کمشن بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج معمول ،قانونی ماہرین اور سوسل سوسائٹی میں تشویش

کمشن بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج معمول ،قانونی ماہرین اور سوسل سوسائٹی میں ...

  

لا ہور (شعیب بھٹی ) پنجا ب بالخصوص لا ہور میں کمسن بچو ں کے خلا ف مقد ما ت در ج ہو نا معمو ل بن گیا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران 7سال سے کم عمر10 بچو ں کے خلا ف قتل ، اقدا م قتل ، چور ی ، ڈ کیتی جیسے مقد ما ت درج ہو ئے ہیں جبکہ قانو نی ما ہر ین کے نز د یک ایسے واقعات قانون کے منافی ہیں اور ان کے بارے میں قانونی ما ہر ین اور سول سوسائٹی میں تشویش پا ئی جا تی ہے۔ پنجا ب میں بے گنا ہ افرا د کی گرفتا ریاں اور ماو رائے عدا لت قتل کے سینکڑو ں واقعات ایسے ہیں جو صفحہ مثل پر مو جود ہیں۔ اس حوالے سے آ ئینی وقانو نی ما ہر ین نے مختلف خیا لا ت کا اظہا رکیا ہے۔ پاکستان میں کسی بھی بچے کو مقدمے میں ملوث کرنے یا ملزم قرار دینے کے لئے عمر کی کم از کم حد 7سال مقرر ہے۔ ما ہر قانون سید فرہا د علی شا ہ کے مطا بق تعزیرات پاکستان کی دفعہ 82کے تحت کسی بھی شخص کو اس وقت فوجداری مقدمے یا کسی جرم میں ملوث قرار دیا جاسکتا ہے جب اس کی کم از کم عمر 7سال ہو۔پاکستان میں عمر کی یہ حد 1860سے مقرر ہے اور دنیا بھر میں بچوں کو مقدمات میں ملوث کئے جانے کی کم از کم عمربڑھائی جارہی ہے۔اگرچہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 83کے مطابق 7سال سے 12سال تک کی عمر کے کسی بھی بچے کو اس وقت تک مقدمے میں ملوث نہیں کیا جائے گاجب تک کہ وہ جرم کی نوعیت کو سمجھتا نہ ہولیکن عملی طور پاکستان میں سات سال بلکہ سات سال سے کم عمر بچوں کے خلاف بھی مقدمات درج کئے جاتے ہیں ور اس کی مثالیں بھی ماضی میں سامنے آچکی ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں سپارک اور انٹرنیشنل جووینائل آبزویشن نامی تنظیمیں بچوں کے مقدمات کے لیے یا انہیں ملز م قرار دئے جانے کے حوالے سے عمر کی حد 12سال کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور وقتاً فوقتاً مختلف پلیٹ فارمز پر آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ سینئر وکیل چو د ھری شعیب سلیم نے بتا یا کہ بچو ں کو 12سال کی عمر سے پہلے کسی بھی جرم کی صورت میں ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش نہیں کیا سکتا کیونکہ اس سے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ خواتین کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے لیکن 12سال سے کم عمر کسی بھی بچے کو نہیں۔ واضح ر ہے گزشتہ سال مسلم ٹاؤن تھا نہ میں چند ما ہ قبل پیش آ یا جہا ں ایک نو ماہ کے بچے موسیٰ پر کم از کم 30 افراد قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا، محمد موسیٰ خان پر پولیس کو دھمکی دینے اور ریاست کے معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔جبکہ را ئے ونڈ کے علاقہ میں بھی 6سالہ الماس کے خلا ف پو لیس نے چور ی کا مقد مہ در ج کیا تھا ۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ پنجا ب کے مختلف مقاما ت پر گزشتہ سال کے دوران 10کے قریب 7سال سے کم عمر بچو ں کے خلا ف سنگین نو عیت کے مقد ما ت در ج ہو ئے ہیں جو پو لیس کی ناقص کا ر گرد گی کا منہ بو لتا ثبوت ہے ۔

مزید :

علاقائی -