پاکستان نے ایک ایسے اسلامی ملک کے ساتھ مل کر بینک بنانے کا اعلان کردیا کہ جان کر بھارت کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی، ایک اور چال ناکام ہوگئی

پاکستان نے ایک ایسے اسلامی ملک کے ساتھ مل کر بینک بنانے کا اعلان کردیا کہ جان ...
پاکستان نے ایک ایسے اسلامی ملک کے ساتھ مل کر بینک بنانے کا اعلان کردیا کہ جان کر بھارت کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی، ایک اور چال ناکام ہوگئی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہداری نے ہی بھارت کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں کہ اب پاکستان اور ایران نے باہمی تجارتی حجم کو عروج پر پہنچانے کے لیے ایک مشترکہ بینک قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کے ہمسایوں کو ورغلا کر پاکستان کا گھیراﺅ کرنے کی زہریلی بھارتی سازش دم توڑ گئی ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مشترکہ بینک کے قیام کا اعلان پاکستان میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنردوست نے گزشتہ روز ایرانی نیوز ایجنسی فارس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

’داعش کے ساتھ کام کرنے پر امریکی حکومت نے مجبور کیا کیونکہ۔۔۔‘امریکی ائیرپورٹ پر حملہ کرنے والے شخص کا تہلکہ خیز انکشاف

رپورٹ کے مطابق مہدی ہنردوست کا کہنا تھا کہ ”پاک ایران مشترکہ بینک رواں مالی سال کے اختتام اور نئے ایرانی سال’نوروز‘ کے آغاز سے قبل آپریشنل ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے مابین پارلیمانی سطح پر مذاکرات کا ایک دور ہو گا جس میں معاملات طے کیے جائیں گے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”ہم نے دونوں ممالک کا باہمی تجارتی حجم 5ارب ڈالر تک لیجانے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے جو فی الحال دونوں ملکوں کے افغانستان کے ساتھ تجارتی حجم سے بھی کم ہے۔ گزشتہ روز پاکستان اور ایران کے مابین 5سالہ سٹریٹجک ایکشن پلان پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت 2021ءتک باہمی تجارت 5ارب ڈالر تک بڑھائی جائے گی۔“

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی یورپ میں پناہ کی درخواستیں

مہدی ہنردوست کا مزید کہنا تھا کہ ”فی الوقت پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت کا حجم صرف 8کروڑ ڈالر ہے جو انتہائی کم ہے۔ ہم زراعت، میڈیا اور تجارت سمیت کئی شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے مابین تاریخی، ثقافتی تعلقات ہیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام کا باہمی رابطہ بھی ناگزیر ہے۔ ہم ایران جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے مزید قرض جاری کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔“واضح رہے کہ مارچ 2016ءمیں پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر حسن روحانی اسلام آباد تشریف لائے تھے اور دونوں رہنماﺅں کی ملاقات میں باہمی تجارت کے فروغ اور علاقائی مسائل کو مل کر حل کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا تھا۔

مزید :

قومی -