میں ہوتا تو ایل ڈی اے کو غیر قانونی عمارتیں تحویل میں لینے کا حکم دیتا،چیف جسٹس کے کثیر المنزلہ عمارتوں کے کیس میں ریمارکس

میں ہوتا تو ایل ڈی اے کو غیر قانونی عمارتیں تحویل میں لینے کا حکم دیتا،چیف ...
میں ہوتا تو ایل ڈی اے کو غیر قانونی عمارتیں تحویل میں لینے کا حکم دیتا،چیف جسٹس کے کثیر المنزلہ عمارتوں کے کیس میں ریمارکس

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کیثرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے خلاف لئے گئے ازخود نوٹس کیس میں ایل ڈی اے کو آئندہ تاریخ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر میں ہوتا تو یہ عمارتیں گرانے کی بجائے حکم دیتا کہ انہیں ایل ڈی اے تحویل میں لے ،عمارتوں کی تعمیر میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا لیکن کسی کے ساتھ زیادتی بھی نہیں ہوگی۔

کیس پر مزید سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی ۔گزشتہ روز سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل بنچ نے بلند وبالا عمارتوں کی تعمیر کے خلاف لئے ازخود نوٹس پر سماعت کی۔ایل ڈی اے کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایل ڈی اے ایکٹ میں ترمیم کر دی گئی ہے جس کے تحت نیا کمیشن دو روز میں تشکیل دے دیا جائے گا،جس کو پہلے بنائے گئے کمیشن سے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گئے۔انہوں نے گلبرگ میں صدیق سنٹر میں غیر قانونی تعمیر پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گلبرگ میں صدیق سنٹر کے مالکان نے پلازے میں خلاف قانون دوکانیں بنا کر پلازہ میں مسجد اور باتھ روم کی جگہ کمرشل مقاصد کےلئے استعمال کی جا رہی ہے،ایل ڈی اے کے مطابق پلازے میں ایمرجنسی اخراج کے راستے کو بھی کمرشل استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ پلازہ کے وکیل نے بتایا کہ پلازے کی انتظامیہ نے چھوٹی مسجد کی جگہ بڑی مسجد تعمیر کر دی ہے۔ جس پر دو رکنی بنچ نے ریمارکس دیئے کہ اللہ کے گھر میں دوکان بنا کر مجرمانہ فعل کیا، بنچ نے ہدایت کی کہ بہتر ہوگا کہ پلازے کی انتظامیہ خود پلازے میں غیرقانونی دکانوں کو مسمار کر دیں،بنچ نے خبردار کیا کہ اگر پلازے کی انتظامیہ نے خود دوکانیں مسمار نہ کیں تو ہم حکم دیں گے۔فاضل عدالت نے مزید قرار دیا کہ ان کا یہ فعل مجرمانہ ہے،ایل ڈی اے دیکھے کہ ا ان کے مالکان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہو سکتے ہیں،جنہوں نے غیر قانونی تعمیرات کر کے لوگوں کو دکانیں بیچ دیں،ایک انچ جگہ پرغیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گئے،اور ناجائز طور پر کسی کو تنگ نہیں کیا جائے گا۔صدیق سنٹر مالکان کے وکیل نے جواب داخل کرنے کیلئے عدالت سے مہلت طلب کرلی۔سالار سنٹر برکت مارکیٹ کیس میں ایل ڈی اے کی جانب سے بتایا گیا مذکورہ سنٹر کی پانچ کی بجائے 8 منزلیں تعمیر کی گئیں۔سالار سنٹر مالکان کے وکیل اے کے ڈوگر نے بنچ کو بتایا کہ ایک جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے پانچ کروڑ روپے جرمانہ کیا جو ادا کردیا ،ایک دوسرے جج جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے ادا کیا گیا جرمانہ واپس کرنے کا حکم دیا ،پھر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے دوبارہ پانچ کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ،انہوں نے استدعا کی کہ جرمانہ ختم کرنے کا حکم دیا جائے۔جس پر فاضل بنچ نے ایل ڈی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔فیروز پور روڈ پر واقع بے بی کیئر سنٹر گرائے پر معاوضے کی ادائیگی کیس میں کہا گیا کہ ضلعی حکومت نے سنٹر گرادیا لیکن اس کا معاوضہ نہیں دیا جارہا۔جس پر فاضل بنچ نے ضلعی حکومت کے وکیل کو طلب کرکے ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت تیاری کرکے آئیں پہلے ہی یہ کیسز بہت تاخیر سے لگے ہیں ،عدالت انہیں جلد نمٹانا چاہتی ہے ، ان کیسوں کو اب اسلام آباد میں سنا جائے گا۔

مزید :

لاہور -