خبردار!پرائی آگ اپنے گھر مت لائیں

خبردار!پرائی آگ اپنے گھر مت لائیں
خبردار!پرائی آگ اپنے گھر مت لائیں

  



پاک فوج کے ترجمان نے 5 جنوری کو واضح کیا: ”پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا“۔ اگلے روزاس بیان کی اقتدا میں وزیرخارجہ نے بھی اسی سے ملتا جلتا تائیدی بیان دیا۔دونوں کی تقدیم و تاخیر کی بحث میں پڑے بغیراطمینان کا سانس لیا جا سکتا ہے۔ دونوں بیان ایک ردِعمل کا ردِعمل کہے جا سکتے ہیں۔ 3 جنوری کو ایک امریکی حملے میں ایرانی القدس بریگیڈ کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایرانی ردِعمل فطری تھا۔ ابھی مَیں خبر کے مختلف زاویوں پر تبصروں کی تلاش میں تھا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان میں مقیم ”ایرانیوں“نے افواہیں پھیلانا شروع کر دیں کہ امریکہ نے پاکستانی فوج کے سربراہ سے ایران کے خلاف سہولتیں مانگی ہیں۔ جواب میں پاکستان ہی میں مقیم ”سعودیوں“ نے ترکی بہ ترکی پورا مشاعرہ بپا کر ڈالا۔ چوبیس گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ کراچی میں ملت تشیع پاکستان نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کی جس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی،ایم ڈبلیو ایم سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی اور متعدد دیگر نے خطاب کیا۔ لب لباب یہ تھا: ”اگر پاکستان کی سرزمین کو برادر پڑوسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم پاکستان بھر میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے،پھر کوئی اہل سنت یا شیعہ اپنے گھر نہیں بیٹھے گا، بلکہ امریکی مفادات کے خلاف قیام کرنا لازم اور َضروری ہو جائے گا“……اس کے بعد تو سوشل میڈیا پر توتکار کا ایک طوفان بپا ہو گیا۔ ایک دانشور نے اس کے جواب میں لکھا: ”ویسے یہ ایرانی جنرل صاحب بغداد میں کیا کرنے گئے؟…… بات بہت سادہ ہے۔ دو ڈاکو ایک گھر میں ڈاکہ مارنے گھسے۔ اس دوران ایک ڈاکو قتل کر دیا گیا، تاکہ وہ اکیلا ڈاکہ مار سکے۔کون سا ڈاکو غلط تھا اور کون سا صحیح؟ یہ ہے امریکہ اور ایرانی جنرل سلیمانی کی کہانی“۔

اس تلخ تمہید کے بعد آئیے آپ کے لئے اپنے ماضی کا ایک دریچہ کھولا جائے، لیکن اس دریچے میں جھانکنے سے قبل آپ ذرااپنے اردگرد، محلے، خاندان، برادری کا جائزہ لیں۔ جس گلی میں آپ مقیم ہیں، اس میں سنی شیعہ دونوں باہم عزت و احترام کے ساتھ مقیم ہیں۔ جس محلے میں آپ رہ رہے ہیں، اس میں بھی یہ دونوں مکتب فکر صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ آپ کو اپنے اردگرد کئی خاندان مل جائیں گے جن میں میاں ایک مسلک کا تو بیوی کسی دوسرے کی ہو گی۔ ان کی اولادیں بھی اسی طرح کی مسلکانہ تقسیم کا شکار ہوں گی۔ مزید غور کریں، تیس چالیس سالہ افراتفری میں ملک کے اندر کیا کچھ نہیں ہوا۔ کبھی سپاہ صحابہ نے کارروائی کی تو اگلے ہفتے سپاہ محمد نے ڈیوڑھا بدلہ چکا دیا۔ اس کے بعد سیر کو سوا سیر کے مصداق اوّل الذکر نے معاملہ برابر کر دیا۔ علیٰ ہذا القیاس! ذرا اور غور کرنا پڑے گا…… آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ ان تمام وارداتوں کے ردِعمل میں میرے آپ کے گلی محلے میں ہمارے آپ سب کے تعلقات پر رتی برابر اثر نہیں پڑا۔اہل تشیع اور اہل سنت میں مسلکی بُعد یا تنازعہ ان وارداتوں کے سبب کبھی گہرا نہیں ہوا۔ آج تک یہ دونوں ایک ہی گلدستے میں پروئے پھولوں کی مثل ہیں اور خوشبوئیں بکھیر رہے ہیں۔ مجھے آپ کو نہ تو کبھی سپاہ صحابہ سے سروکار رہا، نہ سپاہ محمد نے ہم دونوں کے دل میں جگہ بنائی۔

شعور کی آنکھ جن بزرگوں کی گود میں کھولی، ان میں تایا حکم چند آنند اور تایا سید مہربان علی رضوی رابطہ سیکرٹری آل پارٹیز شیعہ فیڈریشن و مجلس عمل علماء شیعہ پاکستان شامل تھے۔ یہ دونوں بزرگ میرے والدصاحب کے جگری دوست تھے۔میرا یہ شیعہ تایا قائداعظمؒ کے ساتھ اپنی تصویر سے مزیّن لیٹر پیڈ پر اپنے 11 اگست 2003ء کے خط میں میرے نام یوں رقم طراز ہے:”آپ کے والد میرے جگری دوست ہیں …… حالات خواہ کچھ بھی ہوں، ہم دونوں چائے شام کے وقت اسلامیہ ہوٹل راجہ بازار میں پیتے۔ لوگ ہماری دوستی پر حیران ہوتے کہ یہ لڑتے بھی ہیں، مگر……“ والد مرحوم کے ایک اورشیعہ دوست سید مقبول شاہ تھے، جن کی شادی کے گواہ میرے والد صاحب تھے۔ والد صاحب کے ان شیعہ دوستوں کی تیسری نسل سے بھی ہم سب بھائیوں کے وہی تعلقات ہیں، جیسے والدصاحب کے تھے۔ اسی شیعہ خاندان کے ایک معزز رکن یہاں اسلام آباد میں ہماری گلی میں دو مکان چھوڑ کر رہتے ہیں۔ والد صاحب کی وفات پر ان کے قریب و دور کے لوگ تعزیت کے لئے اسی طرح آتے رہے،گویا ان کا اپنا کوئی فوت ہو گیا۔

دفترمیں میرا اسسٹنٹ کوثر اہل تشیع میں سے تھا۔ ان کی ترقی ہوئی تو نئی ترقی یافتہ جگہ نہ ہونے کے سبب انہوں نے لکھ کر دے دیا کہ مجھے ترقی نہیں چاہیے۔ مَیں نے اسی جگہ میرے ہی پاس رہنا ہے۔ اللہ بھلا کرے ڈائریکٹر ایڈمن کا انہوں نے کوثر کوترقی بھی دلا دی اور وہ رہے بھی میرے ہی پاس۔ انہوں نے 23 سال میرے ساتھ ہی گزارے،تاوقتیکہ مَیں ریٹائر ہو گیا۔ کچھ احوال میرے حال کے بھی! قم کے فارغ التحصیل اور اہل تشیع کے قدآور ادیب، شاعر اور منجھے ہوئے عالم دین جناب ثاقب اکبرصاحب کے ماہانہ مجلے ”پیام“ کی مجلس مشاورت میں یہ خاکسار گزشتہ ایک عشرے سے ہے۔ کبھی موقع ملے تو مَیں ان کے لئے کچھ لکھ بھی دیتا ہوں۔ اہل تشیع ہی کے ایک اور منجھے ہوئے راہنما اور عالم دین جناب آغامرتضیٰ پویا صاحب نے اہل دانش کا ایک گروپ وضع کیا تو اس کے اجلاس یہاں اسلام آباد میں ان کی قیام گاہ پر ہوتے ہیں۔ ان کی محبت ہے کہ دیگر سنیوں کے ساتھ یہ خاکسار بھی گروپ کا ایک رکن ہے۔ متعدد بار ان کا نمک کھا چکا ہوں …… اب آپ کو مَیں تیسری نسل کی طرف لے چلتا ہوں۔ بیٹے سے پوچھتا ہوں کہ اپنا بہترین دوست (Best Friend) بتاؤ! تو وہ ایک ہی نام الاپتا ہے: ”پتا ہی ہے آپ کو ڈاکٹر زہیر“! جھنگ کے اہل تشیع خاندان کے اس ڈاکٹر زہیر کا یہ حال ہے کہ یہاں اسلام آباد میں اس نے اپنا باپ سمجھ کر اپنے جملہ مالی معاملات میرے سپرد کر رکھے ہیں۔ اپنے بیٹے کو ڈانٹوں تو منہ بنا لیتا ہے، لیکن زہیر کا یہ حال ہے کہ دن میں فون پر کئی بار میری ڈانٹ سہتا ہے اور شام کو پھر وہی انکل انکل کی گردان کر رہا ہوتا ہے

اور میرا جواب ”او انکل کے گھوڑے!“ سن کر نئے سر ے سے ہنس پڑتا ہے۔

اب بھلا بتائیے عرب، ایران کی یہ پرائی آگ اپنے گھرپاکستان میں لا کر اس خوبصورت معاشرتی تانے بانے کو برباد کرنا کیا ضروری ہے؟ نہیں صاحب، ہمیں اپنے خوبصورت رشتے، اپنے خوبصورت تعلقات اور اپنے گلی محلے سے پیار ہے۔ اپنے اس معاشرتی تانے بانے کا احترام کریں، اسے تباہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔عرب، ایران کی یہ پرائی آگ اپنے گھرمت لائیں۔ایران کے ایک جنرل صاحب مارے گئے، جس کا مجرم امریکہ ہے۔ اسی مجرم امریکہ نے پاکستانی سرزمین سے اسی نبی ﷺ کے لاکھوں امتی ہمارے ہی وجود کے حصے افغانستان میں مار ڈالے۔ تب امت مسلمہ کے اس عضو لاچار افغانستان کے لئے کتنے سنی نکلے تھے اور کتنے اہل تشیع نے پاکستان میں امریکی مفادات پر حملے کیے تھے؟ ارے صاحب حملے ہی کرنا تھے تو اپنی شہہ رگ کے ہندوستان کے ہڑپ کرتے وقت ہندوستانی مفادات پر کرتے۔ آج کی تاریخ تک میرے علم میں امت مسلمہ ایک ہی ہوا کرتی تھی۔ معلوم ہوا، نہیں صاحب! یہ امت بھی شیعہ سنی میں دو لخت ہو چکی ہے۔ افغانستان کو تورا بورا بناتے وقت امریکی مفادات پر آپ کیوں حملہ آور نہیں ہوئے؟کیا وہ امت مسلمہ نہیں تھی؟ بولئے؟ پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے؟ پلیز یہ پرائی آگ اپنے آنگن میں مت لائیے، سارا معاشرتی تانا بانا برباد ہو جائے گا۔ یہ آگ گھر گھر، گلی گلی، محلے محلے، قریہ قریہ، کوبہ کو پھیل کر ہمارا وجود بھسم کر جائے گی۔

یہ مت سمجھ لیں کہ مَیں برادر پڑوسی ملک کے خلاف امریکہ کو اپنی سرزمین میں سہولتیں دینے کے حق میں ہوں۔ لاحول ولا قوۃ! میرا نقطہ نظروہی ہے جو افغانستان کو یہ سہولتیں دیتے وقت تھا۔ اس باب میں مَیں سنی ہوتے ہوئے بھی سنی نہیں ہوں۔ پاکستان کے عوام، اس مملکت کا تانا بانا دنیا بھر سے الگ ہے۔ پریس کانفرنس کرنے والے پاکستان میں ان ایرانیوں کو مَیں یاد دلا دوں کہ امام خمینی کے انقلاب کے وقت پاکستان کے اہل دانش و عوام نے بلاتفریق مسلک اس انقلاب کا خیرمقدم کیا تھا۔ یہی پاکستانی شیعہ سنی عوام بلاتفریق مسلک مرسی کی شہادت پر بھی اسی طرح تڑپ اٹھے تھے۔ اسامہ کے میزبان ملا عمر کے لئے دعاگو افراد بھی لاکھوں میں نہیں، کروڑوں میں ہیں، لیکن تب نہ اہل سنت میں سے کسی نے پاکستان کے اندر امریکی مفادات پر حملے کیے اور نہ اب ایرانی جنرل کی موت پر کسی کو عرب ایران کی پرائی آگ سے ہمارے اپنے درو دیوار بھسم کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

کاش یہ حملہ آور قسم کے جنگجو اپنے ہی ایک ہم مسلک کی پیروی کرلیں۔بی بی سی کے سابق صداکار رضا علی عابدی نے کچھ سال قبل شام کے المیہ پر ایک بھرپور کالم لکھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ مجھ سے بھی ایک قدم آگے ہیں کہ انہوں نے مذہب و مسلک کو بالائے طاق رکھ کر اسے انسانیت کی موت قرار دیا تھا۔ مَیں نے عشروں بعد ایک خوبصورت تحریر پڑھی جس میں انہوں نے شام کے حکمرانوں، باغیوں، دراندازوں سب کو شامی عوام اور بیرون ملک پناہ گزینوں کے مسائل کا ذمہ دار قرار دے کر بے پناہ رنج و الم کا اظہار کیا تھا۔کاش ہم سب یہ کچھ شیعہ سنی کسی بھی مسلک کے فرد سے سیکھ لیں …… امریکہ نے عرب حکمرانوں کو ایران سے ڈرا ڈرا کر ان کے مال و دولت کے معتدبہ حصے اور وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اِدھر ایران اپنی مسلکی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی بدولت امریکہ کے لئے مسلسل سہولتیں پیدا کر رہا ہے۔ عرب حکمران ہوں یا ایران کے حاکم ……پاکستان کے عوام ان دونوں سے لاتعلق ہیں۔ پاکستان میں مقیم مسلکی فکر رکھنے والے ”عربوں“ اور ”ایرانیوں“ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس پرائی آگ سے پاکستان میں اپنے دروبام کو نہیں جلائیں گے۔ ہمیں اپنا مفاد اور ایک ہی امت کا مفاد عزیز ہے۔ ہمیں اپنے خوبصورت رشتے، اپنے خوبصورت تعلقات، اپنے گلی محلے سے پیار ہے۔ اپنے اس خوبصورت معاشرتی تانے بانے کا احترام کریں، اسے تباہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔

مزید : رائے /کالم