2016ء کالعدم تنظیم کے 50 سے زائد خطرناک دہشتگرد سنٹرل جیل میں قید رہے

2016ء کالعدم تنظیم کے 50 سے زائد خطرناک دہشتگرد سنٹرل جیل میں قید رہے

  

ملتان(کرائم رپورٹر) سال 2016 ؁ء ضلع ملتان میں کل 4600 ملزمان عدالتوں سے سزا پا کر سنٹرل جیل آئے،ان میں سے (دفعہ 302) قتل کے590، منشیات کے مقدمات میں2114، ڈکیتی کے مقدما ت میں سزا پا کر 990مجرمان جبکہ چوری کے مقدمات میں میں سزار پا کر 409جبکہ(بقیہ نمبر30صفحہ12پر )

دیگر جرائم جس میں اغوا، بد اخلاقی اور دیگر جرائم شامل ہیں کے497مجرمان سنٹرل جیل میں قید رہے۔جبکہ ضمانت پر زیر سماعت مقدمات میں مجموعی طور پر رہائی پانے والے ملزما ن کی تعداد 3577 رہی،ا ن میں قتل کے الزام میں372،منشیات کے مقدمات میں ملوث 1800 ڈکیتی کے 685 چوری کے 310جبکہ اغوا اور بد اخلاقی سمیت دیگر جرائم میں ملوث 410ملزمان شامل ہیں۔سال 2016 ؁ کے دوران کالعد م تنظیم سے تعلق رکھنے والے 50سے زائد خطرناک دہشت گرد سنٹرل جیل ملتان میں قید رہے ۔بات کی جائے جیل اصلاحات کی تو سال 2016 ؁ کے دوران سنٹرل جیل ملتان میں قیدیوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے منصوبہ مکمل کرلیا گیا ۔واضح رہے کہ2016ء کے دوران محکمہ جیل خانہ جات نے نے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے UNODC ((UNITED NATION ORGANIZATIONS ON DRUGS&CRIME) کے اشتراک سے پنجاب کی بیشتر جیلوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے کا منصوبہ بنایا ،جو مکمل کر لیا گیا۔ اس حوالے سے سنٹرل جیل میں سپیشل یونٹ قائم کیا گیا ۔جس میں خطرناک قیدیوں دہشتگردوں سمیت دیگر کا مکمل ڈیٹا محفوظ کیا گیا ۔قیدیوں کی تاریخ پیشی پر آمد جامد بائیومیٹرک کردی گئی ۔اس کے ساتھ ساتھ جو بھی قیدی کسی جرم میں جیل میں جودیشل ریمانڈ پر آئے گا تو کمپیوٹر کے ذریعے اس کا مکمل ڈیٹا سامنے آجائے گا ۔اسی طرح اسیران کی ملاقات کے نظام کو بھی مکمل کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ جیل میں بھی یہ منصوبہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ جبکہ قیدیوں کو ہنر مند بنانے کے لیے TEVTA)) ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے اشتراک سے منصوبہ شروع کیا گیا جو تادم تحریر جاری ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -