کراچی ،نئے سال میں بد امنی کی لہر ،سکیورٹی اداروں کیلئے چیلنج

کراچی ،نئے سال میں بد امنی کی لہر ،سکیورٹی اداروں کیلئے چیلنج

  

کراچی (اسپیشل رپورٹ)گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی کے شکار کراچی کے شہریوں کو اس وقت اطمینان محسوس ہواجب وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کی مشاورت سے 2013میں کراچی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ۔بلاشبہ آج تین سال گذر جانے کے بعد کراچی کے شہری یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اس آپریشن کے ثمرات ان کو ملنا شروع ہوگئے ہیں ۔تاہم ابھی بھی کراچی میں مستقل امن اور آپریشن کے اثرات برقرار رکھنے کے لیے بہت سے اقدامات کرنے ضرور ی ہیں ۔2016کا اختتام نہایت اچھے انداز میں ہوا لیکن نیا سال شروع ہوتے ہی تشدد ،فائرنگ ،ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے ۔سال نو کے پہلے ایک ہفتہ کے دوران متعدد افراد کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ہے ۔فائرنگ کے ان واقعات کے بعد کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے ۔کراچی آپریشن کے مثبت نتائج سب کے سامنے ہیں جس کے نتیجے میں بھتہ خوری ،اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔لیکن 2017کے شروعات میں ان واقعات میں اچانک اضافہ باعث حیرت ہے اورعوام بھی خوف و ہراس کا شکار ہیں ۔جمعہ کے روز ایک تھانے پر کریکر حملہ کیا گیا جبکہ ٹریفک پولیس پر فائرنگ کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی جبکہ ایک شخص جاں بحق ہوا ۔بدامنی کے ان واقعات میں جمعرات کو بھی پولیس کے اسب انسپکٹر سمیت 4افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔کراچی میں اچانک سے ٹارگٹ کلنگ کا سوئچ آن ہوجانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ بظاہر اس ٹارگٹ کلنگ کی کوئی وجہ سامنے آرہی ہے ۔یہ نہ تو سیاسی ٹارگٹ کلنگ ہے اور نہ ہی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کو فرقہ وارانہ بنیاد پر قتل کیا گیا ہے ۔پولیس زیادہ تر وارداتوں کو اسٹریٹ کرائم میں مزاحمت کا نتیجہ قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کررہی ہے لیکن کراچی کے شہری جو کئی دہائیوں سے اس صورت حال کو دیکھ رہے ہیں وہ اس کو محض ڈکیتی مزاحمت پر ہونے والی قتل و غارت گری ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔شہر کے کچھ علاقوں میں ایک مرتبہ پھر بھتہ خوری کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں ۔جو اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ شہر میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔چند روز قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی خصوصی طور پر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے حوالے سے تفصیلی غور و خوص کیا گیا ہے اور کچھ اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں ۔سید مراد علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو برملا کہا کہ وہ ’’اسٹریٹ کرائم کراچی ‘‘ کے خواہش مند ہیں اور اس کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں ۔شہر میں قیام امن کو اگر واقعی یقینی بنانا ہے تو اس کے لیے ٹھوس اقدامات وقت کی ضرورت ہیں ۔ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اچانک ہی کسی ماہ میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اضافہ ہوجائے اور کسی ماہ خاموشی رہے ۔اس سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ٹارگٹ کلرز کا جب دل چاہتا ہے کہ وہ وارداتیں شروع کردیتے ہیں اور جب ان کے سامنے کوئی ٹاسک نہیں ہوتا وہ خاموشی سے پناہ گاہوں میں بیٹھ جاتے ہیں ۔کراچی میں اس وقت ایک بار پھر اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں ۔رینجرز اور پولیس کی پٹرولنگ اور اسنیپ چیکنگ بڑھایا جائے۔شہر میں ہونے والے حالیہ واقعات کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے تمام ڈی آئی جیز کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ کرائم انالیسز بشمول جرائم کی نوعیت، اوقات اور ملزمان کے طریقہ واردات کو سامنے رکھتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ ،اسٹریٹ کرائمز ودیگر جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن میں مذید تیزی لائی جائے اور اس حوالے سے باالخصوص رینڈم اسنیپ چیکنگ اور پکٹنگ سمیت پولیس پیٹرولنگ کو ہر سطح پر مربوط اور مؤثر بنایا جائے ۔انہوں نے ہدایت کی کہ جرائم کے خلاف کارکردگی کے ساتھ ساتھ مقدمات میں نامزد گرفتار اور عدم گرفتار ملزمان کے علاوہ پولیس کو مطلوب مفرور اور اشتہاری ملزمان کے حوالے سے معلومات کی شیئرنگ بھی واٹس ایپ گروپس پر روزانہ کی بنیاد پر کی جائے تاکہ ایسے ملزمان پر پولیس گرفت کو یقینی بناتے ہوئے انہیں متعلقہ عدالتوں سے مثالی سزاؤں کے عمل کو ممکن بنایا جاسکے ۔آئی جی سندھ کی ہدایات اپنی جگہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کراچی پولیس میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ ان وارداتوں میں قابو پاسکے ۔کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ رینجرز کے ذریعہ کراچی میں قیام امن ڈسپرین کی مانند ہے ۔اگر کراچی کو واقعی دوبارہ روشنیوں کا شہر بنانا ہے تو اس کے لیے پولیس میں اصلاحات انتہائی ضروری ہیں ۔جبکہ ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری اوراسٹریٹ کرائم جیسی وارداتوں کے لیے ایک خصوصی فورس کا قیام بھی ضروری ہے جو صرف ان جرائم کے خلاف اقدامات کرے ۔شہری حلقوں کے مطابق اگر کراچی میں قیام امن کو یقینی بنانا ہے تو اس کے لیے طویل المدتی اقدامات ضرور ی ہیں ۔سب سے پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کا خاتمہ کیا جائے جو اس شہر میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ ہیں ۔شہر کے بنیادی مسائل کا حل بھی قیام امن کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کے لیے بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیارات دینے ہوں گے ۔اگر عوام کے مسائل یونین کونسل کی سطح پر حل ہونا شروع ہوجائیں اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملنا شروع ہوجائیں تو جرائم کی وارداتوں میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے ۔شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے ایک مربوط پالیسی بنانے کی ضرورت ہے اور غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی کے لیے ٹھوس شواہد اور انٹیلی جنس بنیاد پر ٹارگیٹڈ آپریشن کیے جائیں ۔شہر میں کچی آبادیوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ۔ان آبادیوں میں کوئی بھی جرائم پیشہ شخص باآسانی روپوش ہوسکتا ہے ۔ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے آپریشنز کے بعد فرار ہوکر کراچی آنے والے دہشت گرد ان ہی کچی آبادیوں میں پناہ لیتے ہیں ۔ان کچی آبادیوں کو ریگولرائز کیا جائے اور مزید کچی آبادیوں کو قائم نہ ہونے دیا جائے ۔شہر میں سی سی ٹی وی کیمروں کو جال بچھایا جائے اور ماضی کی طرح یہ کیمرے ناقص کوالٹی کے نہ ہوں بلکہ جدید ایچ ڈی کیمرے نصب کیے جائیں جن سے ملزمان کی شناخت میں آسانی ہوگی اور ملزمان کی واردات کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور ہوں گے ۔یہ و ہ اقدامات ہیں جن پر اگر پوری سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو شہر قائد کو اس کا ماضی لوٹانے میں چنداں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -