سی پیک کے خارجہ پالیسی پر مثبت اثرات

سی پیک کے خارجہ پالیسی پر مثبت اثرات
 سی پیک کے خارجہ پالیسی پر مثبت اثرات

  



پاکستان بظاہر خطے میں ایک چھوٹا ملک ہے، لیکن اپنے محل وقوع کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ 1979ء کی روس افغانستان جنگ ہو یا 9/11 کے بعد امریکہ افغانستان جنگ، سپر پاورز اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پاکستان کے محتاج رہے ہیں ۔ سی پیک منصوبے کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کی سماجی اور معاشی اہمیت بڑھ گئی ہے، بلکہ اس منصوبے کی بدولت دنیا کی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سی پیک منصوبے نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بہت مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔ سی پیک منصوبہ چین کے One belt one roadمنصوبے کا حصہ ہے اور چائنہ کی سرمایہ کاری سے یہ منصوبہ شروع ہو گیا ،لیکن اس کے مضبوط معاشی ثمرات کی بدولت یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ چین اور پاکستان نہیں، بلکہ پورے خطے کا معاشی منصوبہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے روس کو پیشکش کی گئی کہ وہ سی پیک کا حصہ بنے۔ روس نے نہ صرف خود یہ پیشکش قبول کی، بلکہ روس، بیلاروس اور قازقستان پر مشتمل یوریشین معاشی یونین کو سی پیک سے منسلک کرنے کی منصوبہ بندی بھی شروع کر دی ہے ۔

اگر روس سی پیک منصوبے کا حصہ بن گیا تو یہ پاکستان ، روس اور چین کے درمیان تعاون بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ پاکستان روس کو گوادر پورٹ کے ذریعے برآمدات کی پیشکش کر چکاہے اور چین کے سرکاری جریدے گلوبل ٹائمز کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان، چین اور روس کے سی پیک سے وابستہ ہونے کو تینوں ملکوں کے مفادات کے لئے بہتر قرار دیا گیا ہے، تینوں ملکوں کے معاشی مفادات ایک نیا بلاک بنا رہے ہیں ۔ اس حقیقیت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ روس کا جھکاؤ اس سے قبل صرف بھارت کی طرف تھا ،لیکن سی پیک کی بدولت روس اور پاکستان کے تعلقات میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ روس اور پاکستان کی مشترکہ جنگی مشقیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ روس پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا خواہشمند ہے۔ اس سے قبل اس کا تصور بھی محال تھا کہ روس کی فوج پاکستانی خطے میں اپنی فوجیں اتار سکے ۔ بھارت کی مخالفت کے باوجود روس دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ روس اور پاکستان مزید دشمن نہیں رہیں گے۔ اس تمام تمہید کے پیچھے محض ایک ہی نظریہ کار فرما ہے اور وہ ہے روس کے معاشی مفادات اور خواب، جو سی پیک کی بدولت اس کو پورے ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی کو مثبت سمت لے کر جانے میں سی پیک کی اہمیت ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔

پاکستان کو ابھرتی ہوئی معاشی طاقت دیکھنا بھارت کے لئے ناقابل برداشت ہے اس لئے وہ سی پیک کے شدید مخالف ہے اور اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتا رہتا ہے ایران کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ کو وہ گوادر بندرگاہ کے مقابل کھڑا کرنا چاہتا تھا، لیکن چاہ بہار بندرگاہ سے اس کو وہ معاشی فوائد حاصل نہ ہو پائیں گے ۔ بھارت اگر پاکستان دشمنی سے خود کو اس منصوبے سے الگ رکھے گا تو وہ تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ اس راہداری کا حصہ بنے جو اس کے لئے بھی معاشی طورپر سو د مند ثابت ہو گی۔ پاکستان چونکہ اپنے ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور اس کی خارجہ پالیسی میں تمام ممالک سے متوازن تعلقات اور مصالحت نمایا ں ہے اس لئے پاکستان کی جانب سے بھارت کو پیش کش کی گئی کہ وہ سی پیک کا حصہ بنے ، تاکہ بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کو کم کیا جاسکے ۔ پاکستان کی جانب سے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ عامر ریاض نے بھارت کو پیش کش کی کہ وہ ایران ، افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ سی پیک کا حصہ بنے تاکہ اس کے معاشی ثمرات سے مستفید ہو سکے۔ بھارت کی سیاسی قیادت کو عہدنو کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں اور پاکستان کے تمام ایسے متنازعہ امور خصوصاً کشمیر ایشو کو جلد حل کرنا چاہیے۔

پاکستان ایران کے درمیان تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکاررہے ہیں، لیکن گزشتہ برسوں میں پاک ایران سرحد پر سمگلنگ، کل بھوشن یادیو کی گرفتاری اور دیگر تنازعات سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تقریباً کشیدہ ہیں۔ سی پیک کی بدولت ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات مضبوط رشتوں پر استوار ہو رہے ہیں ۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے وزیراعظم محمد نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ا س خواہش کا اظہار کیا کہ ایران سی پیک کا حصہ بنے۔ روحانی نے وزیراعظم کی تعریف کی کہ ان کے وژن نے سی پیک کو ایک حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے۔

سی پیک کے معاشی ثمرات کا جائزہ لیتے ہوئے افغان حکومت نے بھی سی پیک کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ سی پیک کی بدولت پاک افغان تعلقات جو بھارت امریکہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہوگئے تھے،اب صحیح راہ پر گامزن ہو رہے ہیں ترکی، چیک ری پبلک اور وسط ایشیائی ممالک کی جانب سے بھی سی پیک کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ۔ قازقستان کی جانب سے سی پیک کی مکمل حمایت اورشمولیت کی شدید خواہش کا اظہار کیا گیا کہ وہ سی پیک کا حصہ بنے، جس کی بدولت قازقستان کو سمندر تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سی پیک کی بدولت پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہو رہا ہے ۔ سی پیک کے منصوبے پرکام ہو رہا ہے،تو خطے کے ساتھ ساتھ دنیا میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہے اورکہا جاسکتا ہے۔ مشرق کی بالادستی کے نئے عہد کا آغاز ہو رہا ہے۔

مزید : کالم