یہ مسلم نیٹو ہے ،دی گارڈین

یہ مسلم نیٹو ہے ،دی گارڈین

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی قیادت میں قائم ہونے والے مغربی ممالک کے فوجی اتحاد ’’نیٹو‘‘ کا نام تو کئی دہائیوں سے دنیا میں گونج رہا تھالیکن جب حال ہی میں 39ممالک پر مشتمل سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی پاکستان کے سابق سپہ سالار جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سونپی گئی تو پہلی بار ’’مسلم نیٹو‘‘ کی اصطلاح بھی سامنے آ گئی ہے۔ ممتاز برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے ’’پاکستان کے ریٹائرڈآرمی چیف نے ’مسلم نیٹو‘ کا پہلا کمانڈر بننے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔‘‘ اخبار کا کہنا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو تین سال تک پاکستانی فوج کی شاندار سربراہی پر ڈھیروں خراج تحسین پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن سعودی سربراہی میں قائم ہونے والے فوجی اتحاد کی سربراہی قبول کرنے پر کچھ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف قائم کئے گئے سعودی اتحاد میں 39 مسلم ممالک شامل ہیں البتہ عراق اور ایران اس کا حصہ نہیں ہیں، جس پر کچھ تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اتحاد میں سنی ممالک کی اکثریت کی وجہ سے اس کے ایران مخالف ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ ایسی صورت میں جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی جانب سے اس اتحاد کی سربراہی قبول کرنے پر پاکستان کی جانبداری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ جب 2015ء4 میں سعودی اتحاد کی بنیاد رکھی گئی اور سعودی دارالحکومت میں اس کا ہیڈکوارٹر قائم کیا گیا تو اسی وقت سے ایران کی حمایت اسے حاصل نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان اس بات کا بارہا اعادہ کرچکا ہے کہ یہ تمام برادر اسلامی ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور کسی بھی دو ممالک کے درمیان اختلافات کی صورت میں جانبدار رہے گا۔

مزید :

صفحہ اول -