سالانہ انتخابات میں صدارت پر 5جنرل، سیکرٹری کی نشست پر 2امید واروں میں مقابلہ 

سالانہ انتخابات میں صدارت پر 5جنرل، سیکرٹری کی نشست پر 2امید واروں میں ...

  



ملتان ( خبر نگار خصو صی)  ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے 11 جنوری کو ہونیوالے سالانہ انتخابات میں صدارت کی نشست پر 5 امیدوار مدمقابل ہیں جن کے مابین کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔مقابلے میں یوسف اکبر نقوی، نشید عارف گوندل، عمران رشید سلہری، اصغر لودھی اور سید اقبال مہدی زیدی کے نام شامل ہیں روزنامہ پا کستان سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف اکبر نقوی  نے کہاکہ وہ وکلاء برادری سے ووٹ کی اپیل کرتے ہیں اگر اللّٰہ تعالیٰ (بقیہ نمبر8صفحہ12پر)

نے کرم کیا تو وہ وکلاء  برادری کی فلاح و بہبود کے امور پر ذاتی دلچسپی کے ساتھ کام کریں گے۔بار کی آمدنی کو ذاتی طور پر خرچ کرنے کی بجائے وکلاء پر خرچ کیا جائے گا وکلاء  امور کو شفافیت پر چلائیں گے ضلع کچہری کی توسیع اولین ترجیحات میں شامل ہے اس معاملے کو جلد حل کرایا جائے گا۔ انصاف کی فراہم کے لیے عدلیہ سے تعلقات کو مزید بہتر کریں گے تاکہ ضلع کچہری امن کا گہوارہ بن سکے۔بطور وکیل ملتان بار سے 30 سالہ تعلق ہے جو وکلاء کے لیے کھلی کتاب کی مانند ہے۔وہ منتخب ہوکر ایسی سیاست کی بنیاد رکھیں گے تاکہ عہدیداران کو مخصوص گروپ کی بجائے ہر وکیل کو عزت دی جائیگی ان کا تعلق کسی قبضہ گروپ یا لینڈ مافیا سے نہیں اس لیے وکلا سے استدعا ہے کہ انہیں ووٹ دیکر منتخب کریں۔دوسرے امیدوار نشید عارف گوندل نے کہا کچہری کو واپس اولڈ کیمپلیکس میں وہ صفحہ اول پر تھے کچہری واپسی تحریک میں قیدی نمبر ون مشہور ہوئے کچہری کے معاملے پر ایک بات طے ہے کہ کچہری کو موجودہ جگہ پر ہی توسیع دلوائی جائے گی کچہری توسیع پر 3 رکنی کمیٹی تشکیل پائی تھی اور وہ ہر میٹنگ کا حصہ رہے ہیں۔ انہیں اپنے سینئر وکلاء کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ ان کے حق میں ایک صدارتی امیدوار محبوب سندیلہ جو کہ سابق صدر ڈسٹرکٹ بار بھی رہے ہیں نے حمایت کا اعلان کردیا ہے۔کچہری میں نوجوان وکلاء کو پریکٹس میں دشواری ہوتی ہے اور فنانشل پرابلم بھی ہوتا ہے جس کے لیے وکلاء کی مشاورت سے ایک جامع پلان تیار کیا گیا ہے۔ ایسے اقدامات کریں گے کہ تیاری کرکے جانے والے وکلاء کو روسٹر پر عزت ملے۔وہ بار کی بھرپور خدمت کریں گے۔بار و بنچ کے بہتر تعلقات بھی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ کچھ عرصہ سے جن لوگوں نے تعلقات خراب کیے انہیں بہتر کیا جائے گا تاکہ سب کو عزت ملے اور قانون کا بول بالا ہوسکے۔ تیسرے امیدوار عمران رشید سلہری کا کہنا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو کچہری کو توسیع دلوائیں گے تاکہ آئیندہ اس معاملے پر کوئی سیاست نہ کرسکے۔ وہ پہلے بھی بار عہدیدار رہے تو انہوں نے وکلاء کی انشورنس اور ہیلتھ پر کام کیا تھا جسے اب بہتر طریقے سے انجام دیں گے۔ حکومت سے وکلاء کو پلاٹس دینے سے متعلق بات کی جائے گی اور ان کی تعمیرات کے لیے آسان قرض بھی مہیا کیا جائے گا۔بار کی فارمیسی میں طبی سہولیات مزید بہتر بنائی جائیں گی جس میں وکلاء کے لیے ایمرجنسی کی سہولت، بار کے لیے  ایمبولنس کو مختص، امراض دل کے مریضوں کے لیے فوری فرسٹ ایڈ کا انتظام کیا جائے گا جبکہ الٹراساؤنڈ و ایکسرے مشین بھی نصب کرائیں گے۔