نیپرا ،اوگرا،پی ٹی اے ،ایف اے بی اور پیپپرا کی خود مختاری ختم کرنے کا اقدام چیلنج

نیپرا ،اوگرا،پی ٹی اے ،ایف اے بی اور پیپپرا کی خود مختاری ختم کرنے کا اقدام ...

  

پشاور(نیوزرپورٹر) وفاقی حکومت کی جانب سے نیپرا ٗ اوگرا ٗ پی ٹی اے ٗ ایف اے بی اورپیپراکی خودمختاری ختم کرکے مختلف وزارتوں کے حوالے کرنے کے اقدام کوپشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے رٹ پٹیشن پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی ضلع پشاورکے آرگنائزرحاجی لعل محمد کی جانب سے نورعالم خان ایڈوکیٹ نے دائرکی ہے جس میں پرنسپل سیکرٹری ٹووزیراعظم ٗ سیکرٹری پٹرولیم ٗ سیکرٹری پانی و جبلی ٗ سیکرٹری آئی ٹی ٗسیکرٹری فنانس ٗ نیپرا ٗ اوگرا ٗ پی ٹی اے ٗ ایف اے بی ٗپیپرا اورآل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیاہے کہ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعظم نے 19دسمبر2016ء کو وزیراعظم کی ہدایت پرایک نوٹی فکیشن جاری کیاجس کے تحت نیپرا ٗ اوگرا ٗ پی ٹی اے ٗ ایف اے بی اورپیپرا کی خودمختاری ختم کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کے حوالے کردیاگیااوران کاکنٹرول متعلقہ وزارتوں کے حوالے کردیاگیاجبکہ ان اداروں کاقیام متعلقہ شعبوں میں مقابلے کارحجان پیدا کرکے سرمایہ کاری کو فروغ دیاجاسکے اوربنیادی طورپرعوام اوربالخصوص صارفین کا خیال رکھاجاسکے اوران میں سیاسی عمل دخل کوروکنے کے لئے خودمختاری دی گئی تھی جبکہ وفاقی قوانین کے تحت تمام خودمختارادارے مشترکہ مفادات کونسل کے تحت کام کرتے ہیں اوروفاق کی جانب سے ان اداروں کی خودمختاری ختم کرنے کااقدام غیرآئینی اورغیرقانونی ہے اوراس اقدام سے وکلاء ٗ صحافیوں اورتجارتی طبقے نے بھی تشویش کااظہار کیاہے کیونکہ وزارت کے تحت اگریہ ادارے کام کریں گے تو اس سے ان کی غیرجانبدارانہ ا ورخودمختاری متاثرہوگی اورسی این جی کے شعبے میں قیمتوں کاتعین خودمختاراداروں سے لے کروفاق کے تحت کردیاگیاہے جس سے براہ راست عوام متاثرہوں گے اوراس اقدام سے پنجاب اور سندھ میں سی این جی کی قیمتوں میں چارروپے فی کلواضافہ کردیاگیاہے جبکہ عوام کی بڑی تعداد سی این جی استعمال کرتی ہے جبکہ دوسری جانب ان اداروں کووفاق کے حوالے کرنے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے کیونکہ سپریم کورٹ واضح کرچکی ہے کہ سی این جی کی قیمتوں کاتعین اوگرا کرے گی جبکہ اس وفاقی حکومت کے اس اقدام سے سی این جی کی قیمتوں کے تعین کااختیار سی این جی سٹیشن مالکان کے حوالے کردیاگیاہے رٹ میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ 19دسمبر کے اعلامیہ کوغیرقانونی اورکالعدم قرار دیاجائے اور اوگراکے سی این جی سٹیشن مالکان سے قیمتوں کاتعین کا اختیار واپس لیاجائے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -