ادھوری خوشی

ادھوری خوشی
 ادھوری خوشی

  

ان دنوں ہر طرف شادیوں کا بازار گرم ہے، بلکہ اب تو یہ خیال بھی سر اٹھانے لگا ہے کہ ہم خود بھی سر پہ سہرا باندھ لیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے محبوب لیڈر، جنہیں نوازشریف مارے حسد و جلن کے اب ’’لاڈلا‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، کے بارے میں بھی یہ ’’ادھوری‘‘ خبر سنائی دے رہی ہے کہ انہوں نے ماشاء اللہ تیسری شادی کر لی ہے۔

میرے خیال میں یہ کوئی بُری بات نہیں ، اللہ توفیق دے اور جیب بھی اجازت دے تو شادی کیا، شادیاں کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ نجانے لوگ ہمارے ’’لاڈلے‘‘ لیڈر کے ’’لاڑا‘‘ بننے پر اتنے برہم کیوں ہو جاتے ہیں؟

پھر اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ خود ’’لاڑا‘‘ صاحب بھی ’’مُکر‘‘ جاتے ہیں۔ دراصل ایک بات طے ہے کہ قوم عمران خان کو وزیراعظم کے منصب پر دیکھنا چاہتی ہے یا نہیں، مگر انہیں ’’دولہا‘‘ بنتے ہوئے ضرور دیکھنا چاہتی ہے، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہر سال دیکھنا چاہتی ہے۔

شیخ رشید تو جمائما کے ساتھ دوبارہ نکاح کے بھی حق میں ہیں، تحریک انصاف کے سبھی رہنما جمائما کو اب بھی بھابھی کے نام سے مخاطب کرتے ہیں اور بہت جذباتی ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جب عمران خان کو سپریم کورٹ نے صادق اور امین کے منصب پر بٹھایا تو تحریک انصاف کے رہنماؤں نے یک زبان ہوکر جمائما کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کیس میں اس خاتون نے بہت اہم کردار ادا کیا اور انہوں نے ہی پرانا ریکارڈ تلاش کر کے عمران خان کو مشکل سے نکالا۔

پھر اسی وجہ سے شیخ رشید نے عمران خان کو جمائما خان کے ساتھ شادی کا مشورہ دے ڈالا۔۔۔ مگر شاید انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جمائما ایک گریٹ خاتون ہونے کے باوجود اب عمران سے دوبارہ شادی نہیں کر سکتیں، کیونکہ ان کے راستے میں بہت سی اسلامی رکاوٹیں ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ایک ’’گریٹ‘‘ خاتون ہونے کے باوجود مسلمان ہیں بھی یا نہیں؟

اگر وہ ابھی تک مسلمان ہیں الحمدللہ تو پھر انہیں ’’حلالہ‘‘ کے شرعی عمل سے گزرنا پڑے گا۔۔۔ اور بالفرض اگر وہ اپنے مذہب پرواپس لوٹ چکی ہیں تو پھر اسلامی نقطہ ء نظر کے مطابق انہیں دوبارہ کلمہ پڑھنا پڑے گایہ سوال پھر بھی باقی ہے کہ آیا وہ دوبارہ مسلمان ہونے کے بعد فوری طور پر عمران خان سے نکاح کر سکتی ہیں یا نہیں؟

یہ تو علامہ ڈاکٹر طاہر القادری زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا حل نکالا جا سکتا ہے؟۔۔۔ مگر عمران کے ساتھ یہ جو ہم بشریٰ مانیکا کے حوالے سے شادی کا سن رہے ہیں تو میرے خیال میں اس شادی میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

محترمہ پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ان کے پانچ بچے ہیں۔ وٹو قبیلے سے ان کا تعلق ہے اور مانیکا خاندان میں وہ بیاہی گئی تھیں، انہوں نے خلع لیا یا انہیں طلاق دی گئی اس وقت وہ دوبارہ نکاح کر سکتی ہیں اور شرعی طور پر بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ محترمہ پیرنی صاحبہ نے اپنے خاوند سے اپنی روحانی تربیت کو مزید نکھارنے کے لئے بہت پہلے طلاق لے لی تھی۔۔۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر دوبارہ شادی کے پیچھے بھی کوئی ’’روحانی‘‘ اشارہ ہو سکتا ہے، اگر ایسا ہے تو پھر کسی غیر روحانی بندے کو معترض نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ روحانیت سے وابستہ شخصیات کے فیصلے بھی روحانی ہوتے ہیں۔

اِدھر عمران خان بھی کسی سے کم ’’روحانی‘‘ نہیں ہیں۔ ان کی سیاست میں بھی ایک ’’روحانیت‘‘ ہے، یعنی انہیں قبل از وقت بعض سیاسی معاملات کا علم ہو جاتا ہے، قبل از وقت عدالتی فیصلوں کے بارے میں اشارہ ہو جاتا ہے، قبل از وقت انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ وہ آئندہ وزیراعظم ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے پارٹی رہنماؤں کو بتا بھی دیا ہے کہ اب وزیراعظم کے منصب پر ان کے سواکوئی نہیں بیٹھ سکتا۔

اب اگر دیکھا جائے تو ’’سیاسی روحانی‘‘ اور ’’خالص روحانی‘‘ خاتون کے درمیان رشتہ طے ہو جاتا ہے تو پھر اس ملک کے وارے نیارے ہو جائیں گے،یعنی بطور وزیراعظم عمران خان جہاں سیاسی طور پر ناکام نظر آئیں گے، وہاں ان کی بیگم روحانی طور پر ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گی اور ان کی ایک ’’پھونک‘‘ سے مسائل کا حل نکل آیاکرے گا، لیکن یہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر بیگم صاحبہ نے عمران سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چھوڑو سیاست اور وزیراعظم کی ’’گدی‘‘ کے خواب، آؤ مل کے روحانی گدی چلاتے ہیں۔۔۔ تم جلسے جلوس کی بجائے کسی کمرے میں ’’چلہ کشی‘‘ میں مصروف ہو جاؤ، کچھ سال لگاؤ، پھر اس کے بعدہم دونوں ’’سلسلہ عمرانیہ‘‘ کے تحت ایک ’’گدی‘‘ چلاتے ہیں۔

شہرت تمہارے پاس ہے اور روحانیت میرے پاس اور یہ دونوں جس کے پاس ہوں، وہ کیا اس کی آنے والی نسلیں بھی ’’گدی نشین‘‘ کے طور پر عیش کرتی ہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ دونوں کے درمیان اس بات پر اتفاق مشکل ہوگا، کیونکہ عمران خان ہرحال میں وزیراعظم کے منصب تک رسائی چاہتے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے کئی ’’روحانی‘‘ شخصیات سے وظائف بھی لئے ہوئے ہیں جنہیں وہ پڑھتے بھی رہتے ہیں۔

ممکن ہے کسی روحانی شخصیت نے انہیں مشورہ دیا ہو کہ اب تم بجائے تعویز وغیرہ لینے کے کسی پیرنی سے ہی شادی کر لو تاکہ یہ روز روز کے تعویز دھاگے لینے کے عمل سے جان چھوٹے۔

بہرحال یہ بات طے ہے کہ عمران خان تو شادی پر تیار ہیں، مگر پیرنی‘‘ ابھی تیار نظر نہیں آئی ہیں۔ انہوں نے مشورے کے لئے مہلت لی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ادھر نوازشریف نے بھی ان کی اس شادی کی ناکامی کے لئے ’’دم درود‘‘ پڑھوانا شروع کر رکھا ہو اور کام ہوتے ہوتے بگڑ جائے، بہرحال دعا کرنی چاہیے کہ اللہ دونوں کے نصیب ملائے اور عمران کی شادی ہو جائے، بصورت دیگر قوم ایک بڑی خوشخبری سے محروم ہو جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -