پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کی موجیں لگ گئیں،میٹرک اور انٹرا امتحانات کے پیپرز چیک کر سکیں گے

پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کی موجیں لگ گئیں،میٹرک اور انٹرا امتحانات کے ...

  

لاہور(حافظ عمران انور سے)بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی انتظامیہ نے اپنے سابقہ فیصلوں پر نظر ثانی کا فیصلہ کر لیا ۔ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے ساتھ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کوبھی میٹرک اور انٹر امتحانات کے پیپرز چیک کرنے اوربطور نگران ڈیوٹیوں کے لئے درخواستیں طلب کر لیں ۔تعلیمی ماہرین کا پرائیویٹ اساتذہ کی بطور نگران تعیناتیوں پر تحفظات کا اظہار ۔تفصیلات کے مطابق لاہور بورڈ نے آئندہ ہونے والے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے سالانہ امتحانات میں بطور نگران ڈیوٹیوں کے لئے سرکاری سکولوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ سے بھی درخواستیں طلب کر لی ہیں ۔واضح رہے کہ ماضی میں بورڈ امتحانات میں پرائیویٹ اساتذہ کے بطور نگران کام کرنے کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں جس پر نوٹس لیتے ہوئے لاہور بورڈ نے سالانہ امتحانات میں پرائیویٹ اساتذہ کی بطور نگران تعیناتیوں پر پابندی لگا دی تھی مگر لاہور بورڈ انتظامیہ نے آئندہ امتحانا ت کے لئے اپنے سابقہ فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ بھی کو بطور نگران تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔تعلیمی ماہرین نے پرائیویٹ اساتذہ کی بطور نگران تعیناتیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ لاہور بورڈ کے اس اقدام سے نقل ،اور بوٹی مافیا کو تقویت پہنچے گی ماہرین نے کہا ہے کہ اس حوالے سے بورڈ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سالانہ امتحانات میں پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کو صرف اس صورت میں تعینات کیا جائے گا جب کسی امتحانی سنٹر میں اساتذہ کی کمی محسوس کی جائے گی۔بورڈ انتظامیہ نے کہا کہ پرائیویٹ سکول اساتذہ کو امتحانات میں صرف ضرورت کے تحت بیک اپ کے طور پر تعینات کیا جائے گا ۔ کنٹرولر امتحانات لاہور بورڈ ناصر جمیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ کیلنڈر میں قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے جس امتحانی سنٹر میں سرکاری اساتذہ کی کمی ہوتی ہے وہاں پرائیویٹ سیکٹر سے اساتذہ کی تعیناتیاں کی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امتحانات میں بطور نگران پرائیویٹ اساتذہ کے خلاف شکایات پر سرکاری اساتذہ کی طرز پر پیڈا ایکٹ کے تحت کارووائی کی تجویز بھی زیر غور ہے لاہور بورڈ میں پرائیویٹ اساتذہ کے خلاف شکایات پر کارروائی کے لئے سپروائزری کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جو سینیئرز پروفیسر پر مشتمل ہوں گی۔

ڈیوٹیاں

مزید :

علاقائی -