پاکستانی معیشت کی بحالی اور مشکلات

پاکستانی معیشت کی بحالی اور مشکلات
پاکستانی معیشت کی بحالی اور مشکلات

  



پاکستانی معیشت کی بحالی میں بے شمار مشکلات ہیں۔ جن میں بیرونی قرضہ، اندرونی خسارے کو دور کرنا، صنعتوں کی بحالی، تجارت کی ترقی کے لئے اقدامات، زرعی ترقی، صنعتی ترقی و استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی ملک کی معیشت نہ تو مضبوط ہو سکی اور نہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکی۔ اقتدار میں آنے والے حکمرانوں نے ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں پر عمل کیا،جس سے معیشت کے تمام شعبہ جات کمزور سے کمزور ترہوتے گئے۔ معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے جہاں مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں مستقل بنیادوں پر لانگ ٹرم منصوبوں پر عمل درآمد بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہ وطیرہ غلط ہے کہ حکومت پچھلی حکومتوں پر معیشت کا بوجھ ڈال دیتی اور تمام الزامات لگائے جاتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں لانگ ٹرم منصوبوں کو ختم نہیں کیا جاتا،بلکہ جاری منصوبوں کو جاری رکھا جاتا ہے اور مکمل کیا جاتا ہے،جس سے پیسا ضائع نہیں ہوتا۔ پاکستانی معیشت کے لئے مثبت اور دیرپا منصوبے بنانے کی ضرورت ہے،جس سے ملک ہمیشہ کے لئے مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو،پاکستانی عوام خوشحال زندگی بسر کریں اور مضبوط معاشی خاندانوں کا وجود عمل میں آئے۔ وسائل کی کمی نہیں، لیکن وسائل کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کے لئے سیاست بازی کو چھوڑ کر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کا کہنا ہے تجارتی خسارے میں 32 فیصد کمی کی، جبکہ مالیاتی خسارے میں 35 فیصد کمی کی اور ریونیو میں 16 فیصد اضافہ کیا گیا۔رواں مالی سال میں تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5 اعشاریہ 7 ارب ڈالر ہو گیا۔ایکسپورٹ سیکٹر کو تمام شعبوں میں سبسڈی دی جا رہی ہے، 3 مہینے میں اسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا، 5 لاکھ نئے لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لایا گیا، ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے، آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 10 ارب ڈالر ملے۔مالی سال کے پہلے 3 مہینے میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ملازمتوں میں اضافے کی کوشش کی گئی ہے۔

پچھلے سال ماضی کی نسبت ڈیڑھ لاکھ اضافی لوگ ملازمت کے لیے ملک سے باہر گئے۔حکومت کے اخراجات کم کیے گئے، سویلین حکومت کے اخراجات میں 40 ارب روپے کمی کی گئی، وزیراعظم آفس کے اخراجات میں بھی کمی کی گئی۔ ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد تک رکھنے کے لیے کئی ارب ڈالر ضائع کیے گئے، 3 ماہ سے ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے، کوشش کی ہے کہ ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کے تحت ہو۔پاکستان کی معیشت سے متعلق بیرونی سرمایہ کار پُراعتماد ہو گئے۔حکومت نے برآمدی سیکٹر کی مدد کی جس کے نتائج آنے لگے ہیں۔ گزشتہ 5سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، فیکٹریز میں سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، ملازمتیں نکلیں گی، جنوری تا اگست 2019ء تک 3 لاکھ 73 ہزار افراد ملازمتوں کے لیے بیرون ملک گئے ہیں۔ حکومت کے پاس ہر انڈسٹری کی مدد کے وسائل نہیں، کوشش ہے کہ 5 بڑے برآمدی سیکٹرز کی مدد کی جائے، معیشت کے مشکل فیصلوں سے بہتری آ رہی ہے۔ پی ایس ڈی پی کے لئے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال زیادہ فنڈز جاری کیے گئے۔اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز کے لئے آئندہ 2 ہفتوں میں پالیسی آ رہی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ برآمدی شعبے میں دیگر شعبوں کو شامل کیا جائے۔جو بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں،عوام کے فائدے کے لیے کر رہے ہیں، پیٹرول کی قیمت اس لیے نہیں بڑھی، کیونکہ کرنسی میں استحکام آیا ہے، حکومتی پالیسیوں سے معیشت میں استحکام آگیا ہے، جس کا عوام کو فائدہ ہوگا۔بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے، دبئی حکام سے اقامے کے غلط استعمال پر بات ہوئی ہے۔یو اے ای کو یہ نہیں کہہ رہے کہ اقامہ پالیسی بدلے، دبئی لینڈ اتھارٹی جائیدادوں کی معلومات فراہم کرے گی، اب اقامے کا غلط استعمال نہیں ہو سکے گا۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارے میں 34اعشاریہ85 فیصد کمی ہوئی ہے۔ادارہ شماریات نے مالی سال 20-2019ء کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارے کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کر دیئے ہیں۔ادارہ شماریات کے مطابق تجارتی خسارہ جولائی سے ستمبر تک 5 ارب 72 کروڑ ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال اس دورانیہ میں تجارتی خسارہ 8 ارب 79 کروڑ ڈالر تھا۔پہلی سہ ماہی کے دوران برآمدات میں 2اعشاریہ75 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، اور پہلی سہ ماہی میں برآمدات 5 ارب 52 کروڑ ڈالرز رہیں۔رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں درآمدات میں 20اعشاریہ59 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور جولائی تا ستمبر درآمدات 11 ارب 25کروڑ ڈالرز رہیں۔ستمبر 2019ء میں برآمدات میں 2اعشاریہ67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو ایک ارب 77کروڑ ڈالر رہیں،

جبکہ ستمبر میں درآمدات میں 13اعشاریہ90 فیصد کمی ہوئی اور درآمدات 3 ارب 78 کروڑ ڈالر رہیں، تجارتی خسارہ 2 ارب ڈیڑھ کروڑ ڈالرکم ہوا۔ عالمی بینک کے کاروبار کے حوالے سے سالانہ رپورٹ میں پاکستان 108ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ عالمی بینک کی ڈوئنگ بزنس رپورٹ 2020ء کے مطابق پاکستان کاروبار میں آسانی کی درجہ بندی میں 28 درجے بہتری کے ساتھ 136ویں نمبر سے 108ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ پاکستان کاروباری اصلاحات کرنے والے 10 بڑے ممالک کی فہرست میں بھی شامل ہو گیا ہے۔ اس لسٹ میں پاکستان چھٹی پوزیشن پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی درجہ بندی میں نیوزی لینڈ پہلے، سنگا پور دوسرے اور ہانگ کانگ تیسرے نمبر پر ہیں، جبکہ ڈنمارک، کوریا، امریکہ، جارجیا، برطانیہ، ناوے اور سویڈن بھی پہلے 10ممالک کی درجہ بندی میں شامل ہیں۔

مزید : رائے /کالم