کچھ غلط ہوابھی تو اسکا جواب میاں شریف کے بچوں سے کیسے مانگیں ، مفروضے پر وزیراعظم کو نااہل قرار دینا خطرناک عدالتی نظیر ہو گی : نعیم بخاری کے دلائل کے بعد پاناما کیس کی سماعت کل تک ملتوی

کچھ غلط ہوابھی تو اسکا جواب میاں شریف کے بچوں سے کیسے مانگیں ، مفروضے پر ...
کچھ غلط ہوابھی تو اسکا جواب میاں شریف کے بچوں سے کیسے مانگیں ، مفروضے پر وزیراعظم کو نااہل قرار دینا خطرناک عدالتی نظیر ہو گی : نعیم بخاری کے دلائل کے بعد پاناما کیس کی سماعت کل تک ملتوی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کے مفصل دلائل کے بعد پاناما کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی ہو گئی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت کل ( بدھ ) تک ملتوی کر دی ۔نعیم بخاری نے آج عدالت کو یقین دہائی کرائی کہ وہ کل 11بجے تک اپنے دلائل مکمل کر لیں گے جس کے بعد ممکنہ طور پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے دلائل سنے جائیں گے ۔

جماعت اسلامی نے پاناما کیس میں وزیراعظم کو سپریم کورٹ طلب کرنے کیلئے درخواست دائر کر دی

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں درخواست گزار تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین ، نعیم الحق ، فواد چودھری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

آج سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ میرا خیال ہے مجھے آرٹیکل 62اور 63کے متعلق آبزرویشن نہیں دینی چاہئیے تھی ۔ مجھے اپنے الفاظ پر ندامت ہے اور میں اپنے کل کے الفاظ وااپس لیتا ہوں ۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کی منی لانڈرنگ کے بارے میں رپورٹ تیار ہوئی تھی جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ اس رپورٹ کو کس نے تحریر کیا تھا تو نعیم بخاری نے موقف اپنایا کی رپورٹ ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر رحمان ملک نے لکھی تھی ۔ نعیم بخاری نے کہا کہ رپورٹ 1998ءمیں رفیق تارڈ، چیف جسٹس اور نیب کو بھی بھجوائی گئی تھی ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا یہ وہی رحمان ملک ہیں جو بعد میں وزیر بنے ؟

جناب میں تو ”سٹپنی “وکیل ہوں ، حامد خان کے بعد بوجھ میرے کندھوں پر آگیا : پاناما کیس کے دوران تحریک انصا ف کے وکیل کا عدالت میں جوا

جسٹس گلزار احمد نے نعیم بخاری کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے سوال پوچھیں تو اسی کا جواب دیں ۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ پاناما کیس لندن فلیٹس تک محدود ہے اور اگر آپ دوسری جانب دلائل دیں گے تو معاملہ کہیں اور نکل جائے گا ۔

انہوں نے نعیم بخاری سے پوچھا کہ اسحاق ڈار کے بیان کی کیا اہمیت ہے کیا وہ شریک ملزم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مقدمے کو 184/3کے تحت دیکھنا ہے ۔ ہم ٹرائل کورٹ نہیں نیب کے پاس جا کر درخواست دیں ۔ چینی کی قیمت سے متعلق کیس کا فیصلہ کیا پھر اس کا کیا ہوا ؟سپریم کورٹ کا تقدس ہر حال میں برقرار رکھنا ہو گا ۔”ہمیں اپنے پیرا میٹرز سے باہر نہ نکالیں “۔انہوں نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نیب کے پاس جائیں اور درخواست دیں ، ہم ٹرائل کورٹ نہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ نیب کو تحقیقات کا کہہ سکتے ہیں لیکن ریفرنس دائر کرنے کا نہیں کہیں گے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نعیم بخاری سے استفسا ر کیا کہ رحمان ملک نے رپورٹ کس حیثیت میں دی تھی تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ رحمان ملک نے بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے کے طور پر لکھی تھی ۔ لندن فلیٹس روز اول سے شریف خاندان کے ہیں ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہمیں مطمئن کریں کہ نیب کو خدیبیہ کیس میں درخواست دائر کر نی چاہئے تھی تو نعیم بخاری نے ان سے پوچھا کہ آپ میری بات پر مسکرا کیوں رہے ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ کیا مسکرانے کیلئے آپ کی اجازت کی ضرورت ہے ؟رپورٹ ایف آئی اے خود مسترد کر چکی ہے اس پر فیصلہ کیسے دیں ؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ راستہ صرف یہی ہے کہ چیئرمین نیب فیصلے کیخلاف اپیل کریں ۔ اپیل کو جانچنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ دوبارہ تفتیش کا حکم دے سکتے ہیں یا نہیں ۔ ”سپریم کورٹ کریمنل کورٹ نہیں “۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محض پولیس ڈائری کی بنیاد پر حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ تفتیشی ادارے جواقدامات کریں انہیں قانونی طور پر پرکھنا ہوتا ہے ۔ ہائیکورٹ مقدمہ ختم کر دے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوتی ہے ؟ سپریم کورٹ نیب عدالت کا کام نہیں کر سکتی ۔ پولیس ڈائری میں کبھی ٹھوس شواہد نہیں ہو سکتے ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بخاری صاحب قانون کا کچھ تو لحاظ رکھیں ، پولیس ڈائری پر کیسے فیصلے دیں ؟چوتھے یا پانچویں ہاتھ کی معلومات پر فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں تو نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ رحمان ملک کی رپورٹ سے منی ٹریل کا سراغ ملتا ہے جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ قانون کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔

آرٹیکل 62اور 63پر ابزرویشن نہیں دینی چاہئیے تھی ، الفاظ واپس لیتا ہوں : جسٹس آصف سعید کھوسہ

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اپیل جانچ کر فیصلہ کرینگے کہ دوبارہ تفتیش کا حکم دے سکتے ہیں یا نہیں ؟راستہ صرف یہی ہے کہ چیئرمین نیب فیصلے کے خلاف اپیل کریں ۔تحریک انصاف کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ماضی میں عدالت عظمیٰ اخباری تراشوں پر بھی فیصلے کرتی رہی ہے ۔ اسحاق ڈار نے اعترافی بیان میں منی لانڈرنگ میں اپنے کردار کا اعتراف کیا جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اعترافی بیان کا جائزہ احتساب عدالت لے سکتی ہے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ کسی پولیس افسر کی رائے ثبوت نہیں ہو سکتی ۔بینچ کے رکن جسٹس عظمت سعید شیخ نے نعیم بخاری کے دلائل پر کہا کہ جن دستاویزات کی روشنی میں رپورٹ تیار ہوئی وہ ہمارے سامنے نہیں ۔ رحمان ملک کا نام شائد پاناما کیس میں ہے ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ رحمان ملک کی رپورٹ محض الزامات ہیں اس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ پولیس رپورٹ رائے ہوتی ہے جسے ٹرائل کورٹ میں شواہد کے ساتھ ثابت کرنا ہوتا ہے ۔ پولیس افسر کی رائے کے بغیر ثبوت کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی ۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں رائے کی بنیاد پر بغیر ثبوت فیصلہ کر دیں ۔”بخاری صاحب کچھ تو قانون کا لحاظ کریں “۔ کیا فیصلہ کرنے کا اختیار رحمان ملک کو دے دیں ؟”بخاری صاحب ہم نے پہلے دن کہا تھا عدالت کو مطمئن کریں قوم سے خطاب نہ کریں “۔ انہوں نے نعیم بخاری سے پوچھا کہ اپنے دوست رحمان ملک کو جرح کیلئے کب لا رہے ہیں ؟ جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میں اپنے جواب الجواب میں رحمان ملک کو جرح کیلئے بلاﺅں گا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ رحمان ملک نے رپورٹ کب تیار کی جس پر انہوں نے جواب دیا کہ رپورٹ ریٹائرمنٹ سے پہلے یا بعد میں تیار ہوئی معلوم نہیں ۔نعیم بخاری نے آج منی لانڈرنگ کے حوالے سے اعترافی بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ بخاری صاحب آپکی ریسرچ بہت اچھی ہے لیکن اس کا کیا فائدہ ؟ آپ کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیش کرے ، ٹرائل کورٹ بن کر فیصلہ دے ۔”ہم نے آئین کا حلف لیا ہے ہم ٹرئل کوٹ نہیں“ ۔ ”اس وقت عدالت کے سامنے معاملہ آئینی طور پر نااہل قراد دینے کا ہے “۔جس پر نعیم بخاری نے موقف اپنایا کہ جناب میں تو ”سٹپنی “وکیل ہوں اصل وکیل تو حامد خان تھے مگر انکے علیحدہ ہونے سے بوجھ میرے کندھوں پر آگیا ہے ۔انہوں نے لند ن فلیٹس کے بارے میں دلائل دینا شروع کیے تو جسٹس عظمت سعید شیخ نے نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اب وکٹ پر آئے ہیں ۔بچ سے باہر نکل کر نہ کھیلا کریں ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وزیر داخلہ بننے کے بعد رحمان ملک کو یہ معاملہ اٹھانا چاہئے تھا ۔ سیاسی معاملات میں نہیں جانا چاہئیے ۔ سوال یہ ہے کہ رحمان ملک نے بطور وزیر یہ معاملہ اٹھایا یا نہیں ؟جس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ بطور وزیر داخلہ رحمان ملک نے یہ معاملہ نہیں اٹھایا تو بینچ کے سربراہ نے پوچھا کہ کیا منی لانڈرنگ پر ہونے والی تحقیقات انجام کو پہنچیں ؟بظاہر رپورٹ میں منی ٹریل کا پتہ لگانے کی کوشش کی گئی تو تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قطری خط میں منی ٹریل کا کوئی ذکر نہیں تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں ہم قانون سے بالاتر ہو کر تحقیقات کریں ۔منی لانڈرنگ کے حوالے سے ریسرچ تو بہت ہوئی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ ہمار اکام کرپشن ثابت کرنا نہیں ہے ۔

سابق القاعدہ کمانڈر قاری سیف اللہ اختر مارا گیا : افغان میڈیا

جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں ہم اپنے حلف اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی کریں ۔نعیم بخاری نے عدالت سے اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ ریکارڈ کے مطابق حسن نواز نے اپنی ہی کمپنی کو قر ض دیا جبکہ مریم نواز والد کی تمام جائیداد کی وارث ہیں ۔ نوازشریف کو گوشواروں میں مریم نواز کو اثاثے ظاہر کرنا چاہتے تھے ۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں کہا کہ جدہ فیکٹری فروخت کر کے بچوں کو سرمایہ دیا ۔حسن نواز نے 2001ءمیں کاروبار شروع کیا اور 12اپریل 2001ءمیں فلیگ شپ کمپنی کے ڈائریکٹر بنے ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ شریف خاندان کی اگر بات مانیں تو کاروبار کی رقم 2005ءمیں آئی ۔ حسین نواز کا کہنا ہے کہ حسین کو کاروبار کی رقم دی ۔فلیگ شپ کمپنی برطانوی ہے اس کا سراغ لگانا آسان ہے ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 1999ءمیں حسن نواز ے کہا کہ وہ طالب علم ہیں ۔بخاری صاحب آپ کہناچاہتے ہیں کہ وزیراعظم کا موقف درست نہیں ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا مطلب ہے کہ حسن نواز کے پاس جون 2005ءسے پہلے سرمایہ تھا ۔اس کے بعد سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ ہوا جس کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ حسن نواز کی 12کمپنیوں میں 2005ءتک 20لاکھ پاﺅنڈ سے زیادہ رقم موجود تھی اور یہ شواہد وزیراعظم کے بیان کی تردید کر رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جدہ ملزم کی فروخت سے بچوں نے کاروبار کا آغاز کیا ۔ تمام سرمایہ کاری جون 2005ءسے پہلے کی ہے اور حسن نواز نے کہا کہ 1999ءمیں وہ طالب علم اور لندن میں کرائے کے فلیٹ میں مقیم تھے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے سرمایہ کاری کے حوالے سے کیا الفاظ ااستعمال کیے تھے تو نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا الحمد اللہ ہمارے قدم کبھی نہیں ڈگمگائے ۔وزیر اعظم نے بتایا سعودی بینکوں سے قرضہ لیا اور جدہ میں فیکٹری لگائی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جدہ میں فیکٹری بیچی اور بچوں نے کاروبار شروع کیے ۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ حسن نواز 1994ءسے لندن میں مقیم ہے ۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ناجائز کمائی والے اپنے نام پر اثاثے نہیں رکھتے ۔ دوسری تقریر میں وزیر اعظم نے پاناما لیکس سے متعلق الزامات کا جواب دیا ۔تقریر میں مزید کہا گیا کہ جدہ فیکٹری کیلئے دبئی فیکٹری کا سرمایہ استعمال ہو ااور وزیر اعظم نے کہا کہ جدہ فیکٹری کی فروخت کا تمام ریکارڈ موجود ہے ۔ وزیر اعظم نے پانی تقاریر میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر تک نہیں کیا اور اگر ہم وزیر اعظم پر یقین کریں تو حسین نواز کا موقت غلط ثابت ہوتا ہے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حسین نواز نے صرف قطری سرمایہ کاری کو ہی ذریعہ آمدن بتایا ۔ دبئی ، جدہ اور قطری سرمایہ خاندانی لگتا ہے ۔ خاندانی سرمائے سے وزیر اعظم کو کیسے لنک کریں گے بخاری صاحب ؟ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں جو تصاویر دیں ان میں وہ خود بھی موجود ہیں ۔ کیا نواز شریف اعلیٰ ترین سیاسی عہدوں پر رہنے والے اپنے خاندان کے واحد فرد ہیں ؟ آپ کو بتانا ہو گا وزیر اعظم کا کاروبار میں کتنا حصہ تھا جس پر نعیم بخاری نے کہا وہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ یہ ہیں وہ ذرائع جن سے لندن کے فلیٹس خریدے جبکہ دوسری تقریر میں 12ملین درہم کا کوئی ذکر نہیں تھا ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے پوچھا کہ کیا دنیا میں کسی عدالت نے پاناما پیپرز پر کسی کے خلاف کوئی فیصلہ دیا ؟ ایسی کوئی عدالتی مثال موجود ہے تو بتائیں ۔ جس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ دے کر آپ ابتداءکریں گے ۔ ٹرسٹ ڈیڈ کا مقصد نواز شریف اور مریم نواز کو جائیداد سے الگ کرنا ہے ۔ قطری خط کو باہر نکالیں تو ٹرسٹ ڈیڈ کی کوئی اہمیت نہیں اور ٹرسٹ ڈیڈ کو ہمیشہ خفیہ رکھا گیا ۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ شریف خاندان کا سارا کاروبار میاں شریف کے ہاتھ میں تھا ۔ میاں شریف کے کاروبار کی منی ٹریل انکے بچوں سے کیسے مانگ سکتے ہیں ؟ کچھ غلط ہوابھی تو اسکا جواب میاں شریف کے بچوں سے کیسے مانگیں ؟

