بادل نخواستہ؟…… منظور ہے، منظور ہے

بادل نخواستہ؟…… منظور ہے، منظور ہے
بادل نخواستہ؟…… منظور ہے، منظور ہے

  



خاص و عوام حیرت زدہ ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کو کیا ہوا، لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے یک بیک کیوں سرنڈر کر دیا؟ ان سوالات کے جواب عام فہم ہیں۔سوال پوچھنے والے خود ہی جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو گیا۔ البتہ مسئلہ مسلم لیگ (ن)کی پارلیمانی پارٹی کا ہے،پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس میں وہ اراکین اسمبلی مطمئن اور استفسار کر رہے تھے جو محاذ آرائی کے حق میں نہیں تھے اور ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ چودھری نثار علی خان کی خاموشی ان کی زبان سے بول رہی ہے۔ خواجہ آصف جو چھوٹے بڑے بھائی کی عدم موجودگی میں پارلیمانی لیڈر اور جواب دہ ہیں، بوکھلائے بوکھلائے اور شرمندہ شرمندہ تھے، وہ یہی کہتے رہے کہ انہوں نے قیادت کا حکم مانا، زچ ہو کر کہا شہبازشریف واپس آجائیں تو وہی اس سوال کا جواب دیں گے۔ خواجہ آصف کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے قائد جماعت محمد نوازشریف کے حکم کی تعمیل کی محلِ عقل ہے کہ یہ نواز بیانیئے اور ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے سے بالکل الٹ ہوا ہے اور خاموشی سے چھوٹے میاں کا بیانیہ بروئے کار آیا ہے۔ یوں اس تمام تر صورت حال میں فائدہ تحریک انصاف اور نقصان مسلم لیگ (ن) کو ہوا ہے اگرچہ ہمارے خیال میں تو اس فیصلے نے پارلیمانی پارٹی بچا لی اور پس پردہ قوتوں نے ترس کھایا ورنہ ان کے لئے فارورڈ بلاک بنا لینا کیا مشکل ہے؟ البتہ ہمارے دل کو یہ بات لگی کہ خواجہ آصف نے بڑی حقیقت تسلیم کر لی اور کہا کہ عوام کو یہ سب پسند نہیں آیا اور مسلم لیگ(ن) گھاٹے میں رہی۔

اب ذرا پاکستان پیپلزپارٹی کو ملاحظہ کر لیں کہ بلاول بھٹو زرداری خود اپنے الفاظ کو کھانا نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی میاں رضا ربانی کی طبیعت مائل ہوئی چنانچہ قومی اسمبلی سے بلاول بھٹو خود اور سینٹ سے میاں رضا ربانی غیر حاضر رہے اور ان کی موجودگی میں تینوں بل با آواز بلند Ayes کہنے سے منظور ہو گئے یوں یہ مسئلہ حل ہو گیا جو بلاوجہ تنازعہ بن گیا تھا، حزب اقتدار والے خوشی منا رہے ہیں اور اب وہ بھی صدر ٹرمپ کی طرح امن کی بات کررہے ہیں، لیکن دل سے تو ان کو بھی علم ہے کہ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا، اگرچہ یہ بھی کھلا راز ہے تاہم پیپلزپارٹی نے یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کیا اور خود کو لاچار اور بے بس پایا۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے یکے بعد دیگرے جو فیصلے کئے ان کی وجہ سے حزب اختلاف کی سیاست کو بڑا دھچکا پہنچا ہے اور یقینا عوام کے دل میں بھی یہ حقیقت اجاگر ہو گئی”لِسی سِیں تاں لڑی کیوں؟“

جہاں تک مسلح افواج کے سربراہوں کی ملازمت کے حوالے سے تقرری اور توسیع والے بلوں کا سوال ہے تو کسی بھی لمحے کسی نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اگرچہ یہ بھی مصلحت آمیزیاں ہی تھیں مگر پیپلزپارٹی والے چاہتے تھے کہ یہ فیصلہ پارلیمان میں بحث کے بعد ہو اور اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمانی رہنماؤں کو یہ حق ملے کہ وہ اپنی تجاویز پیش کر سکیں، اس کی بنیادی وجہ بھی برسراقتدار پارٹی کے قانونی مشیروں کی ’ٹامک ٹوئیاں“ اور واضح آرڈیننس یا بل بنانے کی ”اہلیت“ کا سوال تھا، اس میں شک کی وجہ وہ سب نوٹیفکیشن اور سمریاں تھیں جو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کے لئے جاری ہوئیں اور بالآخر عدالت عظمیٰ نے اس پر ”اہلیت“ والی مہر بھی لگا دی، اب معاملہ تو واضح تھا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں ہی قانون مرتب کرکے مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کر لیا جاتا، لیکن یہاں بھی انا آڑے آئی اور آرڈیننس سے کام چلانے کی کوشش کی گئی۔ معاملہ اس وجہ سے بگڑا اور پیپلزپارٹی کو موقع ملا کہ وہ واضح موقف اختیار کرسکے، چنانچہ اپوزیشن کے دباؤ پر ہی یہ فیصلہ کرایا گیاکہ یہ مسئلہ متفقہ طور پر ہی حل کرایا جائے کہ کسی کو نفس مضمون سے اختلاف نہیں، اختلاف ڈرافٹنگ پر ہے۔

چنانچہ اگر مسلم لیگ (ن) نے بالکل چت ہونے کا عمل کیا تو پیپلزپارٹی نے پارلیمانی روائت پر زور دیا، یہ صورت بھی قابل قبول نہیں تھی اور سب کچھ ”مرضی“ کے مطابق ہونا چاہیے تھا جو ہوا، اور پیپلزپارٹی کی حکمت عملی بھی دھری کی دھری رہ گئی اور اسے بھی بلوں میں پیش کی جانے والی تجاویز / ترامیم واپس لیتے ہی بنی اس ساری صورت حال نے سب پر سب کچھ واضح کر دیا اور کچھ ابہام نہیں رہا، سیاسی جماعتوں کی حیثیت اور مجبوری بھی سامنے آ گئی۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ اس ساری صورت حال کا عوام پر اچھا تاثر نہیں بنا اور سیاست کو نقصان ہوا ہے، اب نئی صورت حال ہے اور اسے آپ سب ”نیا پاکستان“ بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ سب اسی تنخواہ پر کام کر رہے اور اعلان کرکے کررہے ہیں تو پھر عوامی مسائل کے لئے یہ سب سرجوڑ کر کیوں نہیں بیٹھ جاتے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ اب احتساب اور لوٹی دولت واپس لانے کا کیا بنے گا؟

ہم نے بوجوہ ہمیشہ درخواست کی کہ قومی مسائل طے کرکے ان پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ آج بھارت کی ”درندگی“ مودی کے ”ہندوتوا“ کے منصوبے نے جو صورت حال پیدا کی وہ بہت ہی تشویشناک ہے۔پہلے سوال صرف 90لاکھ کشمیریوں کا تھاجن کو اب تمام سہولتوں اور انسانی حقوق سے محروم کرکے محبوس کیا گیا ہوا ہے اور اب تو مزید 22،23کروڑ مسلمان بھی شامل ہو گئے جو پہلے ہی ایک درجہ دوم والی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ ان کو زندہ جلایا گیا اور گؤ رکھشا کے نام پر قتل کیا گیا تو اب ان سب کو دیش سے نکالنے یا ہندو دھرم اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور شہریت بل کی تلوار لٹکا کر ان کے بھی سبھی حقوق چھین لئے گئے ہیں۔اس پر کنٹرول لائن کا محاذ گرم ہے۔ یوں پاکستان کو نہ صرف اپنی سلامتی، داخلی استحکام اور عوام کو غربت اور غریب تر ہونے سے بچانے کا معاملہ درپیش ہے، بلکہ سلامتی کو خطرات الگ ہیں، اگرچہ امریکہ ہمارے اردگرد موجود ہے لیکن وہ ایٹمی پاکستان کو ناپسند کرتے ہوئے بھی خود کچھ نہ کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے لیکن بھارت اور افغانستان کو اس کی پوری پوری شہ تو ہے

یوں ہمیں اور ہمارے محترم رہنماؤں کو ادراک ہونا چاہیے اور عمل اسی کے مطابق، ہمارے یقین کے مطابق یہ سب مکمل قومی اتفاق رائے کا تقاضا کرتا ہے اور حکومت پاکستان سے یہ توقع رکھتا ہے کہ بلاشک امریکہ اور ایران کشیدگی کو کم کرانے کی کوشش کریں لیکن یاد رکھیں کہ اس سے بڑا کام مسلم امہ کو متحد کرنے کا ہے اور یہ اتحاد ہی اسلامی ممالک کو مسائل سے نجات دلا سکتا ہے۔ عراق، شام، یمن اور افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر اپنے اختلافات کو دور کرنا ضروری ہے اور یہ موقع اب ایران کی ثابت قدمی نے مہیا کر دیا ہے کہ وقتی طور پر ہی سہی جنگ کے خطرات کچھ دور ہوئے ہیں۔ ایران کے مضبوط کردار نے صدر ٹرمپ کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ جنگ کی بجائے واپس پھر سے ڈپلومیسی کی طرف آ جائے، لہٰذا اب وقت ہے کہ ہم اپنے اندر مکمل یکجہتی پیدا کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...