عمران خان ، زرداری اور منظور وسان

عمران خان ، زرداری اور منظور وسان
 عمران خان ، زرداری اور منظور وسان

  

کسی بھی ملک کے سیاسی نظام میں اپوزیشن کی بہت زیادہ اہمیت ہوا کرتی ہے۔ جن ممالک میں اپوزیشن نے صحیح کردار ادا کیا، عوام کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اپوزیشن کی وہاں پر نہ صرف نظام ٹھیک ہوا بلکہ جمہوریت بھی مضبوط ہوئی اور عوام کے مسائل بھی ہوئے۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں مختلف جماعتیں اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہیں مگر بدقسمتی سے کچھ جماعتوں نے اپوزیشن کے نام پر مفادات حاصل کئے ، کچھ جماعتوں نے مُک مکا اور مفاہمت کی سیاست کی اور چند جماعتوں نے اپوزیشن کا کردار تو ٹھیک طرح ادا کیا مگر اس کے ثمرات نہ سمیٹ سکیں۔ پاکستان میں اپوزیشن کی زیادہ تر احتجاجی تحریکوں کا نتیجہ مارشل لاء کی صورت میں سامنے آیا جس کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سمیت کچھ پارٹیوں میں چارٹر آف ڈیمو کریسی ہوا جس کے بعد ایک باری پیپلز پارٹی لے چکی ہے۔ نواز لیگ کی باری جاری ہے۔ تقریباً تمام پارٹیاں اب الیکشن کے موڈ میں داخل ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بظاہر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی اپوزیشن کر رہی ہیں۔ پاکستان کے موجودہ پارلیمانی نظام کا اگر بغور جائزہ لیا جائے توکو اسمبلیوں میں ایک آئینی اپوزیشن نظر آتی ہے جس کا نام پیپلز پارٹی ہے جو اپنا اصل کام تو نہیں کر رہی جو اپوزیشن کا کام ہوا کرتا ہے البتہ مجموعی طور پر یہ تاثر دیتی ہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام اور جمہوری ڈھانچہ صرف اس کی وجہ سے قائم ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کو بھی یہ رام کہانی سنا کر سلا دیا ہے کہ اگر ہم نے حکومت کے خلاف تحریک چلائی تو پھر نظام حکومت اور جمہوریت سب کچھ رخصت ہو جائے گا اور اگر یہ نظام رخصت ہو گیا تو پھر بلاول ملک کا وزیراعظم کیسے بنے گا اور اگر بلاول وزیراعظم نہ بنا تو پھر بینظیر کے خواب کیسے پورے ہونگے ؟ جب خوابوں پر بات آتی ہے تو اچانک نیند سے آنکھ کھل جاتی ہے ، جیالے آگے کی طرف دیکھتے ہیں تو وہی پارٹی ، وہی کلچر ، وہی زرداری اور وہی اقتدار گروپ نظر آتا ہے اور وہی میاں نواز شریف جس نے کئی سالوں کی محنت سے پیپلز پارٹی کو نہ صرف پنجاب سے نکالا تھا بلکہ ایک صوبے تک محدود کر دیا ہے۔ دوسری طرف ایک اپوزیشن پی ٹی آئی اور عمران خان کی صورت میں ہے جو کسی حد تک عوامی اپوزیشن کہلا سکتی ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ عمران خان کی قیادت میں جو عوامی اپوزیشن کام کر رہی ہے وہ سولو فلائٹ کی وجہ سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں کر پا رہی۔ یعنی عمران خان راتوں رات حکومت کو گھر بھیج کر ملک میں تبدیلی ، صاف اور شفاف نئے الیکشن کروا کر ایک انصا ف پسند کرپشن سے نفرت کرنے والا ویژنری وزیراعظم لانا چاہتے ہیں جو ان سے بہتر کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ جناب عمران خان کے پاس ماسوائے سیاسی سوجھ بوجھ کے سب کچھ ہے ۔ جلسوں کیلئے عوام موجود ہیں ،لاکھوں کی تعداد میں ووٹرز موجود ہیں اور کسی حد تک ذاتی اثرو رسوخ رکھنے والے امیدوار بھی ہیں لیکن عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ بن چکا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر کئی پارٹیاں بن چکی ہیں وہ اختلافات جن کو شروع کرنے کیلئے کبھی اعلیٰ ترین قیادت کی خواہش شامل تھی اب وہ اختلافات ذاتی لڑائیوں میں بدلتے جا رہے ہیں اور یہ اختلافات ریڈ لائن کراس کر چکے ہیں جن کو سنبھالنا اب عمران خان کیلئے بھی کافی حد تک مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کی آئینی اپوزیشن کی مفاہمت پر مبنی پالیسیوں اور عمران خان کی سیاسی غلطیوں کا فائدہ بہرحال میاں نواز شریف اٹھا رہے ہیں ۔ سیاست میں کہا جاتا ہے کہ آپ کے مخالف کی غلطی آپ کی خوبی نہیں بن سکتی لیکن نواز شریف نے ثابت کیا ہے کہ مخالفوں کی غلطیاں ان کی خوبیاں بن سکتی ہیں۔ پاکستان کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کا اگر جائزہ لیا جائے تو کچھ یوں نقشہ سامنے آتا ہے ایک طرف پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے بڑے جوشیلے انداز میں حکومت کے سامنے اپنے 4 مطالبات رکھے اور ان مطالبات کو نہ ماننے کی صورت میں حکومت مخالف لانگ مارچ کرنے کی دھمکی دی اور اس کیلئے 27 دسمبر اپنی والدہ محترمہ کی برسی کا دن مقرر کیا گیا اسی دوران مفاہمت کی سیاست کے گرو ہونے کے دعویدار آصف علی زرداری وطن واپس آئے ان کا استقبال ہوا وہ پارٹی قیادت اور بلاول سے ملے تو اس کے بعد جیالوں کو نواز حکومت کے خلاف تحریک کی تیاری کی بجائے ضمنی الیکشن کی تیاری کا ٹاسک دیدیا گیا وہ بلاول جس نے ایک عرصہ سے جیالوں کو لارا لگا رکھا تھا کہ اب پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرے گی تو لگ پتہ جائیگا۔ بلاول نہ مارچ کر سکے اور نہ ہی نواز شریف کو کسی چیز کا پتہ لگا بلکہ بلاول نے آصف علی زرداری کی عدم موجودگی میں اپنی جو نئی ٹیم تشکیل دی اور جیالوں کو متحرک کیا تھا وہ جیالے اور نئی قیادت ایک بار پھر جنوری کی سردی میں ٹھنڈی ہو کر بیٹھ گئی۔ 27 دسمبر کی تقریب میں زرداری نے قوم کو خوشخبری دی جس میں اعلان کیا کہ بلاول بھٹو زرداری اور میں خود بہت جلد الیکشن لڑ کر اسمبلی میں جائیں گے ۔ پارلیمنٹ میں جا کر پیپلز پارٹی کو زندہ کریں گے۔ سب سے بڑی پارٹی بنائیں گے اور پھر پارلیمنٹ سے بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی قیادت میں عوامی انقلاب نکلے گا حالانکہ جیالے سوچ رہے تھے کہ 27 دسمبر کو بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری حکومت مخالف تحریک کا اعلان کریں گے اور پیپلز پارٹی کی گری ہوئی ساکھ کو دوبارہ بحال کریں گے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے جیالوں کو یہ خوشخبری دی گئی کہ زردار ی ایک بار پھر پارلیمنٹ میں جائیں گے حالانکہ اس سے قبل یہی آصف علی زرداری صدر پاکستان بھی رہ چکے ہیں۔ عام جیالے یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر وہ صدر پاکستان کے طور پر کچھ نہیں کر سکے تو وہ اب ایک ایم این اے بن کر کیا کرینگے اور ویسے بھی جب تک آصف علی زرداری اور بلاول اسمبلی میں جائیں گے حلف اٹھائیں گے تب تک ملک میں نئے الیکشن کا ماحول بن چکا ہو گا۔ آصف علی زرداری ویسے بھی مخلوط حکومت کا عندیہ دے چکے ہیں اس لئے پیپلز پارٹی جو ملک کی آئینی اپوزیشن ہے اس سے تو کسی خیر کی توقع پاکستان کے عوام اس لئے نہیں کر سکتے کیونکہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی آئندہ 5 سال تک بھی جمہوریت کو بچانے کے نام پر ایک ہی پیج پر ہونگے اگلے سالوں میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں میں تبدیلی ہو سکتی ہے البتہ عوام کی حالت بدلنے اور ملک میں کسی بڑی تبدیلی کا ذریعہ کم از کم پیپلز پارٹی نہیں بننے جا رہی ۔ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے ان کو چاہیے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں ، اگر انہوں نے موجودہ پارلیمانی نظام کے تحت الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر کے تبدیلی لانی ہے تو پھر ان کو پاکستان کے تمام قومی اسمبلی کے حلقوں میں اپنے امیدوار ابھی سے فائنل کر کے ان کی پوری طرح سے تیاری کروانی چاہیے کیونکہ آئندہ انتخابات میں غلطی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے ۔ پی ٹی آئی اپنے کارکنوں اور قیادت کو ناتجربہ کاری کی بین سنا کر خاموش نہیں کر سکے گی اور آئندہ کے انتخابات کے بعد دھاندلی کا چورن بھی نہیں بک سکے گا لہٰذا پی ٹی آئی کو اپنے امیدواروں کی تیاری کے ساتھ ساتھ سولو فلائٹ سے بھی باہر آنا ہو گا ۔ پی ٹی آئی کو کم از کم مسلم لیگ ق اور جماعت اسلامی سمیت اپنی ہم خیال پارٹیوں کو ابھی سے انتخابی اتحاد میں شامل کرنے کیلئے رابطہ شروع کر دینا چاہیے کیونکہ اگر پی ٹی آئی سولو فلائٹ نہیں چھوڑے گی تو اس کا فائدہ آصف علی زرداری اٹھائے گا جو مسلم لیگ ق ، جماعت اسلامی سمیت تمام چھوٹی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ عمران خان نے حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے ایک لمبا سفر طے کیا ہے ۔2014ء میں عمران خان کے نواز حکومت کے خلاف دھرنوں کے جواب میں آصف علی زرداری کہا کرتا تھا کہ ابھی سفر بہت لمبا ہے کپتان کو تھکنے دیں جب کپتان تھک جائیگا ہم تب تازہ دم ہو کر میدان میں اتریں گے۔ آصف علی زرداری کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے کھیل سے پوری طرح واقف ہیں اسی لئے انہوں نے یہ بیان دیا تھا وہ اس حقیقت سے بھی پوری طرح واقف تھے کہ ابھی عالمی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان میں تبدیلی کا سگنل نہیں دیا اس لئے انہوں نے عمران خان کے کسی دھرنے وغیرہ کا حصہ بننے کی بجائے صرف اتنا کہا کہ عمران خان کا سفر بہت لمبا ہے ۔ ان کو ابھی تھکنے دیں جبکہ دوسری طرف عمران خان انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی بجائے لوکل مینجمنٹ اور انفارمیشن کی بنیاد پر سیاست کر رہے تھے اس لئے ان کو بار بار لوکل امپائر کا نمائندہ ہونے اور سکرپٹ پر عمل کرنے والے لیڈر کے طعنے دئیے جاتے رہے ہیں یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کی آئینی اپوزیشن پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری عالمی قوتوں کی پاکستان میں بچھائی گئی بساط کے مطابق اپنی سیاست ترتیب دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں میں ان کیلئے کوئی ہمدردی نام کی چیز نہیں ہے جبکہ عمران خان صرف لوکل یعنی مقامی قوتوں کے ذریعے سیاسی کھیل میں کامیابی کیلئے کوشاں ہیں۔ جہاں تک عوامی سیاست اور تبدیلی کی سیاست کا تعلق ہے عمران خان عوام کے احساسات اور جذبات کے قریب تر ہیں وہ عوامی اور پاپولر سیاست کر رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی مفاہمت اور مک مکا کے سفر کو ابھی مزید جاری رکھے گی اس لئے وہ پاپولر سیاست کی بجائے پتلی گلی سے ہوتے ہوئے ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔ اس سفر میں پیپلز پارٹی کا عوام کے احساسات و جذبات سے تعلق محض جلسوں و جلوسوں تک ہی ہو گا ۔ آخر میں پیش خدمت ہے منظور وسان کا نیا خواب جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ 2017ء میں وہ کچھ ہو گا جو 70 سال میں نہیں ہوا۔ کڑے احتساب کا آغاز ہو گا اور لوٹا ہوا پیسہ بیرون ملک سے واپس آئیگا مگر کیسے اس پر آپ بھی سوچئے گا میں تو اکثر سوچتا رہتا ہوں کہ آخر وہ دن کب آئیگا جب ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہونگے اور ملک و قوم کو لوٹنے والوں کے گرد شکنجہ کسا جائیگا۔

مزید :

کالم -