غلیظ دولت کی دھلائی

غلیظ دولت کی دھلائی
غلیظ دولت کی دھلائی

  

تحریر: ایس ایم ظفر

قانون کی آنکھوں میں دھول ڈال کر حاصل کی ہوئی ناجائز دولت کو مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام بھی غلیظ دولت کا نام دیتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں اسے حرام کمائی کہا جاتا ہے۔ کاروباری حلقے اسے کالا دھن بھی کہتے ہیں۔

چونکہ غلیظ دولت غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے اس لیے اس کا مالک اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ کسی طرح اس دولت کو جائز قرار دلا سکے اور پھر نئے کاروبار میں لگا سکے۔ اگرچہ ایسا کرنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے کیونکہ ملک کا اقتصادی نظام سفید دھن اور کالے دھن میں امتیاز رکھتا ہے۔ لیکن لوگوں نے اس سے نپٹنے کے لیے نئے طریقے ایجاد کر لئے ہیں۔ غلیظ دولت کو قابل استعمال کرنے کو دولت کی دھلائی کا نام دیا گیا ۔

آئیے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ شروع کس طرح ہوا۔ امریکہ کے1920اور1930ء کے ماحول میں چند ایک مافیا کے گروہوں نے مختلف غیر قانونی کاروبار میں بیحد غلیظ دولت جمع کر رکھی تھی اور وہ اس مختلف جائیداد اور کاربواری حصص خرید رہے تھے۔ مافیا کے سب سے بڑے سردار الکپون(Al-Capon)کا نام تو قارئین نے سن رکھا ہوگا وہ امریکہ کے شہر نیویارک اور شکاگو پر چھایا ہوا تھا اور غلیظ دولت کے استعمال سے بے تحاشا جائیداد پیدا کر رہا تھا اور امریکہ کی سٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہا تھا۔ جہاں تک اس کی غیر قانونی ذرائع (Casino)وغیرہ سے آمدن کا تعلق تھا حکومت اور پولیس اس کے سامنے لاچار اور بے بس تھے۔ کرائمز سے متعلقہ تمام ادارے اپنی اپنی کوششیں کر چکے لیکن الکپون ہر بار ان کے ہاتھوں سے صاف نکل جاتا۔ اگر کبھی عدالتوں تک معاملہ پہنچا بھی تو یا گواہ ہی نہ ملتے اور اگر گواہ مل جاتے تو الکپون کے کارندے جج سے مل لیتے اور الکپون انصاف زندہ باد کے نعرے لگاتا صاف بری ہو جاتا۔

اچانک ان لینڈ ریونیو یعنی انکم ٹیکس محکمہ کے ایک نوجوان افسر کو یہ بات سوجھی کہ الکپون سے یہ کیوں نہ دریافت کیا جائے کہ جو جائیداد اس نے بنائی ہے اس کی رقم کہاں سے آئی؟ جب الکپون کو یہ نوٹس ملا تو وہ اس کے مشیر خوب ہنسے۔ الکپون نے کہا اس ’’چھوکرے‘‘ کو یہ بھی علم نہیں کہ ہمارے عظیم ملک امریکہ کا آئین مجھے اس کے سوال کا جواب نہ دینے کا مکمل تحفظ دیتا ہے۔دراصل الکپون نے امریکہ کی چودہویں آئینی ترمیم کا سہارا لیا تھا۔ اس آئینی ترممیم کے مطابق کسی شہری کو ایسا سوال نہیں پوچھا جا سکتا تھا جس کے نتیجہ میں اسے کسی مقدمے میں ملوث کئے جانے کا احتمال ہو۔ الکپون کے وکلاء کی ٹیم ملک کے ممتاز قانون دانوں پر مشتمل تھی۔ ابتدائی ہر عدالت سے الکپون جیت گیا لیکن جب معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو عدالت عظمیٰ کے نو جج صاحبان نے غلیظ دولت سے بنائی ہوئی جائیداد وغیرہ کو قابو کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ آئینی ترمیم کے ذریعے دیئے ہوئے بنیادی حق کو یوں غلیظ جائیداد کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کے خیال کے مطابق بنیادی حقوق ملک کی بہتری کیلیے ہوتے ہیں۔ ان کا متفقہ فیصلہ الکپون کے خلاف تھا اور یوں الکپون انکم ٹیکس میں دھر لئے گئے اور اسے اپنی آمدن چھپانے کے جرم میں سات سال قید با مشقت و خطیر رقم جرمانہ کی سزا سنا دی گئی اور مزے کی بات یہ ہے کہ الکپون جو پولیس کو ’’جھل‘‘ دینے میں ہمیشہ کامیاب رہا تھا وہ عدالت میں فیصلہ سننے کے وقت موجود تھا کیونکہ اسے ذرا بھر بھی یہ شک نہ تھا کہ مقدمہ کا فیصلہ اس کے خلاف جا سکتا ہے۔الکپون کو عدالت کے باہر ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں ساری مافیا ششدر رہ گئی اور ان کی غلیظ دولت کوڑے کا ڈھیر بن گئی کہ لاکرز اور بینک میں ڈالر بکثرت موجود ہیں لیکن ناقابل استعمال۔

مافیا نے غلیظ دولت کو استعمال میں لانے کیلیے منصوبہ بندی شروع کر دی۔ انہوں نے غلیظ دولت کی دھلائی کا نظام وضع کیا۔ مافیا کے سرخیلوں نے دنیا میں پھیلے ہوئے بینک کے نظام کا تجزیہ کیا اور چھوٹے چھوٹے بینکوں میں مختلف اکاؤنٹ جعلی ناموں میں کھول دیئے۔ کئی بوگس کمپنیاں بنا ڈالیں اور ان کے مزکری دفاتر ایسے ملکوں میں قائم کئے جہاں قانون نرم تھا۔ ایسے ممالک جہاں انکم ٹیکس کا نظام کھوکھلا تھا۔ مثلاً پانامہ یا باہامہ ۔وہاں نئے ناموں سے کاروباری ادارے قائم کئے پھر ایک کمپنی سے دوسری کمپنی اور وہاں سے دور دراز کسی بینک میں رقم ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ ہوتے ہوئے واپس امریکہ ایک باوقار کاروبار کا لبادہ اوڑھے داخل ہونے لگی۔ اس گورکھ دھندے کو دولت کی دھلائی کہا جاتا ہے۔ امریکہ کی مافیا انکم ٹیکس کی گرفت سے بچنے کا طریقہ ایجاد کر لیا۔

دولت کی دھلائی کا یہ کام یونہی چلتا رہتا اور دونوں دھڑے ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے اصول پر گامزن رہتے لیکن دوران دھلائی حکومت کو اس غلیظ دولت میں سے اچھی خاصی شرح مختلف ٹیکسوں کی شکل میں مل جاتی اور باقی مافیا سفید دھن کے طور پر ملک کی اقتصادی ترقی میں استعمال کر لیتا لیکن اچانک ڈرگ دولت بھی غلیظ دولت میں شامل ہو کر دھلنے لگی۔ یہ دولت اتنی زیادہ تھی کہ اب بڑے بڑے بینک بھی ابن رقموں کا اکاؤنٹ کھولنے لگے۔ ڈرگ منی کا سلسلہ یوں مختلف تھا کہ یہ دولت امریکہ کی اپنی دولت تھی جو مافیا ہیروئین وغیرہ کے کاروبار میں کماتے تھے اور پھر وہی رقم واپس امریکہ لا کر مزید ہیروئین کی برآمدگی کے استعمال میں لاتے تھے۔ ہیروئین کے کاربار کو جاری رکھنے کے لیے مافیا نے ملک کی پولیس اور عدالتی نظام کے علاوہ سیاست پر بھی اثر اندز ہونا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ناجائز اسلحہ کی فروخت کے کاروبار نے بھی یہی راہ اختیار کر لی۔ اب ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی تھی۔

مغربی دنیا والے یوں تو بڑے مادہ پرست ہیں لیکن اپنے سرمایہ دارانہ نظام کی حفاظت وہ بطور ایک آئیڈیالوجی کے کرتے ہیں۔ (ہماری طرح زبانی جمع خرچ نہیں) چنانچہ انہوں نے ڈرگ دولت اور اسلحہ کی فروخت کی ناجائز دولت کو دھلائی کے پروسس سے نکالنے کے لیے نئے قوانین واضع کئے۔ ہیروئین کا کاروبار اور ناجائز اسلحہ کا سلسلہ ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے اس دولت کو علٰحیدہ کرنے اور اس کی راہ روکنے کے لیے مغربی دنیا کو باقی دنیا کے ممالک کے اشتراک کی ضرورت پڑی۔ قارئین کو پتہ ہے کہ افیم کی پیداوار کو روکنے کے لیے پاکستان ، ترکی، وغیرہ پر امریکہ کا کتنا دباؤ ہے اور وہ کس طرح اشتراک کرتے ہیں۔ چنانچہ باقی دنیا کے ممالک کا تعاون حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ڈرگ منی اور اسلحہ کی رقم کے علاوہ بڑی کرپشن سے حاصل کی ہوئی رقم کو بھی غلیظ دولت قرار دے دیا اور ان تینوں ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن پر کڑی نظر رکھنے کے لیے سخت قوانین بنا ڈالے ۔’’بڑی کرپشن‘‘ میں وہ ناجائز دولت شامل ہے جو کسی ملک کے سربراہان یا افسران با اختیار اپنے صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال سے حاصل کرتے ہیں اور چونکہ اس قسم کی دولت اپنے ملک میں رکھنی مشکل ہوتی ہے اس لیے وہ بیرون ملکوں کے بینکوں میں رکھی جاتی ہے اور تمام شہادت کو مٹانے یا دھندا دینے کیلیے اسی چینل کو استعمال کرتے ہیں جس کے ذریعے دیگر غلیط دولت کی دھلائی کی جاتی ہے۔

برطانیہ اور امریکہ (اور دیگر مغربی ممالک میں بھی) ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو بڑی کرپشن سے حاصل کی ہوئی دولت کو ریگولیٹ کرتی ہے اور اگر ان ملکوں کی عدالت میں یہ ثابت ہو جائے کہ یہ بڑی کرپشن سے حاصل کی ہوئی دولت دراصل غلیظ دولت کی تعریف میں آتی ہے اور اگرچہ یہ دھل چکی ہے لیکن اس کا ماخذ دریافت کیا جا سکتا ہے تو پھر ان ملکوں کی عدالت میں اس بڑی کرپشن والی رقم کو ضبط کر سکتی ہے اور مقدمہ کی کارروائی کے اختتام پر جو رقم اخراجات وغیرہ نکال کر بچ جائے تو وہ اس ملک کے غریب عوام کو واپس کر دی جاتی ہے۔ جن کے خون پسینہ کی دولت ان کے ’’خادم‘‘ چرا کر ملک سے باہر لے گئے ہیں۔ عام طور پر کارروائی پوری ہونے تک ضبط شدہ رقم کامشکل سے ایک تہائی اور وہ بھی بڑی کاوش اور مدت کے بعد وطن لوٹتا ہے۔ مارکوس، امریکہ کے چند سربراہان اور شہنشاہ ایران کی غلیظ دولت پر اس نوعیت کے قوانین کا اطلاق ہوا ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان مغربی ممالک کو ہماری دولت واپس کرنے میں کیا دلچسپی ہے کیا وہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ اخلاقیات کے سنہرے اصولوں کے پابند ہیں؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دراصل وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر وہ ایسی دولت پر بھی نظر نہ رکھیں تو یہ ممکن ہے ڈرگ مافیا وغیرہ ان بدبختوں کے ذریعے جو اپنی قوم کی دولت لوٹنے سے گریز نہیں کرتے۔ اپنی رقم بھی ان کی شراکت سے با آسانی لے آئیں اور پھر ان کو قابو کرنا مشکل ہو جائے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر وہ ممالک اور خاص طور پر امریکہ اگر ایسی بڑی کرپشن والی دولت پر کچھ رکاوٹ نہ ڈالے تو پھر پس ماندہ ملک کو امداد دینے کی پالیسی اور اس کا مقصد ختم ہو جائے گا۔ پس ماندہ ممالک کو امداد تو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس حد تک اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں کہ اپنے پرانے قرضے ادا کرتے رہیں اور اپنے پیروں پر اس حد تک کھڑے ہو جائیں کہ وہ تجارتی منڈی بن سکیں۔ مجھے دورہ امریکہ میں ایک امریکہ نژاد پاکستانی بینکر نے کہا کہ امریکہ کے پالیسی ساز اداروں میں بحث ہو رہی ہے کہ اگر پاکستان کو دی ہوئی امداد درست استعمال ہونے کی بجائے غلیظ دولت بن کر واپس ہمارے پاس ہی آجاتی ہے تو پھر امداد کا کیا فائدہ؟

میں نے اپنے کالم کا مسودہ یہاں تک اپنے ایک محترم ساتھی کو سنایا تو انہوں نے کہا جو ہمارے ملک کے دولت لے کر بھاگے ان پر لعنت اور جو اس غلیظ دولت کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں کہ ثابت کرو کہ یہ غلیظ دولت ہے ان پر بھی لعنت۔

میں نے کہا تو یہ ہے قصہ ہر دو لعنت کا!

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول کریم ﷺْ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کسی بد مذہب کا نہ روزہ قبول کرتا ہے نہ نماز نہ زکوۃ نہ حج نہ عمرہ نہ جہاد نہ نفل نہ فرض، بد مذہب دین اسلام سے ایسا نکل جاتاہے جیسا کہ گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے۔ (ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا کہ بد مذہب اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو ۔اگر مر جائیں تو ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوں۔ ان سے ملاقات ہو تو انہیں سلام نہ کرو۔ ان کے پا س نہ بیٹھو۔ ان کے ساتھ پانی نہ پیو ۔ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ان کیساتھ شادی بیاہ نہ کرو ۔ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔ (مسلم شریف)

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -