صوفیانہ تعلیمات کی بدولت ظلم و جبر کا خاتمہ ممکن ہے ‘ زوہیب گیلانی

صوفیانہ تعلیمات کی بدولت ظلم و جبر کا خاتمہ ممکن ہے ‘ زوہیب گیلانی

  

ملتان (سٹی رپورٹر)اولیاء اور اللہ کی نیک برگزیدہ ہستیوں کی تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ درگاہ اور آستانے آج بھی عقیدت مندوں کیلئے آگہی اور فیض کے حصول(بقیہ نمبر47صفحہ12پر )

کے مراکز ہیں۔ روحانیت اور علمیت کے بنا دنیا ایک خالی کھوکھے کی مانند ہے۔ اس میں زندگی کے رنگ تب نظر آتے ہیں جب اس میں روحانیت اور فیوض شامل ہو جائیں۔یہ بزرگوں کی تعلیمات کی کرامت ہے کہ آج دنیا صوفیت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ صوفیانہ تعلیمات کی بدولت ظلم اور جبر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ ان آستانوں پر آنے والوں کو اللہ والوں کی صحبت میسر آتی ہے۔ بالخصوص گیارہویں شریف پیران پیر غوث العظم شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی کے آستانے اور دوسری برگزیدہ ہستیوں کے آستانے اللہ والوں کی اتباع اور اطاعت کے مراکز ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بزرگان دین کی تعلیمات کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ دنیا مکمل طور پر برداشت ، عمل ، آگہی ، علمیت اور روحانیت کا مرکز بن سکے۔ ان خیالات کا اظہار غوث زماں قطب دوراں حضرت سخی نوابؒ کے سجادہ نشیں مخدوم زوہیب گیلانی نے عرس کے موقع پر چادر پوشی کی تقریب میں کیا۔ اس موقع پر سید مظہر سعید کاظمی ، سابق سپیکر قومی سید فخر امام ، مخدوم غلام یزدانی گیلانی ، مخدوم تنویر الحسن گیلانی ، راجن بخش گیلانی ، سید عامر عبدالقادر گیلانی ، یونس بھٹی ، عامر شہزاد صدیقی ، نعیم اقبال نعیم ، صاحبزادہ حمید نواز ، محمد صدیق ، محمد علی مہروی ، الحاج محمد بلال سعیدی سلمان الٰہی قریشی ، سید شوکت شاہ بخاری ، وقاص فرید قریشی ، محمد عقیل ، محمد افتخار مغل و دیگر موجود تھے۔

زوہیب گیلانی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -