مراکش نے پورے چہرے کو ڈھانپنے والے برقعے کی فروخت اور تیاری پر پابندی عائد کر دی , وجہ ایسی کہ جان کر آپ کو بھی شدید غصہ آئے گا

مراکش نے پورے چہرے کو ڈھانپنے والے برقعے کی فروخت اور تیاری پر پابندی عائد کر ...
مراکش نے پورے چہرے کو ڈھانپنے والے برقعے کی فروخت اور تیاری پر پابندی عائد کر دی , وجہ ایسی کہ جان کر آپ کو بھی شدید غصہ آئے گا

  

رباط(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا ء پر اکثر زرداری اور نواز حکومت خصوصی تہواروں کے موقع پر ملک کے بیشتر حصوں میں کبھی موبائل سروس بند کر دیتی  رہی ہے اور کبھی دہشت گردی کو جواز بنا کر موٹر بائیک کی ڈبل سواری پر پابند ی عائد کر دی جاتی ہے ،جس سے ملک بھر میں لوگوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور حکومتی فیصلوں پر ناقدین تنقید بھی کرتے ہیں لیکن دنیا میں ایک اسلامی ملک ایسا بھی ہے جس نے پاکستانی حکومتوں سے بھی ’’دو ہاتھ ‘‘ آگے بڑھتے ہوئے ملک میں ڈاکہ زنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سد باب کرنے اور پاکستانی حکومتوں  کی طرح سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر نہ صرف ملک بھر میں اسلامی شعار  چہرے کو ڈھانپنے والے ’’برقعہ‘‘ پر پابندی عائد کر دی ہے بلکہ ملک بھر کی فیکٹریوں کو پورے چہرے کو ڈھانپنے والے برقعے کی تیاری اور دکانوں کو اس طرح کے برقعے کی فروخت بند کر دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں،مراکش کی وزارتِ داخلہ نے سلامتی کے خدشات کو اپنے ان احکامات کی وجہ قرار دیا ہے،یہ نئے احکامات اگلے ہفتے سے نافذ العمل ہو جائیں گے۔

مزیدپڑھیں:’روز رات کو میری بیوی سے ملنے آنے والی سہیلی کو ایک دن پکڑا تو وہ دراصل میرا ایسا قریب ترین مرد نکل آیا کہ واقعی زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا‘مظلوم شوہر نے انتہائی شرمناک واقع بیان کر دیا

مراکش کے بڑی نیوز ویب سائٹ ’’لی 360 ‘‘نے وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سلطنت کے تمام شہروں اور قصبوں میں اس لباس کی امپورٹ، مینوفیکچرنگ اور مارکیٹنگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے اس اقدام کے جواز کے طور پر سلامتی کی وجوہات کا ذکر تے ہوئے کہا کہ ڈاکوؤں نے بار بار اس لباس کا استعمال کرتے ہوئے اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کی ہے،واضح رہے کہ مراکش میں بہت ساری خواتین سر پر ایک ایسا اسکارف پہننے کو ترجیح دیتی ہیں، جو چہرے کو نہیں ڈھانپتا مگر خواتین کی ایک بڑی تعداد ایسا نقاب بھی پہنتی ہیں، جس میں باقی سارا چہرہ چھپا ہوتا ہے اور صرف آنکھیں ہی نظر آتی ہیں۔’’مراکو ورلڈ نیوز‘‘ کے مطابق مراکش کے متعدد سیاسی کارکنوں اور سیاستدانوں نے کہا ہے کہ انہیں اس حکومتی اقدام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم ملک کی تمام مسلم تنظیموں نے اس حکومتی اقدام کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مسلم تنظیموں نے اس بات کو غیر منصفانہ قرار دیا کہ خواتین کے برقع پہننے پر تو پابندی لگائی جا رہی ہے جبکہ بکنی جیسے مغربی لباس کے پہننے کو ایک ناقابل تردید حق کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -