شاہ لطیف پر جو بھی کام ہوا ہے وہ کم ہے،اکبر لغاری

شاہ لطیف پر جو بھی کام ہوا ہے وہ کم ہے،اکبر لغاری

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت و سیاحت اور نوادرات کے سیکریٹری اور سندھ کے نامور ادیب اور نقاد اکبر لغاری نے روٹری کلب سندھ ویلی کے منعقدکردہ پروگرام میں گیسٹ اسپیکر کے طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی پر ایک سے زائد ریسرچ کتب آچکے ہیں ، جبکہ بھٹائی پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ لطیف کو بغور مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شاہ لطیف پر جو بھی کام ہوا ہے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب محکمہ ثقافت اور سیاحت کی جانب سے رنی کوٹ قلعہ اور کینجھرجھیل میں ترقیاتی کام شروع کررہے ہیں جبکہ بھٹ شاہ اور سہون میں محکمہ ثقافت کے موجود ریسٹ ہاؤسز کی جدید طرز پر رینوئشن کی جارہی ہے جبکہ رنی کوٹ پر ریسٹ ہاؤس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔ اکبر لغاری نے کہا کہ سندھ کے تمام تاریخی مقام کو اجاگر کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں، اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں گورکھ ہل اسٹیشن پر تجرباتی بنیادوں پر ایک سیاحتی پروگرام کا انعقاد کیا جارہا ہے، اس کی کامیابی کے بعد موجود تمام قدیم مقامات پر سیاحتی مراکز قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گورکھ ہل اسٹیشن پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، وہاں چیئر لفٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بورڈ نے بھی منظوری دے دی ہے۔ ، انہون نے کہا کہ گورکھ ہل اسٹیشن پر آنے اور جانے کے لیے کراچی سے چھوٹے جہاز کی سروس شروع کرنے پر غور کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ محکمہ ثقافت و سیاحت کی جانب سے ماہانہ بنیاد پر 712ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو وضائف دیئے جارہے ہیں جبکہ ان کی بیماری کی مد میں 4کروڑ رپے ہر سال فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں داخل بیمارفنکار اور ادیب محکمہ کی جانب سے رقم ملنے کے بعد دوسرے دن اسپتال سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ ثقافت کی جانب سے فنکاروں اور ادیبوں کے لیے ایک ارب رپے بھی مختص کرنا کم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ادیبوں ، شاعروں اور فنکاروں کے لیے ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کی جارہی ہے جبکہ فنکاروں ، ادیبوں اور شاعروں کا تعین ہونا چاہیے۔اب ہر کوئی اپنے آپ کو دانشور اور فنکار تصور کرنے لگا ہے۔ محکمہ ثقافت و سیاحت کی جانب سے سندھ میں اسٹیج تھیٹر کلچر کو فروغ دینے کے لیے کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری کتاب کو سندھ یونیورسٹی کے سیلیس میں شامل کیا گیاہے جبکہ کئی کتابیں مختلف اداروں نے چھپوائی ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے بہت بڑی تعداد میں تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں، میری تنقید اصلاح پر مشتمل ہوتی ہے، جبکہ تنقید میں اخلاقیات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا بھی ایک فن ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں فلسفے کی کھڑکی سے ہوتا ہوا نفسیات کی طرف چل پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں خواتین کی عزت کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے نام پر کام کرنے والی این جی اوزخود خواتین کا ہی استحصال کررہی ہیں، عورت کے تمام کرداروں کو مرتبہ اور عزت ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسان خودی سے ہی اعلیٰ مقام حاصل کرلیتا ہے۔ اس موقع پر ایم ڈی سائیٹ عبدالعلیم لاشاری نے کہا کہ اکبر لغاری ایک جفاکش انسان ہے، ان کے ساتھ میں نے زندگی کے یادگار دن گذارے ہیں، ان سے میں نے بہت کچھ سیکھاہے۔ ماضی کے ان لمحات کو جب بھی ملتے ہیں اس سے مزا لیتے ہیں۔ روٹری کلب سندھ ویلی کے صدر حمید بھٹو نے کہا کہ اکبر لغاری جہاں بھی رہا ہے وہاں ایک مثبت تاریخ رقم کی ہے۔انہوں نے سندھ کی ثقافت اور ادب کو اجاگر کیا ہے اور نئے ٹیلینٹ کو بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے، وہ ایک بہترین نقاد بھی ہیں جس میں اصلاح ہوتی ہے۔ اکبر لغاری نے محکمہ ثقافت میں آتے ہیں سندھ کے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو اپناعیت کا احساس دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روٹری سندھ ویلی کی جانب سے سندھ کی نامور شخصیات کے اعزاز میں پروگرام منعقد کرکے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے اور ان کے کارناموں کو تاریخ میں محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکبر لغاری ایک انسان دوست بیوروکریٹ ہیں۔ اس موقع پر نیب سندھ کے ڈائریکٹر ایاز میمن نے کہا کہ اکبر لغاری کے ساتھ طالب علمی کے دور سے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکبر لغاری کی زندگی گذارنے کا اپناایک انداز ہے۔ اکبر لغاری سے گذارے ہوئے وقت کی یادیں عمر بھر میں یاد رہیں گی۔ اس موقع پر ڈاکٹر مشتاق ملکانی نے کہا کہ سندھ کے محکمہ ثقافت کو سندھ کے تاریخی مقامات کو اجاگر نے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -