افغان پارلیمنٹ کے قریب 2 خود کش دھماکے ، 38سے زائد افراد جاں بحق ، 80 زخمی

افغان پارلیمنٹ کے قریب 2 خود کش دھماکے ، 38سے زائد افراد جاں بحق ، 80 زخمی
افغان پارلیمنٹ کے قریب 2 خود کش دھماکے ، 38سے زائد افراد جاں بحق ، 80 زخمی

  

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغان پارلیمنٹ کے قریب یکے بعددیگر ے ہونے والے 2خود کش دھماکوں کے نتیجے میں38 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 80زخمی ہو گئے  ہیں ، افغانستان کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی’’ نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی‘‘ کے مقامی سربراہ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں جبکہ 

اراکین پارلیمنٹ ،سیکیورٹی فورسز  کے اہلکار اور انٹیلی جنس ایجنسی کے کئی اراکین بھی  شدید زخمی ہوئے ہیں ، تحریک طالبان افغانستان نے دھماکوں کی  ذمہ داری قبول کر لی .

بلوچستان اسمبلی میں اہم اجلاس، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ،ایل او سی پرجارحیت کے خلاف قرار داد منظور

تفصیلات کے مطابق افغان پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب یکے بعد دیگرے   ہونے والے 2 خوفناک خود کش حملوں میں درجنوں افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں کئی اراکین پارلیمنٹ ،سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ،سرکاری عملہ اور عام شہری شامل ہیں ۔اطلاعات کے مطابق کار بم اور خود کش حملہ آور کا ایک ساتھ دھماکہ ہوا، بمبار نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑیا جب پارلیمنٹ میں لوگوں کی خاصی بھیڑ تھی اور عملہ چھٹی کر کے پارلیمنٹ سے باہر نکل رہا تھا  ،جبکہ ساتھ ہی سڑک کے پار کھڑی گاڑی میں بھی اسی وقت حملے سے فضا میں اچھل گئی ، کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی’’ نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی‘‘ کے مقامی سربراہ  بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

افغان  محکمہ صحت عامہ کے سینئر عہدیدار سلیم رسولی نے  پارلیمنٹ کے قریب دھماکے کے نتیجے میں38 افراد جاں بحق اور 80 افراد کے  زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ  بتایا جا رہا ہے کہ زخمیوں میں افغان پارلیمنٹ کے کئی ارکان بھی شامل ہیں ۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں ، ریسکیو ٹیموں نے جاں بحق ہونیوالے افراد کی لاشوں اور زخمی افراد کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیاہے ۔تاہم جاں بحق افراد کے لواحقین کی تلاش کا عمل جاری ہے۔دوسری طرف افغان طالبان نے پارلیمنٹ کے قریب خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ٹارگٹ کر کے افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی اس بس کو نشانہ بنایا ہے جو سیکیورٹی اہلکاروں کو واپس لیجانے کے لئے استعمال ہوتی ہے ، طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان دونوں حملوں میں 70 سے زائد سیکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں ۔واضح رہے کہ جس جگہ دو خودکش حملے ہوئے ہیں یہ انتہائی حساس ایریا کہلاتا ہے جس میں اراکین پارلیمنٹ  اور سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں ۔واضح رہے کہ اب تک 15سال کے عرصے میں ہزاروں کی تعداد میں افغان شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -