ننکانہ صاحب کا واقعہ،پس منظر!

ننکانہ صاحب کا واقعہ،پس منظر!

  



گزشتہ جمعہ ننکانہ صاحب میں گوردوارہ ننکانہ صاحب کے باہر چند درجن مشتعل مظاہرین نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ اس احتجاج کے دوران چند انتہائی افسوسناک نعرے لگائے گئے،گوردوارے کو زمین بوس کرنے کی دھمکی دی گئی اور اس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ ان مظاہرین کی سربراہی کرنے والا عمران نامی شخص بتایا گیا،اس کی اشتعال انگیز تقاریر سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیلیں۔ یہ کلپس بھارت میں بھی بے تحاشہ دیکھے اور شیئر کئے گئے اور ہندو انتہا پسندوں کو پاکستان پر تنقید کا موقع میسر آگیا، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا میں آسمان سر پر اُٹھالیا گیا کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں۔ اس ہنگامے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیغام جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا ننکانہ کے قابل مذمت واقعے اور پورے ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف جاری حملوں میں نمایاں فرق ہے، ننکانہ واقعہ ہر لحاظ سے میرے وڑن کے خلاف ہے اور اس کے ذمہ داروں کو پولیس اور عدلیہ سمیت حکومت سے کسی قسم کی رعایت یا تحفظ نہ ملے گا۔ اس کے برعکس مودی کی آر ایس ایس کا نظریہ اقلیتوں کو کچلنے کی حمایت کرتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف ٹارگٹڈ حملے اس کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ آر ایس ایس کے غنڈے سرعام مار پیٹ کرتے ہیں،جبکہ مودی سرکاری مسلمانوں کے خلاف حملوں کی سرپرستی ہی نہیں کرتی بلکہ بھارتی پولیس ان حملوں میں پیش پیش رہتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کیا گیا وعدہ فوری ہی وفا ہوا اور ننکانہ صاحب پر حملے کی سربراہی کرنے والے عمران نامی شخص کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ، مذہبی جذبات مجروح کرنے کے تحت مقدمہ درج کردیا گیا۔

ننکانہ صاحب واقعہ پر تبصرہ کرنے سے قبل اس کا پس منظر سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ میڈیا میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ننکانہ کے رہنے والے مسلمان لڑکے محمد احسان اور سکھ لڑکی جگجیت کور نے لڑکی کے گھر والوں کی رضامندی کے بناء بھاگ کر شادی کرلی۔ لڑکے کے عزیز و اقارب کا کہنا ہے کہ دونوں نے باہمی رضامندی سے شادی کی کیونکہ لڑکی کا باپ سکھ مذہبی رہنما ہے اور کسی بھی صورت اپنی بیٹی کا ہاتھ مسلمان لڑکے کے ہاتھ میں دینا نہیں چاہتا تھا۔ دوسری جانب اگست میں پیش آنے والے اس واقعہ کے چند روز بعد ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہوگیا، لڑکی کے گھروالوں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ احسان نامی لڑکے نے ان کی بیٹی جگجیت کو گھر سے اغواء کیا ہے اور اسے گن پوائنٹ پر اسلام قبول کرواکر اپنی دلہن بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہونے کے بعد بات بہت آگے بڑھ گئی، یہاں تک کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ بھی معاملے میں شامل ہو گئے اور لڑکی کے خاندان والوں کو مدد کی پیشکش کردی۔ اس کے ساتھ ہی سکھ رہنماؤں نے وزیراعظم عمران خان سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل بھی کی۔ اس دوران ہی سوشل میڈیا پر احسان کی جانب سے ویڈیو ریلیز کی گئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک مولوی اس کا اور جگجیت کور کا نکاح پڑھا رہا ہے۔ اس میں لڑکی کا کہنا ہے کہ اب اس کا اسلامی نام عائشہ ہے اور یہ شادی اس نے اپنی مرضی سے کی ہے۔ اس پر لڑکی کے گھر والوں نے الزام لگایا کہ بندوق کے زور پر اس سے یہ سب کچھ کروایا جارہا ہے اور اگر انصاف نہ ملا تو خاندان والے گورنر ہاؤس کے سامنے خود کو آگ لگالیں گے۔ اس دھمکی کے بعد گورنر سرور بھی معاملے میں شامل ہوگئے اور لڑکی کے گھر والوں اور سکھ برادری کے رہنماؤں کو اپنے پاس بلالیا۔ فیصلہ ہوا کہ جگجیت کو اس کے گھر والوں کے حوالے کردیا جائے گا۔ تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق جگجیت کو یہ پیشکش کی گئی تو اس نے خدشے کا اظہار کیا کہ واپس گھر جانے کی صورت میں اس کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ لہذا جگجیت کور کو لاہور میں قائم دارالامان بھیج دیا گیا جہاں وہ ابھی تک مقیم ہے۔

ان واقعات کے بعد جمعہ3 جنوری کو چند درجن مظاہرین نے گوردوارہ ننکانہ صاحب کو گھیرے میں لے لیا۔ ان مظاہرین میں جگجیت سے شادی کرنے والے احسان کے گھر والے پیش پیش تھے، ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اْن کے گھر پر چھاپہ مارا اور احسان سمیت متعدد افراد کو زیر حراست لے لیا، ان کے مطابق یہ کارروائی عدالت میں پیشی سے قبل خاندان پر دباؤ ڈالنے کا حربہ ہے۔ خاندان والوں کا کہنا تھا کہ جگجیت نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے اور وہ بیان حلفی بھی جمع کرواچکی ہے کہ یہ شادی اس نے اپنی مرضی سے کی، اس کے باوجود پولیس دولہا اور اس کے گھر والوں کو حراساں کررہی ہے۔ اس احتجاج کے دوران ہی سکھ برادری کے خلاف انتہائی افسوسناک جملے ادا کیے گئے اور گوردوارے کو گرانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ یہ جملے کیمروں نے محفوظ کر لیے اور یہ دنیا بھر کے سوشل میڈیا پر پھیل کر پاکستانیوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنے، جمعہ کے روز انتظامیہ کے مظاہرین سے مذاکرات کامیاب رہے اور احتجاج ختم کردیا گیا، پھر دو روز بعد اشتعال انگیز تقریر کرنے والے عمران نامی شخص جو کہ احسان کا رشتہ دار بتایا جاتا ہے، اسے گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کردیا گیا۔

اس واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کا مقصد لوگوں کے ذہنوں میں بھارتی میڈیا کی خبروں سے پیدا ہونے والا ابہام دور کرنا ہے۔ بھارتی میڈیا اور سیاستدان یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں جیسے پاکستان میں سکھ لڑکیوں کو دھڑا دھڑ زبردستی مسلمان بنا کر ان سے شادیاں کی جارہی ہیں اور گوردوارہ ننکانہ صاحب تباہ کرنے کے لیے ایک منظم مہم چل رہی ہے۔ تاہم ننکانہ صاحب واقعہ کا پس منظر دیکھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ایک محلے کا ایک مقامی تنازعہ تھا، بظاہر معلوم ہوتا ہے دونوں پارٹیوں نے اپنے مؤقف کو وزنی بنانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ کیس عدالت میں چلے گا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، اگر جگجیت کور نے اپنی مرضی سے شادی کی تو بھی سب کو معلوم ہوجائے گا اور اگر اسے اغواء کر کے ویڈیو زبردستی بنوائی گئی تو اس کی بھی حقیقت جلد سامنے آجائے گی۔لہٰذا میڈیا اور مذہبی رہنماؤں سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں پہلے سچ سامنے آنے کا انتظار کریں، الٹے سیدھے بیانات، خبروں اور تبصروں سے نفرتوں کی آگ نہ بھڑکائیں۔

دوسری جانب محمد احسان کے گھر والوں نے گوردوارہ ننکانہ صاحب کے باہر جس قسم کا احتجاج کیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اگر ان کا مؤقف درست بھی ہے تو تشدد کا راستہ اختیار کر کے انہوں نے جرم کا ارتکاب کیا اور ملک کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بنے، اس کی سزا انہیں ملنی چاہیے اور یقینا ملے گی۔ تاہم اس واقعہ کا خوش آئند پہلو یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کے کسی بھی ستون نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ پولیس نے دو روز کے اندر لوگوں کو اشتعال دلانے والے عناصر کو پابند سلاسل کیا۔ بھارتی میڈیا اور سیاستدانوں نے اس واقعہ کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستان اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ملک ہے لیکن پاکستانی عوام اور ریاست کے ردعمل نے انہیں یکسر غلط ثابت کردیا۔ اب اُمید ہے بھارتی سیاستدان اور میڈیا اپنے ملک میں رہنے والی اقلیتوں کا درد بھی اسی طرح محسوس کریں گے اور پورے بھارت میں لاکھوں مسلمان جو اس وقت بھارتی شہریت کے متعصبانہ قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اُن کی بھی سنی جائے گی اور ان کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...