فوجی عدالتوں کا فیصلہ آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے کیا جائے ، مولانا عبدالغفور حیدری

فوجی عدالتوں کا فیصلہ آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے کیا جائے ، مولانا ...

  

کراچی(آئی این پی)ڈپٹی چئیرمین سینٹ آف پاکستان جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ فوجی عدالتیں اتفاق رائے سے بنی تھیں ،لہذا اب بھی اگر قومی مفاد میں ان عدالتوں کی ضرورت ہے تو آل پارٹیز کانفرنس بلا کرمشاورت سے فیصلہ کیا جائے،ہم نے نیشنل ایکشن پلان یا فوجی عدالتوں کو اس لئے قبول کیا تھا کہ سب کے ساتھ انصاف ہو،لیکن قومی ایکشن پلان کی آڑ میں مدارس پر چھاپے مارے گئے اور علماء کو حراساں کیا گیا جو کسی صورت مناسب نہیں ہے،وہ پیر کو مہران ٹاؤن میں واقع جامعہ انوار العلوم میں جے یو آئی کراچی کے تمام اضلاع کے عہدیداران سے خطاب کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے،اس موقع پر جیے یو آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ راشد خالد محمود سومرو ،جے یو آئی سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان ،مولانا محمد غیاث ،مولانا عبدالکریم عابد ،قاری حماد اللہ ودیگر بھی موجود تھے،ایک سوال پر مولانا غفور حیدری نے کہا کہ پلی باگین کالا قانون ہے اس سے کرپشن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ،اس قانون کے تحت کرپٹ شخص تھوڑے پیسے ادا کر کے رہا ہوجاتا ہے ،کرپٹ عناصر کا بے رحمانہ احتساب ہونا چاہئیے اور لوٹ مار کرنے والے کو قرار واقعی سزا ملنا چاہئیے ،قومی دولت لوٹنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،ایک مزید سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر چہ عمران خان بھی کرپشن کے خاتمے کی بات کرتے ہیں،لیکن ان سے ہمارا نظریاتی اختلاف ہے ،جب تک عمران خان سیکیولزم سے علیحدگی کا فیصلہ نہیں کرتے ان سے بات نہیں ہوسکتی ہے،ہمارا عمران خان سے ذاتی اختلاف نہیں ہے،

مزید :

صفحہ اول -