اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 75

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 75
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 75

  

حضرت ابو اسحاق ابراہیمؒ سے کسی نے پوچھا ’’کیا متوکل لالچی ہوتا ہے یا نہیں۔ آپ نے جواب دیا ’’یقیناًلالچی ہوتا ہے۔ اس لئے کہ لالچ نفس کی صفت ہے جس کا قلب میں داخل ہونا لازمی ہے لیکن متوکل کے لیے لالچ اس لئے مضر نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو لالچ پر غلبہ عطا کردیتا ہے۔ جس کی وجہ سے لالچ اس کا محکوم بن جاتا ہے کیونکہ متوکل مخلوق سے کسی قسم کی توقعات وابستہ نہیں کرتا۔‘‘

***

حضرت ابو اسحق ابراہیم بن احمد حواصؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ صحرا میں مجھے ایک عورت نظر آئی جس پر وجدانی کیفیت طاری تھی۔ پریشان اور سربرہنہ پھررہی تھی۔

مَیں نے اس سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’اپنا سر تو ڈھانپ لو۔‘‘

اس نے جواب دیا ’’تم اپنی آنکھیں بند کرلو۔‘‘

مَیں نے کہا ’’میں ایک عاشق ہوں اور عشاق کا شیوہ آنکھیں بند کرنا نہیں ہوتا۔‘‘

اس نے کہا ’’میں ایک مست ہوں اس لئے سر ڈھانپنا مستوں کا بھی شیوہ نہیں۔‘‘

جب مَیں نے پوچھا ’’ تم نے کس میکدے کی پی ہے جس کی وجہ سے مست ہو۔‘‘ اس نے جواب دیا کہ یہاں دوسرا اور کوئی مے کدہ نہیں کیوں کہ میں تو یہی سمجھتی ہوں کہ دونوں عالم میں خدا کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

پھر مَیں نے اس سے پوچھا ’’ تو میرے ہمراہ رہنا پسند کرے گی۔‘‘ تو اس نے نفرت سے کہا کہ مَیں کسی مرد کے ہمراہ رہنا نہیں چاہتی بلکہ فرد کی خواہاں ہوں۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 74 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

شیخ نصیر الدین محمودؒ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ایک بزرگ تھے جن کا نام شیخ محمد اجمل شیرازیؒ تھا۔ سید مبارک غزنویؒ نے انہی سے نعمت حاصل کی تھی۔

پھر فرمایا کہ اس زمانے میں ان کے مریدوں میں ایک سوداگرتھا۔ وہ شیخ اجلؒ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔ آپ کا غلام زادہ ہے، نعمت سے سرفراز فرمائیں۔

شیخ نے فرمایا ’’بہتر ہو کہ جب میں کل فجر کی نماز ادا کروں اس وقت اپنے بچے کو ساتھ لائے اورمیری داہنی جانب اس بچے کو میرے سامنے رکھ دے۔‘‘

حسن اتفاق سے اسی روز سید مبارک غزنویؒ کی ولادت ہوئی تھی اور سید مبارکؒ کے والد اس مجلس میں حاضر تھے۔ جب انہوں نے یہ بات سنی تو سوچا کہ مَیں بھی اپنے لڑکے کو لے آؤں گا اور شیخ کے سامنے رکھ دوں گا۔

اگلے روز نماز صبح کے وقت سوداگر کر آنے میں دیر ہوگئی۔ سید مبارک غزنویؒ کے والد صبح جلدی اُٹھے۔ موذن نے تکبیر کہی، شیخ نے نماز ختم کی تو سید مبارک غزنویؒ کے والد شیخ کی داہنی جانب سے آنکلے اور سید مبارکؒ کو سامنے ڈال دیا۔ شیخ نے ایک نظر بچے پر ڈالی تو اسے باطنی نعمتوں سے مالا مال کردیا۔

بعدازاں وہ سوداگر آیاتو شیخ اجلؒ نے فرمایا ’’نعمت تو سید زادہ لے گیا ہے۔‘‘

***

ایک شخص نے حضرت ابوالحسن خرقانیؒ سے عرض کیا ’’انا خرقہ مجھے پہنادیجئے تاکہ مَیں بھی آپ ہی جیسا بن جاؤں۔ُ‘‘

آپ نے پوچھا ’’کیا عورت مردانہ لباس پہن کر مرد بن سکتی ہے۔‘‘

اس نے کہا ’’ہرگز نہیں۔‘‘

پھر آپ نے فرمایا ’’جب یہ ممکن نہیں ہے تو پھر تم میرا خرقہ پہن مجھ جیسے کس طرح بن سکتے ہو؟‘‘

یہ جواب سن کر وہ شخص بہت شرمندہ ہوا۔

***

حضرت عبداللہ انصاری فرماتے ہیں کہ مجھے کسی جرم میں گرفتار کرکے پابجولاں بلخ کی جانب لے چلے۔ راستہ بھر میں یہی سوچتا رہا کہ میرے پاؤں سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوا ہے جس کی پاداش میں مَیں زنجیروں سے جکڑا گیا ہوں۔

اور جب میں بلخ پہنچا تو دیکھا کہ لوگ چھتوں پر چڑھے ہوئے مجھے پتھروں سے مارنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ اُسی وقت مجھے الہام ہوا کہ تو نے فلاح دن حضرت ابوالحسنؒ خرقانی کا مصلےٰ بچھاتے ہوئے اس پر پاؤں رکھ دیا تھا اور یہ اسی کی سزا ہے۔ چنانچہ مَیں نے اسی وقت توبہ کی۔ توبہ کرنے کے بعد مَیں نے دیکھا کہ لوگ ہاتھوں میں پتھر لیے کھڑے ہیں لیکن کسی ایک کی بھی مجھے مارنے کی جرأت نہیں ہورہی۔ پھر میرے پاؤں کی زنجیریں بھی خود بخود ہی ٹوٹ گئیں اور اس کے ساتھ ہی حاکم نے میری رہائی کا حکم بھی دے دیا۔

***

کسی مجوسی نے حضرت امام ابوحنیفہؒ کو گرفتار کرلیا اور انہیں میں سے ایک ظالم و سفاک مجوسی نے آپ سے کہا ’’میرا قلم بنادیجئے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’میں ہرگز نہیں بناسکتا۔‘‘

جب اس مجوسی نے قلم نہ بنانے کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا 

’’اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ محشر میں فرشتوں سے کہا جائے گا کہ ظالموں کو ان کے معاونین کے ہمراہ اُٹھاؤ۔ لہٰذا مَیں ایک ظالم کا معاون نہیں بن سکتا۔‘‘

(جاری ہے)اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 76 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے