لاپتہ بچوں کے معاملے پر عدالت کسی ماں کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی :سپریم کورٹ

لاپتہ بچوں کے معاملے پر عدالت کسی ماں کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی :سپریم کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے لاپتہ بچوں کے معاملے پر لئے گئے ازخود نوٹس کیس میں قرار دیا ہے کہ لاپتہ بچوں کا معاملہ پولیس کے لئے معمول کا واقعہ ہو سکتا ہے مگرعدالت کسی ماں کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی،یہ عام کیس نہیں بلکہ خاص کیس ہیں ،ایک ماں چاہتی ہے کہ اس کا لاپتہ بچہ بازیاب نہیں ہوتا تو کم از کم اس کی ہڈیاں ہی مل جائیں تاکہ اس کی تسلی ہوجائے،یہ ستم ظریفی کی انتہا ہے ۔معاشرے میں معاشرتی ،معاشی اورتقافتی تفریق پائی جاتی ہے،معاشرے کے غریب لوگوں کے بچے اغواء اور ان کے ساتھ ہی جرائم کے واقعات ہوتے ہیں۔تعلیم اور صحت کی فراہمی میں ریاست اپنی ذمہ داری محسوس کرئے۔ بچوں کے حوالے سے پولیس سمیت متعلقہ ادارے کام کریں اور اس معاملے پر ٹھوس اقدامات کر نے کی ضرورت ہے۔گزشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار اور جسٹس عمرعطاء بندیال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بچوں کے اغوا کے خلاف ازخود نوٹس پر سماعت کی تو عدالت کے روبرو سینئر سول جج محمد یوسف کے بیٹے کی بازیابی ، شجاع آباد کے مدعی شفیق کی دو بچیوں 7 سالہ رمشا اور8 سالہ حمیرا ،مدعی محمد عمران ،قصور کے مدعی محمد خوشی کے بیٹے طیب خوشی اور لاہور کی کوثر کے 8 سالہ بیٹے ندیم اور 12 سالہ بیٹی صباء کے کیسوں میں پولیس حکام نے رپورٹس پیش کیں۔فاضل بنچ نے نامکمل تفتیش پرپولیس افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کب تک چلتی رہے گی کیا معاملہ حل ہوگا، ہم آپ لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں اور کرنا پڑتا ہے ، لیکن ہمیں بھی سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ از خود نوٹس کے باعث معاشرے میں بچوں کے اغوا سے پھیلا ہوا خوف ختم ہوگیا ، جسٹس عمر عطا بندیال نے قرار دیا کہ رپورٹس یہ بھی ہیں کہ والدین غربت کی وجہ سے بچوں کو فروخت کرتے ہیں اوربچوں کی فروخت کے زیادہ واقعات پسماندہ علاقے میں ہوتے ہیں ،ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ بچے فروخت کرنے کی چیز نہیں ہیں۔عدالتی معاون عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بچوں کے خلاف جرائم پر ہمسایہ ملک میں کافی کام ہوا ہے، مگر ہمارے ملک میں اس پراتنا کام نہیں ہوا،بچوں کے اغواء اور بچوں کے ساتھ جرائم پرقانون سازی کے ذریعے سخت سزا اور بھاری جرمانے ہونے چاہیے،انہوں نے یو این او سمیت دیگر اداروں کی رپورٹس عدالت میں پیش کیں اور کہا کہ حکومت اور عدالت اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی،آبادی بڑھنے کی وجہ سے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں ، آبادی کنٹرول کرنے کیلئے حکومت نے کیا اقدامات کئے ہیں ، مردم شماری کرائی نہیں گئی ،جس سے پتہ چلتا کہ ملک میں مردوں ، عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں ،کے مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کا تناسب کیا ہے اور اس تناسب سے ہسپتال اور دیگر ادارے بھی موجود ہیں یا نہیں؟۔فاضل بنچ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن کو ہدایت کی کہ ایک ورکشاپ منعقد کریں اس کے نتیجے میں حاصل ہونیوالی تجاویز کی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔فاضل بنچ نے لاہور کے تھانہ نواب ٹاؤن کے علاقے سے دو بازیاب کروائے گئے دو بہن بھائی 8 سالہ ندیم اسلم ، 12 سالہ صباء اور ان کے ماں باپ کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا،فاضل بنچ نے رپورٹ پیش کرنے والے پولیس افسر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جس باپ اور سوتیلی ماں کے ظلم کی وجہ سے بچے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے پھر اسی کے حوالے کردیا۔سماعت کے دوران گمشدہ بچوں کے لواحقین کا کہنا تھا کہ بچوں کی تلاش میں وہ روز مرتے اور روز جیتے ہیں،اگر بچے زندہ نہیں ہیں تو ان کی ہڈیاں ہی مل جائیں تاکہ ہمیں یقین آجائے۔بنچ نے سینئر سول جج یوسف کے بیٹے کے اغوا کار ملزم سلطان زیب کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے دی گئی درخواست پر محکمہ داخلہ کو جلد فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔قصور کے تھانہ گنڈا پور سے لاپتہ بچے کی والدہ اور والد نے بتایا کہ پولیس نے ملزموں کو چھوڑ کر انہیں ملزم بنا کر تھانے میں بند کردیا ،پولیس تشددسے نوجوان لڑکے کا بازو ناکارہ ہوگیا جبکہ دیگر ساتھیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ،چار پائی سے باندھ کر تشدد کیااور ناک میں پانی ڈالا جاتا رہا ،اب پولیس کہتی ہے ،بچہ نہیں مل رہا۔آر پی او شیخوپورہ نے بتایا کہ وہ میرٹ پرتفتیش کررہے ہیں ،بچے کا ملزمان کے گھر جانا ثابت ہوتا ہے اس سے آگے کچھ پتہ نہیں چل رہا ،مدعیوں کو اس لئے شامل تفتیش کیا گیا کہ ملزمان سے بچے کا قتل یا اغواء ثابت نہیں ہوا ،اس لئے تفتیش کیلئے دوسرا پہلو اپنایا گیا۔شجاع آباد کے شفیق نے عدالت میں پولیس آفیسر شاہدہ پروین پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ملزم کو پروٹوکول دیتی ہیں جبکہ ہمارے ساتھ ملزمان جیسا سلوک کیا جاتاہے، ملزمان کو گرفتار کرکے چھوڑ دیا گیا۔شاہدہ پروین اس پر تسلی بخش جواب نہ دے سکیں جبکہ ان کے ساتھی پولیس آفیسر نے بتایا کہ ملزمان نے عبوری ضمانت کرارکھی ہے اس لئے گرفتار نہیں کرسکتے تاہم تمام پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔جس پر فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت بار بار وقت دے رہی لیکن کوئی نتیجہ نکل رہا ،یہ عام کیس نہیں بلکہ خاص کیس ہیں ،ایک ماں کو اس کے بچے کی ہڈیاں تو ملنی چاہئیں تاکہ اس کی تسلی ہوجائے۔فاضل بنچ نے مزید ریمارکس دئیے کہ تھانوں میں جس طرح کا مدعیوں سے سلوک کیا جاتا ہے ،اس سے وہ خودکو مجرم سمجھنے لگتا ہے اوریہ شکایات عام ہیں۔ اس پر آپ نے اب تک کیا ہے اور یہ کلچر کب ختم ہوگا۔ آرپی او شیخوپورہ نے کہا کہ ادارے میں یہ خامیاں اور کمیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔فاضل عدالت نے از خود نوٹس کیس پر سماعت ایک ماہ تک ملتوی کرتے ہوئے پولیس کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید :

علاقائی -