اقتدار چھوڑنے پر مشروط آمادگی

اقتدار چھوڑنے پر مشروط آمادگی
 اقتدار چھوڑنے پر مشروط آمادگی

  

مشق(مانٹیرنگ ڈیسک) شام کے صدر بشارالاسد نے اقتدار چھوڑنے پر مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ شام کی حکومت ہرمعاملے پر مذاکرات کیلئے تیار ہے ، جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے باوجود اگرباغی رواں ماہ کے آخر میں دوبارہ امن مذاکرات شروع کریں تو وہ آزادانہ الیکشن کراسکتے ہیں، شام کے عوام ملک کے آئین کے مطابق اپنا صدر منتخب کریں گے ۔برطانوی میڈیا کے مطابق توقع کی جارہی ہے کہ روس کی حمایت یافتہ شام کی حکومت اور باغیوں کے درمیان جنوری کے آخر میں قزاقستان میں مذاکرات ہوں گے لیکن گزشتہ ہفتے اپوزیشن گروپس نے موقف اپنایا تھا کہ ملک بھر میں جاری حکومتی کارروائیوں کی وجہ سے اُنہوں نے مذاکرات موخر کردیئے ہیں۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق بشارالاسد کاکہناتھاکہ باغیوں کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی کئی بار خلاف ورزی کی گئی جبکہ دمشق کے نزدیک وادی پر قبضے کے لیے آرمی کے اقدامات کا بھی دفاع کیا۔ یادرہے کہ شام کی حکومت نے باغیوں کیساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کررکھاہے اور باغیوں کے مطالبے پر مستعفی ہونے کے سوال پر بشارالاسد کاکہناتھاکہ ’ ہاں وہ مستعفی ہوسکتے ہیں لیکن میرا عہدہ آئین سے جڑا ہے ‘اگروہ اس نقطے پر بات کرناچاہتے ہیں تو اُنہیں آئین پر بھی بات کرنی چاہیے ، آئینی معاملات ریفرنڈم پر چھوڑنے چاہیں اورلوگ کسی کو بھی اپنا صدر منتخب کرسکتے ہیں۔برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آستانہ میں ہونیوالے امن مذاکرات میں شام کی اپوزیشن کی نمائندگی کون کرے گا اور نہ ہی تاحال تاریخ کا حتمی فیصلہ ہوسکا۔یہاں یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ تقریباً6سال سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت سے کئی بار مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن کامیابی نہیں ہوسکی ۔

مزید :

صفحہ اول -