پیپلزپارٹی اور پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین کے انتخابات، دونوں سابق وزرائے اعظم اور گورنر فارغ

پیپلزپارٹی اور پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین کے انتخابات، دونوں سابق وزرائے اعظم ...

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاکستان پیپلزپارٹی اور پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین کے مرکزی انتخابات کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق گورنر پنجاب سیکریٹری جنرل کے عہدوں سے فارغ ہو گئے ہیں، دونوں بالترتیب پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین اور پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل تھے سینیٹر فرحت اللہ بابر اور سابق چیئرمین سینٹ نیئر بخاری نے ان حضرات کی جگہ لی۔ ان انتخابات میں وائس چیئرمین یا نائب صدر کے عہدے کا انتخاب عمل میں نہیں آیا۔ یوں سابق وزیر اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی بھی سینئر وائس چیئرمین نہیں رہے۔ تاہم یہ حضرات بغیر عُہدے کے سینئر رہنما کی حیثیت سے پارٹی میں موجود ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سیکریٹری اطلاعات منظور چودھری منتخب ہوئے۔ یہ عہدہ پہلے قمر زمان کائرہ کے پاس تھا جو اب وسطی پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر ہیں۔ پارلیمینٹرین کی صدارت پھر سے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے پاس آئی۔ سیکریٹری اطلاعات مولا بخش چانڈیو اور خزانچی سینٹر مانڈوی والا چنے گئے ہیں یوں مرکز میں اس حد تک انتخابات مکمل ہو گئے اب بعض دوسرے عہدیدار اور مرکزی مجلس عاملہ کا بھی چناؤ یا نامزدگی ہو گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی میں ان تبدیلیوں سے پارٹی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہیں اور مجموعی طور پر اچھا تاثر پایا جاتا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ سب آئندہ سال کے عام انتخابات کی عرض سے کیا گیا کہ اس طرح الیکشن کمشن کی شرط بھی پوری کی گئی ہے، جہاں تک دونوں جماعتوں کے انضمام اور واحد جماعت پیپلزپارٹی رکھنے کی خبروں کا تعلق ہے تو یہ افواہیں ثابت ہوئیں۔ دونوں ہی جماعتیں برقرار رکھی گئی ہیں مگرچہ مدر پارٹی پیپلزپارٹی ہی ہے تاہم منتخب اراکین کا تعلق پارلیمینٹرین سے ہے اور اب بھی ٹکٹ اسی جماعت کے ہوں گے یوں آصف علی زرداری تو تیر کے نشان پر انتخاب میں حصہ لینے کے لئے آزاد ہیں تاہم بلاول کے لئے قانونی راہ تلاش کرنا ہو گی کہ وہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین ہیں اور تیر کا نشان ان کے والد کے پاس ہے اسی نشان پر انتخاب میں حصہ لینے کے لئے ان کے پاس پارلیمینٹرین کے ٹکٹ کے سوا کوئی دوسری صورت بظاہر نظر نہیں آتی۔ جبکہ ضمنی انتخاب اور ایک نشان پر انتخاب لڑنے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

اطلاع یہ تھی کہ بلاول بھٹو زرداری لاہور کے بلاول ہاؤس میں سات سے دس دن تک کے قیام کے لئے آ رہے ہیں اور یہیں وسطی پنجاب کے ڈویژنل اور ضلعی عہدیداروں کے لئے امیدوارروں کے انٹرویو کر کے ناموں کا اعلان کریں گے تاہم وہ اب اسلام آباد پہنچ گئے اور یہ سلسلہ وہاں شروع ہوگا کہ وہ اس عرصہ میں قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ’’دما دم مست قلندر‘‘ کا اعلان کرنے کے لئے 27 دسمبر کی جو تاریخ دی تھی اس مرحلے پرتو کسی تحریک کا اعلان نہ ہو سکا الٹا آصف علی زرداری نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی خوشخبری سنا کر کام پورا کر دیا اس پر سیاسی حلقوں اور پارٹی میں بہت گفتگو ہو رہی ہے تاہم اس سے جماعت متاثر نہیں ہوئی اور جو سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں ان سے یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی بھی انتخابات ہی کے لئے تیاری کر رہی ہے اور اس عرصہ میں بیان بازی سے کام لیا جائے گا پیپلزپارٹی تیز تر اور اعتراضات والے بیان اور تقریروں سے گزارہ کرے گی جبکہ پارلیمینٹرین والے پارلیمانی سیاست پر گزارہ کریں گے اس عرصہ میں ضمنی انتخاب بھی ہو جائیں گے اور جیتنے کی صورت میں باب بیٹا بھی قومی اسمبلی میں ہوں گے یوں کسی تحریک کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عوامی رابطہ مہم باقاعدہ شروع کر دی اور کامیاب جلسہ بہاول پور میں کیا ہے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے مرکزی راہنماؤں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو وسیع تر سیاسی اتحاد کے لئے دوسری اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی ان میں پیپلزپارٹی بھی شامل ہے جبکہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی وسیع تر اتحاد کی بات کر چکے ہیں۔ دیکءھے قطرے کو گوہر ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ بظاہر تو کسی بڑے اپوزیشن اتحاد کے امکانات معدوم ہیں۔

مزید :

تجزیہ -