فو جی عدا لتیں ختم کی گئیں تودہشت گردی بڑھ جا ئیگی،آئینی ماہرین

فو جی عدا لتیں ختم کی گئیں تودہشت گردی بڑھ جا ئیگی،آئینی ماہرین

  

لا ہور (جنر ل ر پو رٹر،نامہ نگار )سپر یم کو ٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹر ی جنر ل اورآئینی و قانونی ما ہر آفتا ب احمد باجوہ نے کہا ہے کہ پا کستا ن اس وقت حا لت جنگ میں ہے اور د نیا بھر میں جنگی جر ائم کی عدا لتیں فو جی ہی ہو تی ہیں ۔ وہی خصوصی عدا لت کے طو ر پر فوری فیصلہ کرتی ہیں ۔ د ہشت گردی کی جس صورت حا ل کا ہمیں سامنا ہے اس میں فوجی عد التو ں کا قیا م نا گزیر ہو چکا ہے ۔ وہ ’’پا کستا ن‘‘ سے گفتگو کر ر ہے تھے انہو ں نے کہا کہ اگر فو جی عدا لتیں ختم کی گئی تو د ہشت گردی 100فیصد سے زائد بڑھ جا ئیگی ۔ آفتا ب باجوہ نے کہا فو جی عدا لتو ں کی مد ت ختم ہو ئے کئی روز ہو چکے ہیں ۔ لیکن حکومت نے کو ئی با قاعد ہ اعلا ن نہیں کیا اسے فو جی عدا لتوں کے حوالے سے توسیع کا اعلا ن کر نا چا ہے بصورت د یگر سپریم کو رٹ اور ہا ئی کو رٹ میں جس طر ح سائلین مقد ما ت کے فیصلو ں کی قطا ر میں لگے ہیں ۔ اسی میں مزید اضا فہ ہو جا ئے گا ۔ اور فو جی عدا لتیں نہ ہو ئیں تو شہریو ں میں عدا لتو ں کا خوف ختم ہو جا ئے گا اور انصا ف کے تقاضے پو ر ے نہیں ہوپائیں گے ۔ ممتا ز ما ہر قانو ن اظہر صد یق ایڈ ووکیٹ نے کہا کہ جو ملک حا لت جنگ میں ہو تا ہے وہا ں فوجی عدا لتو ں کا قیا م ضروری ہو تا ہے ۔ پا کستا ن میں فو جی عدا لتو ں کا قیا م وقت کی ضرورت ہے حکومت حا لا ت کو سمجھے اور فور ی طور پر فوجی عدا لتو ں کو تو سیع د ے ۔سپر یم کو رٹ با ر کے ممبر افتخا ر چوہدر ی ایڈ ووکیٹ نے کہا کہ فو جی عدا لتیں نہ ر ہیں تو د ہشت گردی کی کمر مکمل نہیں ٹو ٹ سکے گی حکومت حا لا ت کی سنگینی کوسمجھے ۔فوجی عدالتیں قائم رہتیں تو بہتر ہوتا،فوجی عدالتوں کو ختم کرکے عوام الناس کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے ،اب اگر دہشت گردی بڑی تو سیاست دان ہی اس کے ذمہ دارہوں گے ،2سال تک قائم رہنے والی فوجی عدالتوں نے بہت سے دہشت گردوں کے ٹرائل مکمل کرکے انہیں سزائیں دیں تاہم اگر یہ مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ہوتے تو شاید ابھی تک ان کے ٹرائل ہی چل رہے ہوتے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف آئینی و قانونی ماہرین نے نمائندہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔لاہور بار ایسوس ایشن کے صدر جہانگیر اے جھوجہ نے کہا ہے کہ مجموعی طور پر فوجی عدالتوں کی کارکردگی بہتر رہی ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ فوجی عدالتوں کی آئینی مدت 2سال تھی جو اب ختم ہوگئی ہے لیکن جتنا جلدی ٹرائل فوجی عدالتوں میں مکمل کرکے دہشت گردوں کو سزائیں دی گئی ہیں ،اس طرح انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ممکن نظر نہیں آتا کیوں کہ وہاں بہت سے دیگر مسائل کا سامنا ہے جس میں سیکیورٹی ، انفراسٹکچر اور گواہان کے تحفظ جیسے معاملات کا سامنا ہے ۔