وہ خصوصی طور پر ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر کی بار کے لیے فراہمی پر اقدامات بھی کریں گے۔ چوتھے امیدوار سید اقبال مہدی زیدی کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ وکلاء کی عزت و توقیر کا سبب بنے ہیں۔ سابق چیف جسٹس (ر) پاکستان افتخار چودھری تحریک میں بھی اول دستے میں شامل تھے۔ وکلاء  کی ویلفئر کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔وہ منتخب ہوکر وکلاء کو ہر سطح پر نمائندگی دلوائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن میں حصہ لینے کا بنیادی مقصد ووٹ کی طاقت سے وکلاء  کی خدمت کرنا ہے۔وہ ایسے اقدامات کریں گے تاکہ ہر وکیل الیکشن میں حصہ لے سکے۔اگر وکلاء نے منتخب کیا تو وہ وکلاء کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ پانچویں امیدوار اصغر علی لودھی کا کہنا تھا کہ وکلاء کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائینگے۔سینئر وکلاء کی مشاورت و تعاون سے بار ممبران کے مسائل حل کرنا بھی منشور میں شامل ہے۔ وکلاء نے اگر منتخب کیا تو ان کی تمام تر امیدوں پر پورا اترنا بھی ان کی ترجیح ہوگی۔ بار کی فارمیسی کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور فوری طور پر اقدامات کریں گے۔ نوجوان وکلاء کے لیے چیمبرز کا مسئلہ ہے جس کے لیے وہ سنجیدگی سے بلاک تعمیر کرائیں گے تاکہ نوجوان وکلاء کو درپیش مسائل سے نمٹا جائے اور نوجوان وکلاء کو پریکٹس میں جو مشکلات ہیں انہیں بھی حل کیا جائے گا کچہری کی توسیع اور تعمیراتی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے 11 جنوری کو ہونیوالے سالانہ انتخابات میں جنرل سیکٹری کی نشست پر دو امیدوار مدمقابل ہیں جن کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔مقابلے میں غلام نبی طاہر اور وسیم خان شامل ہیں۔ اس سلسلے میں روزنامہ پا کستان سے گفتگو کرتے ہوئے غلام نبی طاہر نے کہا کہ منتخب ہوکر کچہری میں تعمیراتی کام جلد شروع کرانا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ وہ بار کے ہمراہ حکومت پنجاب سے بات کرکے جدید طریقہ کار پر مشتمل کمپلیکس بنوائیں گے۔ جس میں کشادہ عدالتوں کا قیام ممکن ہوسکے گا۔ سائلین کے لیے بہترین شیڈز مہیا کیے جائیں گے۔ وکلاء کے لیے پارکنگ سائیڈ بھی بنائی جائے گی جس سے چوک کچہری سے گزرنے والے شہریوں کو کشادہ سڑک میسر آئے گی اور پارکنگ کا مسئلہ بھی یقینی طور پر حل ہوجائیگا۔بار کے مسائل حل کرنا بھی پہلی ترجیحات میں شامل ہے۔دوسرے امیدوار محمد وسیم خان نے کہا ہے کہ وکلاء  کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کروں گا پنجاب بار کونسل کی مشاورت اور تعاون سے بار نمائندوں کے مسائل ختم کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ وکلاء نے اگر منتخب کرکے عہدے پر فائز کیا تو ان کی تمام تر امیدوں پر پورا اترنا بھی ان کی ترجیح ہوگی بار کی فارمیسی کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور فوری طور پر اقدامات کریں گے۔ نوجوان وکلاء کے لیے چیمبرز کا مسئلہ ہے جس کے لیے وہ سنجیدگی سے بلاک تعمیر کرائیں گے تاکہ نوجوان وکلاء کو درپیش مسائل سے نمٹا جائے اور نوجوان وکلاء کو پریکٹس میں جو دشواری ہے اسے بھی حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے کچہری میں تعمیراتی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کروں گا۔

بار الیکشن 

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...