے وہی درست تھا۔ اس قسم کی خبریں دینے والوں نے پولیس تحقیقات کا انتظار ہی نہیں کیا ۔ پولیس افسران ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے براہ راست گفتگو کی بجائے سنی سنائی خبروں کواُچھالاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیشتر والدین نے اپنی بچیوں کو یونی ورسٹی آنے سے ہی روک دیا۔ والدین کے لئے ویسے بھی یہ تشویشناک بات تھی کہ کوئی طالبہ ہاسٹل میں موت کا شکار ہو گئی ہو۔ ٹی وی چینل نائلہ کی موت کو قتل کا درجہ دینے پر مصر تھے ۔ لڑکیوں کا معاملہ حساس ہوتا ہے۔ ہر والدین فتنہ و فساد کے علاوہ اپنی بچیوں کو کسی فلیتہ سے بندھا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کی خبروں نے جو بھی اثر دکھایا اس کا ڈی آئی جی نے ذکر کیا اور انہیں والدین کو یہ یقین دہانی کرانی پڑی کہ اپنی بچیوں کو یونی ورسٹی بھیجیں ، ہم تحفظ دیں گے۔ بعض ٹی وی چینل پر خبروں کی وجہ سے خود یونی ورسٹی اساتذہ تقسیم ہو گئے، وکلاء جلوس نکالنے لگے، غیر سرکاری تنظیموں نے فریضہ جانا کہ جلوس نکالیں اور ’’ شہید ‘‘ نائلہ کے قاتلوں کو گرفتار کرو کے نعرے لگائیں۔ نائلہ نے خود کشی یکم جنوری کو کی۔ سوشل میڈیا سے لے کر با ضابطہ ذرائع ابلاغ تک نے نائلہ کی چھت کے پنکھے سے لٹکی ہوئی تصویر نشر اور شائع کی۔ نائلہ کی زندگی کی تصاویر تلاش کی گئیں اور انہیں بھی نشریات اور اشاعت کا ذریعہ بنایا گیا۔ یہ کس حد تک درست قرار دیا جاسکتا ہے، یہ سوال تو تصاویر شائع اور نشر کرنے والوں کے لئے ہے۔

تحقیقاتی رپورٹنگ اس لحاظ سے مشکل کام تصور کیا جاتا ہے کہ اس میں وقت درکار ہوتا ہے۔ معلومات کی تصدیق ضروری قرار دی جاتی ہے۔ سنی سنائی پر اعتبار کر کے اسے نشر یا شا ئع کردینا اخبار، جریدہ یا چینل کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کا کل اثاثہ ان کی ساکھ ہی تو ہوتی ہے جو قار ئین ، سامعین اور ناظرین کو اس اخبار یا چینل کی طرف متوجہ کرتی ہے یا اس سے جڑا رکھتی ہے۔ اگر ساکھ ایک بار متاثر ہو جائے تو اسے بحال ہونے میں خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔ پیشہ ور مدیر خبر کی تصدیق کے لئے وقت صرف کرتے ہیں۔ بغیر تصدیق کے خبر روک لینا بہتر سمجھتے ہیں بجائے اس کے کہ ایسی خبر شا ئع یا نشر ہو جائے جو بعد میں غلط ثابت ہو اور ہزیمت کا سبب بنے ۔ اس عمل سے گزرنے کے لئے ثابت قدمی کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں چوں کہ ہتک عزت کا قانون اتنے موثر طریقے سے استعمال نہیں ہوتا جیسا برطانیہ، امریکہ یا یورپ کے دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ ہتک عزت کے مقدمہ میں کامیابی کے بعد اخبارات کے کل اثاثے ہرجانہ ادا کرنے میں ہی پورے ہوجاتے ہیں۔

رپورٹر حضرات کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ بر وقت خبر کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ وہ سچ پر مبنی نہ ہو، حقیقت نہ ہو، غیر جانبدارانہ نہ ہو، مواخذہ یا احتساب کے لئے تیار نہ ہو، مفاد عامہ کے پیش نظر نہ ہو اور کسی لالچ، دباؤ سے آزاد نہ ہو۔ ٹی وی چینلوں میں خبروں کی دوڑ اور ٹکر چلانے اور مسابقت حاصل کرنے کے لئے رپورٹر اصولوں پر اکثر سمجھوتہ کرتے ہیں یا انہیں بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ ڈیسک سے دباؤ ہوتا ہے کہ ٹکر دے دیں۔ ٹکر دینے کے چکر میں خود رپورٹر گھن چکر بن جاتا ہے۔ رپورٹر کو رائے اور حقیقت کے درمیاں فرق کا فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے، پھر انہیں ہی صداقت معلوم کر کے رفتار کا مقابلہ بھی کرنا ہوتا ہے دنیا جہاں کے ذرائع ابلاغ کے ساکھ والے ادارے رفتار سے زیادہ صداقت پر توجہ دیتے ہیں۔ بسا اوقات عینی شاہدین بھی اپنے خلوص اور اعتماد کے باوجود مار کھا جاتے ہیں جسے تولنا رپورٹر کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹنگ میں سوالات کی بھر مار ہوتی ہے تاکہ حقائق کو معلوم کیا جا سکے۔ حال ہی میں فاظمہ بھٹو کا ذرائع ابلاغ سے ا حتجاجی ٹوئیٹ باعث توجہ ہے۔ سنی سنائی یا آج کل جیسا کہ سوشل میڈیا میں زور ہے، جتنے منہ اتنی ہی باتیں سامنے آتی ہیں، کیا سب سچ ہوتا ہے اور کیا سب با ضابطہ ذرائع ابلاغ سے نشر کرنے یا شائع کرنے کے معیار پر پورا اترتا ہے؟ ایک ہی وقت میں مختلف عناصر سر گرم بھی ہوجاتے ہیں جیسا سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے۔ کوئی یونی ورسٹی انتظامیہ سے ناراض ہوتا ہے، موقع غنیمت جان کر اپنی بھڑاس نکالتا ہے، کوئی لاعلمی میں اپنی رائے کا اظہار کر دیتا ہے۔ کوئی یونی ورسٹی اساتذہ تنظیم سے عناد رکھتا ہے۔ کوئی پولس افسران سے نالاں ہوتا ہے۔ عوام کا جاننے کا حق یقیناًاہمیت کا حامل ہے لیکن ان کا مفاد اسی میں ہوتا ہے کہ انہیں صداقت پر مبنی خبر سے آگاہ کیا جائے۔ ذرائع ابلاغ کے بارے میں یہ بحث ہمیشہ جاری رہے گی کہ انہیں معاشرہ کا عکس ہونا چاہئے یا معاشرے میں رہنما کردار ادا کرنا چاہئے۔ بی بی سی جیسے وسائل سے مالا مال ادارے نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ خبروں کی دوڑ میں غلط خبر کے سا تھ نمبر ایک ہونے کی بجائے تصدیق شدہ خبر کے ساتھ نمبر دو ہی رہا جائے ۔ یہی بہترین اصول ہے۔ وقت سے مقابلے میں دوڑ ہی تو کسی رپورٹر کی اہلیت ، مہارت اور ہنر مندی کا پتہ دیتی ہے وگر نہ تو سوشل میڈیا استعمال کرنے والا ہر شخص اور ہر ادیب رپورٹر نہیں ہوتا۔

مزید :

کالم -