سینئر ایڈووکیٹ اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں کے خاتمہ پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فوجی عدالتوں کو ختم کرکے عوام الناس پر بہت بڑاظلم کیا ہے ، فوجی عدالتیں 100فیصد ڈلیور کررہی تھیں لیکن نہ جانے حکومت کے کیا مفادات ہیں جو فوجی عدالتوں کے عمل کوجاری نہیں رکھا گیا ،انہوں نے مزید کہا فوجی عدالتوں کے قیام سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے لیکن اب اگر یہ دہشت گردی بڑی تو سیاست دان ہی ذمہ دارہوں گے ،انہوں نے مزید کہا کہ فوجی عدالتوں نے طریقہ سے دہشت گردوں کے ٹرائل کرکے انہیں قرار واقع سزائیں دی ہیں وہ دیگر کے بس کی بات نہیں تھی ،انہوں نے مزید کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں سیکیورٹی ،انفراسٹکچر اور گواہان کے تحفظ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے جس کے باعث وہاں مقدمات التواء کا شکار رہتے ہیں ۔ماہر قانون چودھری شعیب سلیم کا کہنا ہے کہ 21ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں جو کہ 2سال تک قائم رہنے کے بعد اب ختم ہوگئی ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ اگر فوجی عدالتوں کو جاری رکھنا تھا تو اس کے لئے قانون سازی کرکے اس کا دورانیہ بڑھایا جاسکتا تھا لیکن حکومت کی جانب سے ایسا نہیں کیاگیا جس کے باعث اب مذکورہ فوجی عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات ٹرائل کے لئے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو بھجوا دیئے گئے ہیں ۔انہوں نے وزیرقانون رانا ثناء اللہ کے بیان کہ (فوجی عدالتوں کی کارکردگی بہتر نہیں رہی)پر کہا کہ ان کی نظر میں یہ ایک سیاسی بیان ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیوں کہ فوجی عدالتوں کو جو بھی مقدمات بھجوائے جاتے رہے ہیں وہ مقامی صوبائی حکومتوں کی ہدایات پر بھیجے جاتے رہے ہیں ۔ممبر پنجاب بار کونسل فرہاد علی شاہ اور پاکستان بار کونسل کے کوارڈینیٹر مدثر چودھری نے کہا کہ ان کے خیال میں فوجی عدالتوں قائم رہتیں تو ملک و قوم کے لئے بہتر تھا کیوں کہ جس طریقہ سے انہوں نے مقدمات نمٹائے ہیں اس طریقہ کی دوسری مثال نہیں ملتی ہے ، انہوں نے مزیدکہا کہ ان فوجی عدالتوں کا قیام دہشت گردی کی روک تھام اور دہشت گردوں کو قرار واقع سزا دینے کے لئے کیا گیا تھا کیوں کہ حکومت دہشت گردی کے ناسور پر قابو پانے میں مکمل طور پرناکام تھی ،انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت ان فوجی عدالتوں کو قائم رکھتی تو دہشت گردی کے جو ملزمان تھے ان کے ٹرائل بہتر طریقہ سے کئے جاسکتے تھے ۔رانا ثناء اللہ کے بیان پر انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی بیان بازی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور ہمارے ہاں تو سیاست دان کا کام بس اب یہ ہی رہ گیا ہے کیوں کہ عوام الناس کے مسائل پر ان کی توجہ نہیں ہے اور بس نکتہ چینی ہی کرنا انہوں نے اپنا وتیرہ بنا رکھا ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -