2016ءمیں پاکستان سمیت اسلامی ممالک پر امریکہ نے اوسطاً روزانہ کتنے بم گرائے؟ تعداد اتنی زیادہ کہ کوئی مسلمان سوچ بھی نہ سکتا تھا

2016ءمیں پاکستان سمیت اسلامی ممالک پر امریکہ نے اوسطاً روزانہ کتنے بم گرائے؟ ...

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں کئے جانے والے ڈرون حملے ہوں یا افغانستان، شام و عراق میں براہ راست گولہ باری، مسلم ممالک کے خلاف امریکی جارحیت ایک عرصے سے جاری تھی تاہم گزشتہ سال برسائے جانے والے بموں کی تعداد تو گویا آخری حدوں کو چھوتی نظر آتی ہے۔

NBC نیوز کی رپورٹ کے مطابق سال 2016ءکے دوران امریکہ نے ہر روز اوسطاً 72 بم گرائے، یعنی ہر گھنٹے کے دوران تقریباً تین بم گرائے گئے۔ کاﺅنسل آف فارن ریلیشنز کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکی صدر باراک اوباما اپنا دور صدارت مکمل کرکے رخصت ہورہے ہیں، جن کی آمد اس وعدے کے ساتھ ہوئی تھی کہ امریکہ بین الاقوامی تنازعات سے پیچھے ہٹ جائے گا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2016ءکے دوران امریکہ نے پاکستان، صومالیہ، یمن، لیبیا، شام، عراق اور افغانستان پر مجموعی طور پر 26171 بم گرائے۔ رپورٹ میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ یہ اعدادوشمار اصل حقائق سے کہیں کم ہوسکتے ہیں کیونکہ صرف پاکستان، یمن، صومالیہ اور لیبیا کے متعلق قابل بھروسہ معلومات دستیاب ہیں، جبکہ ایک ہی حملے میں متعدد بم بھی گرائے جاتے ہیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران عراق اور شام میں 24287 بم گرائے گئے۔ افغانستان میں 1337، یمن میں 34، صومالیہ میں 14 اور پاکستان میں تین بم گرائے گئے۔ اس سے پہلے 2015ءمیں پاکستان میں 11 بم گرائے گئے تھے۔

گزشتہ سال کے دوران امریکہ کی جانب سے دنیا بھر میں گائے جانے والے بموں کی مجموعی تعداد کے بارے میں سامنے آنے والی یہ رپورٹ لرزہ خیز حقائق سے بھرپور ہے، لیکن یاد رہے کہ یہ ’امن پسند‘ صدر باراک اوباما کا دور تھا، مسلمانوں کے خلاف سنگین ترین بیانات جاری کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کا دور ابھی شروع ہو رہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -