بھارت میں مظاہرے اور اب تاریخی ہڑتال!

بھارت میں مظاہرے اور اب تاریخی ہڑتال!

  



بھارت کے وزیراعظم مودی کی غلط اور جابرانہ پالیسیوں کا نتیجہ اب ملکی معیشت کو بھی بھگتنا پڑا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو بھارتی حصہ بنانے اور90 لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں محبوس کرنے اور ان کے مواصلاتی رابطے تک منقطع کرنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف شہریت بل کا بم گرا کر لاکھوں کو شہریت سے محروم کیا اور باقی کروڑوں درجہ دوم سے بھی کم تر شہری بنا دیئے گئے۔نظر بند کشمیری اپنی جگہ احتجاج کر رہے تھے تاہم شہریت بل نے پورا بھارت ہلا کر رکھ دیا اور پورے ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے، جو سنبھالنا مشکل ہو رہے ہیں،ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ بدھ کے روز بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال ہو گئی اور 25 کروڑ ملازمین نے کام چھوڑ دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس ہڑتال کو بھارت بندھ کا نام دیا گیا ہے، بھارت کی دس بڑی ٹریڈ یونینز نے مودی سرکاری کی نجکاری پالیسی، سرمایہ کاری میں عدم دلچسپی اور مزدور دشمن اقدامات کے خلاف کام بند کیا۔ٹریڈ یونینز نے اگست2015ء میں نوٹس دیا اور معاوضوں میں اضافے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ یہ مطالبات منظور نہ ہونے پر اب ہڑتال کی گئی۔اس میں کسانوں، ٹرانسپورٹ اور بینک ملازمین نے بھی حصہ لیا، صرف ایک روز کی ہڑتال سے بھارتی معیشت کو اربوں کا نقصان ہوا اور ہڑتال روکنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔یہ ہڑتال تو دیرینہ اور معاشی مطالبات پورے کرنے کے لئے تھی،لیکن شہریت بل کے خلاف مظاہروں کے دوران عوام اور طلباء پر پولیس اور آر ایس ایس کے غنڈوں کے شدید تشدد نے ہڑتالیوں کو بھی متاثر کیا اور انہوں نے شہریت بل کے مظاہرین کی حمایت کر دی اور شہریت بل کو مسترد کر دیا۔ یوں مودی کو اپنے اقتدار کے دوسرے دور میں ابتدا کے وقت جابرانہ اور غیر مصالحانہ اقدامات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے، وہ ابھی تک ڈھیٹ بنا ہوا ہے تاہم مظلوموں کی آہیں عرش تک ہلا دیتی ہیں، مودی کو احتجاج کا یہ سلسلہ روکنا مشکل ہو گیا ہے اور اس کے اثرات علیحدگی پسندی پر مرتب ہوں گے اور یقینا جلد ہی یہ تحریکیں زیادہ موثر انداز میں اُبھریں گی اور بھارت کے ٹکڑے ہوں گے۔ اس ہڑتال کے بعد تو عالمی سطح پر رائے عامہ تبدیل ہونا چاہئے،جو ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔پاکستان کو صرف اندرون ملک ہی نہیں بیرونی دُنیا میں بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...