قاضی حسین احمد کی یاد میں

قاضی حسین احمد کی یاد میں
 قاضی حسین احمد کی یاد میں

  

میں نے صحافت شروع کی تو سب سے پہلے جس سیاسی جماعت کی کوریج کی ذمہ داری ملی وہ جماعت اسلامی تھی اور جماعت اسلامی کے امیر تھے قاضی حسین احمد، ایک دبنگ اور متحرک سیاسی رہنما، مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ میں نے ان سے زیادہ متحرک سیاسی رہنما شاید ہی کسی دوسرے کو پایا ہو، دل کے متعدد آپریشن ہوچکے تھے مگر وہ صبح پشاور ہوتے، دوپہر کو لاہور تو عین ممکن تھا کہ رات کو کراچی میں خطاب کر رہے ہوتے۔ مجھے یہ کہنے میں بھی عار نہیں کہ آج جس سٹیٹس کو عمران خان انجوائے کر رہے ہیں اس سٹیٹس کو پانے کے لئے انہوں نے سرتوڑ محنت کی مگر اس قوم نے ان کی بات نہیں سنی۔ نوجوانو ں کو سیاست میں فعال کرنے کے لئے انہوں نے محض جمعیت پر انحصار نہیں کیا بلکہ شباب ملی تشکیل دی اور اس شباب ملی نے بہت کچھ ایسا کیا جوجمعیت نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے سیاست میں دلچسپی نہ رکھنے والوں کو بھی پاکستان اسلامک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے سیاست میں ان کرنے کی کوشش کی ، عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تو انہوں نے ظالمو!قاضی آ رہا ہے کا نعرہ دیا جو بہت مقبول ہوا ۔ قاضی حسین احمد بھی یہی سمجھتے تھے کہ پیپلزپارٹی لیفٹ ونگ کی جماعت ہے اور جماعت اسلامی اس کا ووٹ بنک نہیں توڑ سکتی لہٰذاان کے بڑے ٹارگٹ بھی نواز شریف ہی رہے، وہ بھی رائے ونڈ جا پہنچے تھے اور جاتی امرا میں عین اسی جگہ جلسہ کیا تھا جہاں کچھ عرصہ پہلے عمران خان صاحب نے میدان لگایا۔ فرق صرف یہ ہے کہ قاضی حسین احمد کو عوام، میڈیا، اسٹیبلشمنٹ اورووٹروں کی وہ توجہ نہیں مل سکی جو عمران خان کے حصے میں آئی ۔ ان کے حصے میں کوشش کرنا تھا، میں نے مولانا مودودی ؒ کا دور نہیں دیکھا مگر میں سمجھتا ہوں کہ جماعت اسلامی کی تاریخ میں جو سب سے زیادہ نیا پن دینے والا امیر اگر کوئی تھا تو وہ قاضی حسین احمد ہی تھے۔

قاضی حسین احمد کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے فرقہ واریت کی سیاست کی نفی کی، علامہ شاہ احمد نورانی کے ساتھ ساتھ قاضی حسین احمد ہی وہ رہنما تھے جن کی وجہ سے ملی یکجہتی کونسل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکا۔ ملی یکجہتی کونسل اس وقت بنی جب فرقہ واریت اپنے عروج پر تھی، سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد بالترتیب سنیوں اور شیعوں کے انتہا پسندوں کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ یہاں علامہ ساجد نقوی کو خراج تحسین پیش نہ کرنازیادتی ہو گی۔ مولانا فضل الرحمان، مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا سمیع الحق سمیت سب نے اس میں اپنااپنا مثبت کردارادا کیا۔ بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ملی یک جہتی کونسل سیاسی اور جمہوری طور پر نہیں بنی تھی بلکہ اس کی راہ اسٹیبلشمنٹ نے ہموار کی تھی ، اگر یہ خیال سچ بھی ہے توبھی اس کی تعریف کرنی چاہئے کہ اس وقت جس طرح قتل و غارت اور ماردھاڑ کا بازار گرم تھا ایسے میں ہماری دینی قوتوں کی طرف سے ایسا مثبت پیغام جانا ازحد ضروری تھا، اسی ملی یک جہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے ایک دوسرے کے پیچھے باجماعت نماز ادا کر کے تفرقہ پیدا کرنے والوں کی کمر توڑ دی تھی۔ اگر ہم ان پر اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دینے کا الزام لگاتے تھے، ہیں تو ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بغاوت کرنے والے بھی قاضی حسین احمد ہی تھے ۔ میں ایک اخبار کا چیف رپورٹر تھا اور اس اخبار کے مالکان قاضی حسین احمد کے ساتھ پبلک ریلیشننگ چاہتے تھے، انہوں نے پیغام بھیجا کہ قاضی حسین احمد کا ایک انٹرویو کیا جائے اور اس انٹرویو میں وہ بھی موجود ہوں گے مگر جب قاضی حسین احمد نے کور کمانڈرز کو کروڑ کمانڈرز کہہ کر پکاراتو ان کو الٹے لینے کے دینے پڑ گئے۔ یہ ایک بہت ہی ہمت اور جرا ت والی بات تھی جس کے بارے آج بھی نہیں سوچا جا سکتا۔ انٹرویو کو ریکارڈ کر لیا گیا تھا اور گفتگو کے مکمل ثبوت موجود تھے مگر اخبار کے مالکان نے صاف طور پر یہ بات شائع کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس کے چند دنوں بعدفیصل مسجد اسلام آباد میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام ہوا اور قاضی حسین احمد نے یہی فقرہ وہاں کہہ دیا اور پورے میڈیا کو اسے رپورٹ کرنا پڑا۔ قاضی حسین احمد نے بہت بہادری کے ساتھ مزاحمت کی سیاست کی۔میں نے انہیں اس عالم میں بھی لانگ مارچ کرتے ہوئے لاہور سے راولپنڈی اور وہاں سے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تک پہنچتے ہوئے دیکھا جب جی ٹی روڈ پر باقاعدہ دیواریں کھڑی کی گئی تھیں اور مری روڈ پر آنسو گیس کی اتنی شیلنگ کی گئی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ آج دور بدل چکا، آج کارکن پولیس کے ڈنڈوں اور آنسو گیس کے شیلوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور لیڈر اپنے ایکڑوں میں پھیلے ہوئے محفوظ اور صحت بخش فارم ہاؤسز میں ڈنڈ بیٹھکیں نکالنے کی ویڈیوز بھجوادیتے ہیں۔ اس تاریخی فلسفے سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کو بہت سارے کامیاب لیڈر ( یا حکمران ) اسٹیبلشمنٹ نے ہی دئیے ہیں مگر جماعت اسلامی کو حکومتیں گرانے کے لئے استعمال تو کیا جاتا رہا مگر کبھی اسٹیبلشمنٹ نے اسے حکمرانی کے لئے استعمال کر کے نہیں دیکھا۔

یہ میری ذاتی رائے ہے اور بہت سارے اس سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں کہ قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کو جس مقام پر پہنچایا، ان کے بعد وہ وہاں نہیں رہی بلکہ بہت پیچھے چلی گئی، وہ ایک دوسری سیاسی جماعت کی دم چھلہ بن گئی، اسی دور میں جماعت اسلامی کی فرقہ وارانہ حیثیت ابھر کر سامنے آئی جب اس جماعت کے امیر کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والے پاکستانی فوجیوں کی موت کو شہادت قرار دینے پر شکوک و شبہات پیدا کئے گئے۔ میری قاضی حسین احمد سے آخری ملاقات محترم لیاقت بلوچ کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی جہاں ایک صاحب بہت اصرار کے ساتھ نماز پڑھنے کے اس طریقے پر اصرار کر رہے تھے جو ان کی فقہ کے مطابق درست ہے، وہ باقی تمام مسلمانوں کی نمازوں اور دعاؤں کو مسترد کر رہے تھے، میں نے دیکھا کہ قاضی حسین احمد نے اس پر نہ صرف اپنے انداز سے ناراضی ظاہر کی بلکہ اسے ایسی باتیں کرنے سے روک بھی دیا۔ یہ بات تسلیم کرنے والی ہے کہ قاضی حسین احمد نے جس حد تک علامہ اقبا ل کی شاعری کو اس کی اصل روح اور تفسیر کے ساتھ یاد کر رکھا تھا وہ شاید ہی کسی دوسرے سیاسی رہنما کو یاد ہو، اس کی فہم رکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔یہ بھی میری ذاتی رائے ہی ہے کہ سراج الحق، جماعت اسلامی کو دوبارہ مین سٹریم پارٹی بنا سکتے تھے، وہ قاضی حسین احمد کی طرح ایک جمہوری اور سیاسی سوچ رکھنے والے امیر ہیں مگر شاید بدقسمتی ان کے بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے، وہ بھی مجھے ووٹرو ں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

مجھے اورمجھ سارے بہت سارے دوسروں کو قاضی حسین احمد کی سیاست کے طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر ان کی جرات ، بہادری اور ایمانداری سے نہیں اور تاریخ کبھی بھی جرات مندوں اور بہادروں کو فراموش نہیں کرتی۔ قاضی حسین احمد کے صاحبزادے آصف لقما ن قاضی اپنے والد کی یاد میں ادارہ فکر و عمل کے زیر اہتمام گیارہ جنوری، بدھ کے روز ایک سیمینار کا اہتمام کر رہے ہیں جس کے مقررین میں جماعت اسلامی پاکستان کے موجودہ امیر سراج الحق، جمعیت العلمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان،مسلم لیگ نون کے چیئرمین راجا ظفر الحق، پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر خورشید احمد، وفاقی وزیر ریلویز اور مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر شاہ محمود قریشی بھی شامل ہیں۔ سیمینار کا موضوع جمہوری اداروں کا استحکام اور سیاسی جماعتوں کا کردار ہے۔ موضوع تو بہت زبردست ہے مگر میں سوچ رہا ہوں کہ وقت کی ضرورت اس اہم ترین موضوع پران تمام میں سے ایک مقرر کیا کہیں گے؟

مزید :

کالم -