نعیم بخاری نے جواب دیا کہ طارق شفیع کی جگہ شہبازشریف نے فروخت کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔نوازشریف ، حسین نواز اور مریم نواز حدیبیہ ملز کے ڈائریکٹر ز میں شامل تھے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ کیا شفاف ٹرائل کے بغیر عدالت فیصلہ دے سکتی ہے ؟ کیا شفاف ٹرائل کے بغیر عدالت فیصلہ دے سکتی ہے ؟ 

نعیم بخاری نے کہا کہ پوری دنیا میں پاناما لیکس دستاویزات کو ثبوت مانا گیا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ قطری خط بھی بظاہر سنی سنائی بات ہے ۔دوسرے فریق کو اس حوالے سے سن کر کسی نتیجے پر پہنچیں گے ۔ قطری خط کی قانونی حیثیت پر سوال کر سکتے ہیں ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کاہ کہ مفروضے پر وزیراعظم کو نااہل قراردینا خطرناک عدالتی نظیر ہو گی اور ہم ایسی کوئی مثال قائم نہیں کرنا چاہتے ۔کیا قانونی معیار پر پورا نہ اترنے والی دستاویزات پر فیصلہ کرنا درست ہو گا ؟ شواہد ریکارڈ کیے بغیر تنازع حل کیسے ہو سکتا ہے ؟ دستاویزات دیکھنے پر علم ہو گا وزیرا عظم نے اثاثے چھپائے یا نہیں ۔وزیر اعظم کا پاناما سے تعلق اور انکی تقریر کا جائزہ لینا مختلف باتیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر اور پاناما کے درمیان تعلق کیسے ثابت کرینگے ؟ وزیرا عظم کی تقریر پر فوجداری مقدمہ کیسے بن سکتا ہے؟

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ آپ کا کہنا بھی ہے کہ نوازشریف ان بیانات کی وجہ سے دیانتدار نہیں ، آپ کا یہ کہنا ہے کہ وزیراعظم کو دیانتدار ہونا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا یہ کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں سچ نہیں بولا جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ پاناما نکال کر بھی شریف خاندان کے دستاویزات کاجائزہ لیں تو بھی کیس بنتا ہے ۔مریم نواز کے زیر کفالت ہونے اور نوازشریف کے اثاثے چھپانے کا معاملہ بھی ہے ۔

عدالت نے ان ریمارکس پر کیس کی مزید سماعت کل بدھ تک ملتوی کردی ہے ۔ نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ وہ کل 11بجے تک اپنے دلائل مکمل کر لیں گے جس کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید شریف خاندان کے لندن فلیٹس اور وزیراعظم کے مبینہ متضاد بیانات کو ثابت کرنے کے لیے اپنے دلائل دیں گے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -