ترقی وبحالی کا دور شروع ،فلم انڈسٹری کا گڑھ لاہور اپنے مرکز سے دور

ترقی وبحالی کا دور شروع ،فلم انڈسٹری کا گڑھ لاہور اپنے مرکز سے دور

  

لاہور(فلم رپورٹر)لاہور جو کسی زمانے میں فلم انڈسٹری کا گڑھ اور مرکز ہوا کرتا تھا اپنے مرکز سے دور چلا گیا ہے۔ جبکہ کراچی میں فلموں کے حوالے سے جو شور مچایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ فلم انڈسٹری کی ترقی وبحالی کا دور شروع ہوچکا ہے۔ یہ سراسر غلط ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ کراچی میں ٹی وی اور اشتہاری صنعت سے وابستہ افراد جدید ٹیکنالوجی کی آڑ لیکر جو فلمیں بنارہے ہیں۔ وہ فلمیں کمرشل حوالے سے ناکام جارہی ہیں ان فلموں کے سپکرٹس بھی زیادہ تر بے مقصد اور عارضی تفریح فراہم کررہے ہیں۔ ہماری فلم انڈسٹری کی جتنی عمر ہے اسے بھارت نہیں تو کم ازکم ایران، ترکی، بنگلہ دیش، سری لنکا کے برابر ہی ہونا چاہئے تھا مگر افسوس ہم نے فلمی مارکیٹ جو پہلے ہی محدود تھی وہ بھی تیزی سے بھارت کے حوالے کردی۔ بھارت نے ہمارے ملک میں موجود غداروں اور مفاد پرستوں کو جس کامیابی سے استعمال کیااس کی مثال نہیں ملتی۔ بھارت، ترکی، ایران، بنگلہ دیش سمیت تمام دیگر ممالک فلمسازی کرتے ہوئے اپنی ثقافت اور حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دیتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ خاص طور پر بھارتی فلموں میں پاکستان مخالف کردار، واقعات خصوصی طور پر شامل کرتے ہیں۔ بھارتی اداکاروں میں پاکستان مخالف کردار ادا کرنے میں سنی دیول، بوبی دیول، سنیل سیٹھی، شاہ رخ، سنجے کپور، امریش پوری مرحوم اور دیگر بہت مشہور ہیں۔ دوسری جانب ہمارے فلمسازوں نے ماضی میں مسئلہ کشمیر اور بھارتی ثقافت کیخلاف اول تو کوئی معیاری فلم بنائی نہیں جو چند فلمیں جدوجہد آزادی کے حوالے سے ماضی میں ریاض شاہد مرحوم خلیل قیصر مرحوم اور دیگر نے بنائیں ان کا حال اس دور کے سرکاری فلم سنسر بورڈ میں موجود مفاد پرست ہندو ایجنٹ افسران نے وہ عبرتناک انجام کیا کہ فلمساز ساری زندگی کیلئے تباہ و برباد ہوگئے۔ اس سلسلے میں ماضی میں بننے والی فلموں ’’زرقا شہید یہ امن، ٹیپو سلطان، حیدر سلطان، خاک و خون، مسلمان اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔ ہمسایہ دشمن ملک بھارت جس نے پاکستان کے وجود کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ آج بھی ہماری یوم آزادی کے نزدیک آتے ہی اپنی میڈیا کی تحریک تیز کردیتا ہے۔ بھارتی وہ تمام ٹی وی چینلز جو پاکستان کے طول و ارض میں دیکھے جاتے ہیں ان پر پاکستان مخالف فلموں کی نمائش شروع کردی جاتی ہے اور پاکستان فلم انڈسٹری بمعہ حکومت حب الوطنی اور ایسی کسی سرگرمیوں سے قطعی لاتعلق رہتی ہے۔ نتیجہ بھارتی غلط ہندو ثقافت کا زیر ہماری نوجوان نسل اور بچوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے میں مصروف ہیں۔ ہماری قوم اس یوم آزادی پر بھی بھارتی فلموں کی نمائش سے لطف اندوز ہوکر بے حسی اور بے غیرتی کا مظاہرہ کرتی رہی۔ جو ایک افسوسناک المیہ ہے۔ قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے کے بعد پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش کے حوالے سے اس دور کے حب الوطنی چند فلمی شخصیات نے جو کام کیا تھا اسے ہندوستان نے چند برسوں میں خاک میں ملادیا۔ ہماری فلم مارکیٹ جہاں چند برس قبل پہلے تحفے میں مفت بھارتی فلمیں آئیں پھر تھوڑے معاوضے دیکر بھارتی فلموں کی نمائش کا آغاز ہوا۔ اب ناجائز طریقوں سے ہر ماہ کروڑوں روپے کا زرمبادلہ بھارت منتقل ہورہا ہے۔ ہمارا میڈیا پرنٹ و الیکٹرنک دونوں اپنی انڈسٹری فن کاروں ہنر مندوں اور میوزک کو پرموٹ کرنے کے بجائے بھارتی فلموں، ہندو ثقافت اور وہاں کے سکھ بیر سنگھ جیسے فراڈ گلوکاروں کو پروموٹ کرنے میں مصروف ہیں۔

مزید :

کلچر -