زیادتی کا نشانہ بننے والی 3 سالہ بچی کی عدالت میں گواہی، ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی حیران پریشان رہ گیا

زیادتی کا نشانہ بننے والی 3 سالہ بچی کی عدالت میں گواہی، ایسی بات کہہ دی کہ ہر ...
زیادتی کا نشانہ بننے والی 3 سالہ بچی کی عدالت میں گواہی، ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی حیران پریشان رہ گیا

  

مانچسٹر (نیوز ڈیسک) اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا گیا انسان جب ہوس کا غلام بن جائے تو خود کو اتنا گرالیتا ہے کہ درندے بھی اسے دیکھ کر شرمانے لگیں۔ برطانیہ میں ایک ایسے ہی شیطان صفت نوجوان نے تین سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، لیکن اس ننھی بچی کی بہادری دیکھئے کہ وہ اس درندے کے خلاف قانونی کارروائی میں ناصرف پوری طرح شامل ہوئی بلکہ عدالت میں جاکر بیان ریکارڈ کرایا اور وکلاءکے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔

اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق یہ بچی برطانیہ کی عدالتی تاریخ میں شواہد پیش کرنے والی کم عمر ترین فرد بن گئی ہے۔ اسے ظلم کا نشانہ بنانے والے بدبخت شخص کا نام تھامس نون ہے۔ بچی کی والدہ نے بتایا کہ جب ان کی ننھی بیٹی کو 26سالہ شیطان صفت شخص نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تو بچی نے انہیں خود تمام واقعے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی سے بار بار پوچھا کیونکہ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنی چھوٹی عمر کی بچی کے ساتھ بھی کوئی بھیڑیا صفت شخص ایسا سلوک کرسکتا ہے۔ جب ان کی بیٹی نے بار بار ان کے سوالات کے ایک جیسے جوابات دئیے تو انہوں نے پولیس کو اطلاع کردی۔

وہ عورت جس نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد وہ دلیرانہ کام کردیا جو تاریخ میں کوئی اور خاتون نہ کرسکی تھی، نئی مثال قائم کردی

پولیس نے جب تھامس نون کو گرفتار کیا تو اس نے اپنے جرم کو ماننے سے صاف انکار کردیا، تاہم جب بچی کا طبی معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے جسم پر تھامس نون کے ڈی این اے کے شواہد موجود تھے۔ بعدازاں پولیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے دوران اس نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا۔ عدالت کی جانب سے اسے تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور یہ سزا دلوانے میں متاثرہ بچی کا کردار اہم ترین رہا۔ شیطان صفت شخص کا نام عمر بھر کے لئے جنسی مجرموں کے رجسٹر میں درج کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -