کنڈل ڈیم تعمیر ،عوام کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کی جائیگی :اسد قیصر

کنڈل ڈیم تعمیر ،عوام کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کی جائیگی :اسد قیصر

  

پشاور( سٹاف رپورٹر )سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ضلع صوابی میں سمال ڈیمزکی تعمیر پر پیش رفت کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح اجلاس صوبائی اسمبلی کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمز اقبال خٹک ،اسسٹنٹ ایڈیشنل کمشنر ٹوپی وسیم اختراور محکمہ آبپاشی اور سمال ڈیمز کے متعلقہ حکام کے علاوہ ٹوپی کے علاقہ عمائدین اور ڈسٹرکٹ ممبران نے شرکت کی ۔ اس موقع پر سمال ڈیمز کے حکام نے اجلاس کے شرکاء کو ضلع صوابی میں کنڈل ڈیم ،شیر ی ڈیم اتلہ اوربادہ ڈیم کی تعمیر پر اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کنڈل ڈیم کی تعمیرپر 60فیصد کام ہوچکاہے جبکہ آئندہ چھ ماہ میں اسے مکمل کر دیا جائے گاجبکہ بادہ ڈیم کا ٹینڈرمشتہر کر دیا گیا ہے اور بہت جلد اس کا باقاعدہ افتتاح کیا جائے گا ۔اجلاس کو شیری ڈیم اتلہ سے متعلق حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ ڈیم کی فزیبیلٹی سٹڈی پر کام جاری ہے اور مئی کے مہینے تک اس کے ڈیزائن کو حتمی شکل دے کراسے پر اونشل ڈیپارٹمنٹل ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ شیری ڈیم اتلہ سے 3.4مربع کلومیٹر پر محیط علاقے میں تقریباایک لاکھ کی آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا ۔ڈیم کی تعمیر پر 1837ملین روپے کی لاگت آئے گی اور اسے دوسال کے عرصے میں مکمل کیا جائیگا ۔اس موقع پر علاقہ عمائدین اور ضلعی نمائندوں نے کنڈل ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے اہل علاقہ کے مسائل اور شکایات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیم کی تعمیر سے متاثرہونے والے لوگوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے اب تک ضلعی انتظامیہ نے کوئی ااقدامات نہیں اٹھائے ،جبکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے متبادل بندوبست بھی نہیں کیا گیا جس سے علاقے کے عوام دور درازسے پانی لانے پر مجبور ہیں ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کنڈل ڈیم کے اپروج روڈ کی تعمیر بھی نامکمل ہے جس سے علاقے کے عوام کو کافی دشواری کا سامنا ہے ۔علاقہ عمائدین نے سپیکر اسد قیصر سے مطالبہ کیا کہ کنڈل ڈیم میں علاقے کے عوام کو ترجیحی بنیاد پر ملازمتیں فراہم کی جائیں ۔سپیکر اسد قیصر نے متاثرین کنڈل ڈیم کو نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈز جاری نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہارکیا اور ڈپٹی کمشنر صوابی سے رابطہ کرکے متاثرین کو دس دن کے اندر فنڈز فراہم کرنے اور اسمبلی سیکرٹریٹ کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے سما ل ڈیم حکام کوعلاقے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی متبادل ذرائع سے فراہمی اور ڈیم کے اپروچ روڈ کی فوری تعمیر کی ہدایت بھی کی ۔سپیکرنے علاقہ عمائدین کو یقین دلایا کہ کنڈل ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے پر یہاں کے عوام کو ڈیم میں ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کی جائیں گی ۔اسد قیصرنے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی اور یہاں کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضلع صوابی میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف علاقے کے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم ہو گا بلکہ زراعت کے شعبے کی ترقی کے ساتھ ساتھ علاقہ معاشی طور پر بھی خوشحال ہو جائے گا ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -