اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 110

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 110

  

دیوداسی ہمیں دوچوکیوں پر بٹھا کر اندر چلی گئی۔ فضا میں نجور کی خواب پرور خوشبوؤں میں وچتروینا کے پرسوز سرمخلوط ہورہے تھے۔ گرودیو کمارگری کمربالکل سیدھے کئے، چہرہ سامنے اٹھائے گوتم بدھ کی طرح بیٹھے تھے۔ ان کا چہرہ سنجیدہ، آنکھیں خاموش اور پرسکون تھیں۔ اچانک دو ستونوں کے درمیان لٹکا ہوا سرخ کم خواب کا پردہ ایک طرف ہٹا اور رقاصہ رامائینی نمودار ہوئی۔ وہ حسن کا ایک مجسمہ تھی۔ لمبے سیاہ بالوں میں کنول کے پھول سجے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں گہرا کاجل لگا تھا۔ اس کی گود میں ہرنی کا ایک بچہ تھا جس کو وہ گلاب کے پھول کھلا رہی تھیں۔ اس نے ایک دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ ہم دونوں کو دیکھا۔ دیوداسی نے آگے بڑھ کر اس کی گود سے ہرنی کے بچے کو لے لیا۔ رامائینی نے دونوں ہاتھ جوڑ کر گرودیو کمارگری کو پرنام کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ رقاصہ رامائینی کے انداز میں ایک طنز چھپا ہوا تھا۔ وہ ہمارے سامنے تخت پر نیم درواز ہوگئی اور بولی

’’مہاراج! میرے دھن بھاگ کہ آپ کسی وجہ سے ہی سہی لیکن میری کٹیا میں پدھارے۔ فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کرسکتی ہوں؟ آپ کا اس ماحول میں دم تو ضرور گھٹتا ہوگا مہاراج مگر میں اس سے بہتر ماحول آپ کو پیش نہیں کرسکتی۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 109 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

گرودیو کمار گری کے چہرے پر وہی پرسکون نرم مسکراہٹ تھی۔ اس نے مالا والا ہاتھ تھوڑا سا اوپر اٹھا کر کہا 

’’رامائینی تم نے ہماری عزت بڑھائی ہے۔ ہم تمہارا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہمارا ایک چیلا مٹھ سے فرار ہوکر تمہارے پاس آگیا ہے۔ ہم اسے واپس لینے آئے ہیں۔‘‘

رقاصہ رامائینی کے ہاتھ میں گیندے کا ایک پھول تھا۔ اس نے پھول کو ہوا میں اچھالتے ہوئے ایک ہلکا سا نقرئی قہقہہ لگایا۔ پھر گرودیو کی طرف دیکھ کر بولی 

’’مہاراج! آپ کے چیلے کو میں نے نہیں بلایا تھا۔ وہ خود میرے محل میں آیا ہے۔‘‘

کمار گری بولے ’’رامائینی! ویدوں میں لکھا ہے کہ جگت میں سب سے بڑا جہنم رقص کی لپک ہے۔ مراری ناسمجھ ہے۔ ابھی اس کا ابھیاس ادھورا ہے۔ وہ تمہارے حسن کے فریب میں پھنس گیا۔ میں اسے اس جہنم سے نکال کر واپس اپنے سورگ میں لے جانا چاہتا ہوں۔‘‘

رقاصہ رامائینی نے زیر لب مسکراتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے وچتروینا کے سروں کو خاموش ہوجانے کے لئے کہا۔ دیوداسی کی انگلیاں وینا کے چاندی کے تاروں پر وہیں رک گئیں۔

’’مہاراج!‘‘ رامائینی کے انداز میں کٹیلا طنز تھا۔ ’’آپ اپنے جس سورگ کی بات کررہے ہیں اس سورگ نے مراری کے نوجوان خون کو منجمد کردیا تھا۔ بھگوان نے اسے یہ خون اس لئے نہیں دیا تھا کہ وہ اسے موت سے پہلے ہی رگوں میں جما کر سرد کردے۔ آپ کے مٹھ میں اسے سوائے روح ریاضت اور بتوں کے آگے سنگین سجدوں کے سوا اور کیا مل سکتا تھا۔ میرے محل میں اس کی اپنی کھوئی ہوئی زندگی پھر سے مل گئی ہیں۔ جائیے میرے باغ میں جاکر دیکھئے۔ وہ اس وقت اپنی حسین ہم جولیوں کے ساتھ صندلیں چراغوں کی روشنی میں رقص کررہا ہے۔‘‘

گرودیو کمار گری ایک لمحے کے لئے چپ رہے۔ میں نے ان کے چہرے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔ وہاں وہی سکون اور دل آویز مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے کہا ’’مراری نادان ہے تمہاری طرح وہ بھی مایا کے لوبھ میں گرفتارہوگیا ہے۔ جس کو تم زندگی کی جوت کا نام دیتی ہو ویدوں نے اسے انسان کی سب سے بڑی بھول بتایا ہے۔‘‘

رامائینی بولی ’’مہاراج! کیا ویدوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آکاش کے دیوتا بھی دیویوں کے پریم میں گرفتار ہوتے ہیں او راپنی برسوں کی ریاضت چھوڑ کر شوخ چشم دیویوں کے غلام بن جاتے ہیں۔ اگر اس مایا سے دیوتا اپنا دامن نہیں بچاسکے تو اس میں غریب مراری کو کیوں دوش دیتے ہیں۔‘‘

کمار گری بولے ’’رامائینی! اس میں مراری کا کوئی دوش نہیں۔ اس کا کوئی قصور نہیں۔ قصور تمہاری حد سے بڑھی ہوئی شعلہ بیانی کا ہے جس کی شہرت کے گھنے سیاہ بادل نوجوانوں کے دلوں کو اپنی تاریکیوں میں نگل لیتے ہیں۔‘‘

رامائینی تخت پر نیم دراز تھی۔ وہ ایک دم سے ایسے بھڑک کر اٹھ بیٹھی جیسے کسی ناگن کو چھیڑ دیا ہو لیکن فوراً ہی سنبھل گئی اور ترچھی نظر سے ہماری طرف دیکھ کر بولی

’’مہاراج! مجھے شعلہ بیانی اور حسن بھی آپ کے بھگوان نے ہی بخشا ہے۔ ان شعلہ بیانیوں کی روشنی میں چلتے ہوئے میں بھی بھگوان کی عبادت ہی کرتی ہوں۔‘‘

پھر اس نے تالی بجائی۔ ایک دیوداسی سرجھکائے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ رامائینی نے اسے حکم دیا ’’مراری کو باغ سے بلا لاؤ۔ کہو۔ تمہارے گرودیو تمہیں سورگ سے واپس لے جانے کے لئے آئے ہیں۔‘‘

دیوداسی چلی گئی۔ رامائینی نے ایک خاص انداز سے گردن ٹیڑھی کرکے کمارگری کو دیکھا اور بولی ’’مہاراج! کیا کبھی آُ نے بھی کسی عورت سے پریم کیا ہے؟‘‘

گرودیو کمار گری نے اپنی مالا والے ہاتھ کی انگلی چھت کی طرف اٹھائی اور کہا’’رامائینی! ہم نے صرف بھگوان سے محبت کی ہے بھگوان کی محبت نے ہی ہمیں دنیا کے گناہوں سے بچالیا ہے۔ عورت کی محبت ہمارے لئے ایک چھلاوا ہے، مایا ہے۔‘‘

رامائینی کا ایک نقرئی قہقہہ اس پر اسرار خواب آمیز فضا میں گونج گیا۔

’’مہاراج! آپ اپنا مٹھ چھوڑ کر میرے محل میں آجائیں۔ میں آپ کو بتاؤں گی کہ عورت کی محبت میں کیوں اتنا جادو ہوتا ہے۔ کہ جس کے آگے دیوتا بھی اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں۔‘‘

گرودیو کمارگری نے کوئی جواب نہ دیا۔ اتنے میں دیوداسی ہمارے مٹھ کے نوجوان چیلے مراری کو ساتھ لے کر آگئی۔ مراری کا حلیہ ہی بدلا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بانسری تھی گلے میں پھولوں کے ہار تھے۔ چہرہ لال ہورہا تھا۔ آنکھوں میں کاجل تھا۔

گرودیو اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان پر نظر پڑتے ہی مراری گھبراگیا۔ اس کے ہاتھ سے بانسری گر پڑی اور وہ ہاتھ باندھ کر سرجھکائے ندامت کے احساس کے ساتھ اپنی جگہ پر ساکت ہوگیا۔ رامائینی نے ہنس کر کہا’’مراری! یہ تمہیں لینے آئے ہیں۔ میں جانتی ہوں تم جانا نہیں چاہتے لیکن چلے جاؤ۔ گرودیو خود تمہیں لینے آئے ہیں۔‘‘

گرودیو کمارگری مراری کے قریب آگئے۔ اس کے کاندھے پر بڑی شفقت سے ہاتھ رکھا اور کہا ’’مراری! ہمارے ساتھ چلو گے؟‘‘

مراری پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ گرودیو نے اسے اپنے سینے سے لگالیا اور رامائینی کو پرنام کرکے اس کے محل سے واپس چل پڑے۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس وقت وچتر وینا پر ایک طربیہ نغمہ چھڑگیا تھا اور اس کے سروں سے شمعوں کے اندر صندلیں شعلوں کے دل دھڑکنے لگے تھے۔ جب ہم محل سے نکل کر سیڑھیوں پر آئے تو رامائینی کی خاص کشتی ندی میں کھڑی ہمارا انتظار کررہی تھی۔ اس نے خاص طور پر ہمیں ندی پار کرانے کے لئے اپنی خاص کشتی وہاں پہلے ہی سے بھجوارکھی تھی۔ ہم خاموش سے کشتی میں بیٹھ گئے۔ کشتی کے ماتھے کے محرام پر ایک مشعل روشن تھی۔ کشتی کو چار ملاح کہہ رہے تھے اور کشتی رات کے اولیں عنبریں اندھیروں سے نکل کر ندی کی لہروں پر آہستہ آہستہ دوسرے کنارے کی طرف چلی جارہی تھی۔

(جاری ہے)اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار