’’ زرعی انقلاب کے لئے ضروری ہے کہ محکمہ زراعت چھوٹے زمینداروں کو جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر آمادہ کرے ‘‘ترقی پسند زمیندارچودھری باسط مصطفٰی

لاہور (زرعی رپورٹر)’’پاکستان میں جب تک بڑے اور چھوٹے زمیندار جدید زرعی ٹیکنالوجی کی مدد سے کاشتکاری شروع نہیں کریں گے ملک میں زرعی انقلاب اوربروقت اچھی پیداوار لانا خواب ہی بنا رہے گا‘‘ سیالکوٹ کے نواحی گاوں چھچھروالی کے پروگریسوزمیندارچودھری باسط مصطفی نے ڈیلی پاکستان آن لائن کے ساتھ ملک میں ماڈرن ایگرو ٹیکنالوجی پر بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے کسان کے علاوہ سب سے بڑا زمیندار بھی جدید مشنری استعمال کرنے کا رسک نہیں لیتا،اس کا خیال ہے کہ کہیں وہ نقصان نہ اٹھا لے لہذا ایگری کلچر ڈپارٹمنٹ کو چاہیئے کہ وہ چھوٹے زمینداروں کا خاص طور اعتماد بحال کرے اور انہیں تربیت بھی دے۔

چودھری باسط مصطٖفیٰ ایگری کلچر ایکسٹنشن میں بی ایس کے بعد ایم ایس سی کررہے ہیں اورخود بھی عملاً کاشت کاری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دھان کی فصل جو پنیری کی مدد سے اگائی جاتی تھی اب اسکی بجائے DSR ( Direct seeding of Rice)کی مدد سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ڈی ایس آر سے ہموار شدہ کھیتوں میں ڈرلنگ کرکے فصل کاشت کی جائے تو اس سے لیبر کی بچت کے علاو ہ فصل کو بروقت کاشت بھی کیا جاسکتا ہے اور زمین کے آرگینگ سسٹم سے فصل کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔زمین کی زرخیزی کی معیاد بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی ہیپی سیڈر زیرو ڈرل کو بروئے کار لایا جائے تو پرالی کو آگ سے جلانے ضرورت نہیں رہتی ۔ویسے بھی حکومت نے سموگ کی وجہ سے فضا کو آلودگی سے بچانے کے لئے دفعہ 144 کا نفٖاذ کیا ہوا ہے جس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہیپی زیرو مشین سے گندم اور دھان کی بوائی کی جائے ۔اس مشین کا خودکار سسٹم پرالی و بھوسہ کو الگ کردیتا ہے اور زمیندار کو فصل کی کاشت کے بعد کی جانے والی لیبر اور پیسے سے بچایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لیبراور مینول گروئنگ کی وجہ سے کسان بروقت دوسری فصل کاشت نہیں کرپاتے ،تاہم جدید مشنری بروئے کار لانے سے وہ وقت پر فصلیں کاشت کر پائیں گے اور اسکا پھل بھی انہیں زیادہ ملے گا۔

مزید : کسان پاکستان /علاقائی /پنجاب /لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...