ہائی کورٹ :ریگولیٹری اتھارٹیز کو وفاقی وزارتوں کے ماتحت کرنے کے کیس میں اٹارنی جنرل طلب

ہائی کورٹ :ریگولیٹری اتھارٹیز کو وفاقی وزارتوں کے ماتحت کرنے کے کیس میں ...
ہائی کورٹ :ریگولیٹری اتھارٹیز کو وفاقی وزارتوں کے ماتحت کرنے کے کیس میں اٹارنی جنرل طلب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے اوگرا ،نیپرا،پیپرا سمیت 5خود مختار اداروں کو وفاقی وزارتوں کے ماتحت کرنے کے خلاف دائر درخواست پر اٹارنی جنرل کو معاونت کرنے کے لئے طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ مشترکہ مفادات کونسل کی مشاورت کے بغیر وزیر اعظم نے خود مختار اداروں کی حیثیت کو کیسے ختم کیا۔؟

درخواست گزار شیراز ذکاءایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت نے قانونی طریقہ کار کے برعکس نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہو ئے اوگرا،نیپرا،،پی ٹی اے سمیت پانچ خود مختاراداروں کی حیثیت کو ختم کردیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارتوں میں ضم کئے گئے پانچ خود مختار اداروں کو وزارتوں کے ماتحت کرنے سے قبل مشتر کہ مفادات کونسل اور کابینہ سے منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ مشترکہ مفادات کونسل اور کابینہ کی منظور ی کے بغیر جاری کردہ نوٹیفیکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔لہذا وفاقی اداروں کو وزارتوں کے ماتحت کرنے سے متعلق کئے جانے والے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔ سرکاری وکلاءنے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے وزیر اعظم کی منظوری کے بعدنوٹیفیکیشن جاری کیا۔ وزیر اعظم نے اپنے انتظامی اختیارکے تحت احکامات صادر کئے۔نیپرا کے وکیل نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں کا تعین کرنا نیپرا کا اختیار ہے وزارت کے ماتحت کرنے سے وزارت پانی و بجلی کی اجارہ داری قائم ہو گی جو مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت سٹیٹ آئل کی خریدو فروخت کرتی ہے عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ اوگرا کو وزارت پیٹرولیم کے ماتحت کرنے سے سٹیٹ آئل کی خریدو فروخت کے معاملات پر کون نظر رکھے گا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں خود مختار اداروں کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کے لئے وزیر اعطم تنہا فیصلہ نہیں کر سکتے، اس حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی عدالت کو آگاہ کیا جائے۔عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20جنوری تک جواب طلب کر لیا جبکہ عدالت نے آئندہ تاریخ سماعت پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لئے پیش ہونے کی بھی ہدایت کی ہے۔

مزید :

لاہور -