میں نے شادی کی آفر کرکے اسے کھودیا

میں نے شادی کی آفر کرکے اسے کھودیا
میں نے شادی کی آفر کرکے اسے کھودیا

  

تحریر:ایم وقاص مہر

’’میں چونکہ پڑھنا نہیں چاہتا تھا اس لیے والدین نے کھیتوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری مجھے سونپ دی تھی۔جسے میں حدِدرجہ خلوص اور لگن سے سرانجام دیتا آرہا ہوں ۔لیکن میں اندر سے مکمل ٹوٹ چکا ہوں‘‘ ۔گاؤں کی ستھ پر بیٹھے سلامت کی آنکھوں میں آنسووں کا سیلاب اْمڈ آیا تھا۔اس بوڑھے سلامت کو روتے دیکھ کر ،میں بھی پگھل کر رہ گیا۔میں جاننا چاہتا تھا کہ آخر کس چیز نے اس مضبوط اعصاب والے شخص کوتوڑ دیا ہے۔اس سے پہلے کہ میں اس سے کچھ پوچھتا وہ خود ہی کہنے لگا’’ میں جب عنفوان شباب میں پہنچا تو میں بلا کا خوبصورت تھا۔کھیتوں میں ہل جوتنااور دیگر کاموں میں چونکہ کافی مشقت اْٹھانا پڑتی تھی اس لیے اس کسرت سے میری جسمانی مضبوطی اور تراش خراش ایک لازمی امر تھا ۔میں چونکہ بچپن میں کم گوتھا اس لیے دوپہر کے وقت تھک جانے کے بعد دوسرے کسانوں کی طرح لالہ انور کے ڈھیرے پر جا کر خوش گپیاں کرنے کی بجائے ، اپنے کھیتوں میں موجود بوہڑ کے درخت کے نیچے سستانے کے لیے لیٹ جایا کرتا تھا۔‘‘

تھوری دیر کے لیے وہ ٹھہر گیا پھر کہنے لگا’’جیسے ہی میں پسینے سے شرابور تھکا ہارا بوہڑ کے نیچے پہنچتا ،کبھی کبھار ہوا بند ہونے کے باوجود بھی اچانک ٹھنڈی ہوا چلنے لگتی تھی۔لیکن میں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا ۔یہ سلسلہ کئی سالوں تک یونہی چلتا رہا۔اٹھائیس سال کی عمر میں ،جب میری جوانی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی ۔

اس لیے سائرہ کا خود پر قابو نہ رکھ پانا ایک فطری بات تھی۔اب آپ حیران ہوں گے کہ سائرہ کا میری جوانی سے کیا تعلق ؟ میں بتاتا ہوں ۔عجیب بات لگتی ہے لیکن ذرا سن لیں ۔ اتنے سالوں میں سائرہ اپنی محبت کا اظہار صرف مختلف طریقوں سے مجھے راحت پہنچاکرکرتی آرہی تھی۔ لیکن اْس دن اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا ۔اْس دن جب میں وساکھ کی اس چلچلاتی دھوپ سے نڈھال آرام کرنے کے لیے بوہڑکے نیچے پہنچا تو دسمبر کی شام جیسی خنکی محسوس ہونے لگی ۔عین اْس وقت جب میں غنودگی میں تھا ۔ہوا تھم سی گئی۔ایسا چونکہ اتنے سالوں میں پہلی بار ہوا تھا،اس لیے گرمی کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی اور آنکھیں ملتا ہوااٹھ بیٹھا ۔ مجھے بالکل سامنے عروسی لباس میں ملبوس ایک دوشیزہ دیکھائی دی۔ وہ اس قدر خوبصورت تھی کہ کچھ دیر کے لیے میں یہ بھول گیا ،کہ میں بھی وجود رکھتا ہوں۔ اس وقت مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ پھر وہ پائل کھنکھاتی ہوئی میرے قریب ۔ میں ایک طرف کھسک گیااور اْسے انہماک سے دیکھنے لگا۔

ایک لمحہ کے لیے مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہر چیز رْک سی گئی ہو۔دنیا بھر کا سکون میرے سینے میں اْتر چکا تھا۔لیکن میرے ذہن میں اک سوال تھا۔جو میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا’’۔کہ تم کون ہو؟ ‘‘اگلے ہی لمحے میرے پوچھے بغیر ہی،وہ بولی’’ میرا نام سائرہ ہے اور میں آپ سے محبت کرتی ہوں‘‘۔

میں نے کہا ’’میں تو آپ کو جانتا تک نہیں‘‘؟ ۔

اس نے جواب دیا’’کیا ہوا۔ میں توآپ کو برسوں سے جانتی ہوں‘‘۔

’’کیسے؟ کہاں پر دیکھا ہے آپ نے مجھے؟‘‘

وہ بولی’’ ہر روز میں آپ کو دیکھتی ہوں۔گھنٹوں آپ کے ہمراہ گزارتی ہوں، یہاں پر‘‘۔

مجھے تھوڑے وقت کے لیے ایسے لگنے لگا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔لیکن جیسے ہی میں اس سحر سے باہر آیا،تو وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا،اب تک وہ جاچکی تھی۔پر ہوا دوبارہ چلنا شروع ہو گئی تھی۔

وہ اب ہر روز آتی اور ہم لوگ یونہی بیٹھے کئی کئی گھنٹے باتیں کرتے ۔اب مجھے اپنے گاؤں اور گھر سے وہ پہلے والی اْلفت باقی نہیں رہی تھی۔اس لیے میں زیادہ سے زیادہ وقت باہر کھیتوں میں گزارنے لگا تھا۔پھر وہ رات آگئی‘‘سلامت تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر گیا۔شاید اس کا گلا خشک ہو رہا تھا۔پاس ہی پڑے ہوئے حقے کے دو چار کش لینے کے بعد،وہ کچھ اْداس سا دیکھائی دینے لگا تھا۔لیکن پھر کھنگھارتے ہوئے بولا’’اْس رات جب میں ٹھیک ساڑھے بارہ بجے اپنی ہفتہ وار باری کے مطابق ٹیل پر نہری پانی باندھ رہا تھا۔تو اچانک دودراز قدو قامت کے بھاری بھرکم جسوں والے شخص نمودار ہوئے۔میں ڈرسا گیا۔لیکن پھر اْن میں سے ایک نے ،ایک سنہری لفافہ جو سفید ڈوری سے بندھاتھا، میری طرف بڑھا دیا۔میں نے جب ڈرتے ڈرتے اْس کو کھولا تو اس میں وہی پنکھڑیاں تھی جو سائرہ اکثرمیرے لیے لایا کرتی تھی۔اب مجھے ا طمینان ہوگیا تھا۔اب انہوں نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا۔ میں بھی خاموشی سے ان کے ساتھ چل پڑا۔جب ہم درختوں کے اْس جْھنڈسے باہر نکلے۔جو لالہ کے ڈھیرے کے ساتھ تھا اور جہاں پر اکثر لوگ شکارکھیلنے آتے تھے۔تو سامنے لالہ انور کے کھیتوں میں مجھے روشنیاں دیکھائی دینے لگیں۔جیسے جیسے ہم لوگ اس کیمپ کے نزدیک ہوتے چلے جا رہے تھے ویسے ویسے شامیانوں کی روشنیاں اور موسیقی کی لا جواب دھنیں بڑھتی جا رہی تھیں۔

جب ہم اس خیمے کے مرکزی دروازے پر پہنچے تو سائرہ وہاں پر کھڑی میر انتظار کر رہی تھی۔ان دیو ہیکل آدمیوں نے سائرہ کو گردن جھکا کر سلام کیا اور وہاں سے غائب ہو گئے۔یہ سب کچھ میرے لیے نیا تھا ۔اس لیے مجھے تھوڑا تھوڑا خوف بھی محسوس ہو رہا تھا۔لیکن سامنے کھڑی سائرہ کا حسن دیکھ کر مجھ پر ایک عجیب سی کفیت طاری ہورہی تھی ۔پتا نہیں کیوں ۔۔۔لیکن آج پہلی با ر اسے چھونے کا من کر رہا تھا۔میں نے جب اپنی اس خواہش کا اظہار سائرہ سے کیا تواس نے جواب دیا ’’ضرور ۔لیکن پہلے میں تمہیں کچھ دیکھانا چاہیے ہوں ‘‘۔پھر اْس نے ایک چھوٹا سا پتھر میرے ہاتھ میں تھمادیا اور کہنے لگی ۔اسے ہاتھ ہی میں رکھنا،احتیاط سے ذرا۔

اب وہ اس ہال نما خیمے میں داخل ہو گئی تھی اور میں اْس کے پیچھے پیچھے جب اندر آیا۔تو وہاں پر سینکڑوں لوگ کوئی تقریب منا رہے تھے ،لیکن میرے لیے سب اجنبی تھے۔جب سائرہ سے میں نے اس تقریب کے بار ے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ آج اس کے کسی رشتہ دار کی شادی ہے۔موقع کو غنیمت جانتے ہوئے میں نے بھی اسے شادی کی پیش کش کر دی۔جسے سنتے ہی سائرہ کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی۔اس نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور خود تیز تیز قدموں سے کیمپ سے باہر آگئی ۔میں حیران تھا کہ آخر وہ میری اس پیش کش پر اتنا خفا کیونکر ہو رہی ہے۔

تھوڑی دیر کے لیے وہ آنکھیں بند کر کے کچھ سوچتی رہی ۔پھر بولی’’ میں تم سے محبت کرتی ہوں ،اس لیے تمہیں کھونا نہیں چاہتی‘‘۔

مجھے اس کی بات بڑی عجیب سی لگی ۔اس لیے میں نے اْس سے کہا ’’ میں بھی تم سے دور نہیں رہنا چاہتا ،بلکہ تم سے مل کر ایک ہو جانا چاہتا ہوں ‘‘۔

اس نے جواب دیا ’’نہیں یہ با ت غلط ہے۔شادی محبت کی انتہا ہوتی ہے اور انتہا ہی کسی چیز کا اختتام ہو تا ہے۔ہم دونوں کی دنیا اگرچہ الگ الگ ہیں ۔لیکن دونوں میں شادی کو ایک قانونی معاہدہ مانا جاتا ہے ۔جبکہ محبت میں معاہدے نہیں ہوتے ۔اور نہ ہی میں تم سے معاہدہ کرنا چاہتی ہوں۔میں چونکہ تمہیں کبھی بھی کھونا نہیں چاہتی اس لیے آئندہ ہم کبھی نہیں ملیں گے۔‘‘

پھر اس نے میرے ہاتھ میں موجود پتھر کو اُٹھایا اور وہاں سے چلی گئی۔ اس کے بعد سے آج تک وہ مجھے کبھی نہیں ملی۔آج بھی وہ دور رہ کر میرے لیے آسانیاں پیدا کرتی رہتی ہے لیکن وہ خود نہیں ملتی۔میرے دل میں آج بھی سائرہ کے لیے اتنی ہی محبت اور طلب ہے۔۔۔*

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

مافوق الفطرت -