نیشنل ٹسٹنگ سروس کے ذریعے سال 2016کی پولیس کانٹیبلان کا بھرتی کا عمل مکمل

نیشنل ٹسٹنگ سروس کے ذریعے سال 2016کی پولیس کانٹیبلان کا بھرتی کا عمل مکمل

  

پشاور(کرائمز رپورٹر)خیبر پختونخوا پولیس میں نیشنل ٹسٹنگ سروس کے زریعے بھرتی کا تیسرا مرحلہ خوش اسلوبی سے مکمل ہوگیا۔یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ بھرتی کے موجودہ سسٹم سے قبل پولیس کانسٹیبلان کی بھرتی کا طریقہ کار اقربا پروری، کرپشن ، بداعنوانی اور سفارش کے بے تحاشا الزامات کی وجہ سے بے حد متاثر ہوکر خراب ہو چکا تھا۔ آئی جی پی ناصر خان دُرانی نے بھرتی کا موجودہ طریقہ کار سال 2014میں متعارف کرایا جسے اُمیدواروں اور عام لوگوں کی جانب سے بے حد پذیرائی ملی۔اس سلسلے میں اے آئی جی اسٹبلشمینٹ نجیب الرحمان بگوی نے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختون خوا ناصر خان دُرانی کو بھرتی کے دوران اختیار کردہ طریقہ کا راور عمل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ۔اے آئی جی اسٹبلشمنٹ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا پولیس میں کانسٹیبلان کی 1621آسامیوں کے لئے مجموعی طور پر 58130اُمیدواروں نے درخواستیں جمع کرائیں۔ جن میں سے 20570اُمدواران جسمانی پیمائش کے معیار پر پورا اُترتے ہوئے بھرتی کے لئے مقررہ دوڑ میں کامیاب ہوئے ۔ جسمانی ٹیسٹ کوالیفائی کرنے والے اُمیدوارن نیشنل ٹسٹنگ سروس کے تحریری امتحان میں بیٹھ گئے اور صرف 11127اُمیدواروں نے نیشنل ٹسٹنگ سروس کی جانب سے لیا گیا ٹیسٹ پاس کیا۔ تاہم سیٹوں کی کمی کی وجہ سے صوبے کے24اضلاع میں صرف 1621اُمیدواروں کو بھرتی کیا گیا۔ اسی طرح جمع شدہ درخواستوں میں بھرتی شدہ اُمیدواروں کا تناسب 2.7فیصد رہا۔ صوبدیدی اختیارات کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے انٹرویوکی جگہ اُمیدواروں کی نفسیاتی پروفائلنگ متعارف کرائی گئی اور یہ ٹیسٹ پیشہ ورانہ نفسیاتی ماہرین جو اس قسم کے ٹسٹ کا آرمڈ فورسز میں تجربہ رکھتے ہیں کے زریعے لیاگیا۔یہ ایک قسم کا اہلیت کا ٹیسٹ ہے جو کسی اُمیدوار کا شدت پسندی اور وعسکریت پسندی کی طرف رجحان رکھنے کی نشاندہی کرتا ہے اور 254اُمیدواران اس ٹسٹ کی زد میں آکر پاس نہ ہو سکے۔ اُمیداوار کو اپنی جگہ دوسرے آدمی کو بٹھانے (impersonationg)کے شکایت کے آزالے کے لئے ٹسٹنگ ایجنسی کو یہ زمہ داری بھی سونپ دی گئی کہ وہ ٹسٹ کے تمام مراحل پر اُمیدواروں کا فنگر پرنٹس لیکر آخر میں اُمیدوار کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے فنگر پرنٹس سے موازنہ کریں۔ اس عمل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 15اُمیدواران نے ا پنی جگہ دوسرے آدمیوں کو تحریری ٹیسٹ میں بٹھایا۔ اُ نکے خلاف کریمینل مقدمات شروع کرنے کے ساتھ اُنہیں آئیندہ کے لئے محکمہ پولیس میں بھرتی کے لئے بھی نااہل قرار دیا گیا۔ کامیاب اُ میدواروں کی تعلیمی اہلیت کے تجزیے سے یہ بات نمایاں ہوگئی کہ 30فیصد کالج یا یونیورسٹی کی ڈگریاں رکھتے ہیں۔ 50فیصد ایف اے /ایف ایس سی اور20فیصد میٹرک پاس ہیں۔ فائنل میرٹ لسٹ کے تجزیے سے یہ عجیب حقیقیت عیاں ہوئی ہے کہ منتخب شدہ پہلے ٹاپ 20میں کسی اُمیدوار کا تعلق پشاور سے نہیں ہے۔ ٹاپ 20پوزیشنوں میں سے ضلع چترال کے 4، ضلع نوشہرہ کے 3،ضلع لکی مروت کے 3اور ضلع بنوں ،مردان اور کرک کے دو دو اُمید واران شامل ہیں۔ جو صوبے کے دورافتادہ علاقوں کے اُمیدواروں کی سخت محنت اور استعدادی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -