حکومتی کارکردگی اور میڈیا کا آئینہ

حکومتی کارکردگی اور میڈیا کا آئینہ
حکومتی کارکردگی اور میڈیا کا آئینہ

  



پنجاب میں ایک اور میڈیا سٹرٹیجی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے،جس میں بارہ ممبران شامل ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اس کمیٹی کا جو نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، اس میں لکھا ہے کہ عزت مآب وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی منظوری کے بعد یہ میڈیا سٹرٹیجی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس کمیٹی کے کنوینرخود صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان ہیں۔ اس کمیٹی میں آٹھ صوبائی وزراء بھی شامل ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ صوبائی حکومت میڈیا کے محاذ پر خاصی کمزور جا رہی ہے اور اب اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے یہ میڈیا کمیٹی بنائی گئی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس سے پہلے پنجاب حکومت کے پندرہ ترجمانوں کی بھی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی، جس کا مقصد یہ تھا کہ پنجاب حکومت کا امیج بہتر بنانے کے لئے تابڑ توڑ حملے کئے جائیں اور میڈیا ہر وقت پنجاب حکومت کی کارکردگی کے بخار میں مبتلا ہو جائے۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے، میڈیا اس کے قابو میں نہیں آ رہا۔ وزرائے اطلاعات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ترجمانوں اور کمیٹیاں بنانے جیسے اقدامات بھی اٹھائے گئے،لیکن بیل ہے کہ منڈھے ہی نہیں چڑھ رہی اور یوں لگ رہا ہے کہ حکمرانوں کی تعریفوں کے جو پل باندھے جانا چاہئیں تھے، وہ نہیں باندھے جا رہے۔ میڈیا ہے کہ بار بار بے لگام ہوا جاتا ہے اور کمیٹیاں ہیں کہ بار بار بنانا پڑ رہی ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو اپنی وفاقی حکومت کی کوئی فکر نہیں، انہوں نے پندرہ ماہ میں وفاقی سطح پر کسی میڈیا کمیٹی کی ضرورت محسوس نہیں کی، البتہ پنجاب کی انہیں بہت فکر ہے۔ پنجاب حکومت کا امیج بہتر بنانے کے لئے ان کی ہدایت پر یہ میڈیا سٹرٹیجی کمیٹی بنائی گئی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ پنجاب حکومت کی کارکردگی سے زیادہ اس کا امیج بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ کیا کارکردگی کے بغیر امیج بہتر ہو سکتا ہے؟ کیا جو آٹھ صوبائی وزراء اس کمیٹی میں شامل کئے گئے ہیں، وہ اپنی وزارتوں پر بھی توجہ دیں گے یا ان کی ساری توجہ میڈیا پر مرکوز رہے گی؟ ویسے حالات ایسے ہیں کہ حکومت کی تعریف کرنا اب بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی کے مارے عوام ہر طرف دہائی دے رہے ہیں، دو وقت کی روٹی کا مسئلہ بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی کو نیچے لائے، ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں پر گرفت کرے، مگر کسی بھی ضلع کی انتظامیہ یہ کام نہیں کر رہی، کیونکہ اسے ڈر ہے کہ بے جا چھاپوں اور سختی سے کہیں اشیائے خورو نوش مارکیٹ سے غائب ہی نہ کر دی جائیں۔ جب یہ اشیاء بھی ٹماٹروں کی طرف نایاب ہو کر مہنگی ہو جائیں گی، تو حکومت پھر منتیں کرے گی کہ اشیاء کو مارکیٹ میں لاؤ، ہماری عزت بچاؤ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو پنجاب میں کامیاب دیکھنے یا کم از کم میڈیا میں دکھانے کے لئے کپتان کو کتنی فکر ہے۔ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بدلا گیا ہے، عثمان بزدار کی بار بار تعریف کی ہے، اب میڈیا میں مثبت امیج کے لئے ایک بارہ رکنی کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے۔ کیا اب یہ معجزہ ہو جائے گا؟ عثمان بزدار کی گڈ گورننس کے ڈنکے بجنے لگیں گے، عوام سکھ کا سانس لیں گے، میڈیا ان کے گن گائے گا، انہیں واقعی شیر شاہ سوری ثابت کرے گا؟ ارے بھارئی کس دنیا میں رہتے ہو، کس خمار میں ہو، حالات تو بہت دگرگوں ہیں، لوگ تو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔

پنجاب میں کسانوں کی زندگی کس نے اجیرن کی ہے، یہ گنا کاشت کرنے والے کیوں اپنے کھیت جلا رہے ہیں، کون لوگ ہیں جو اتنا ظلم کر رہے ہیں، انہیں کسی کی فکر نہیں؟ پنجاب حکومت کی کیا یہ ذمہ داری نہیں کہ گنے کی خریداری اور اس کی مناسب قیمت کو یقینی بنائے؟ کیوں یہ کہا جا رہا ہے کہ جہانگیر ترین اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور ان کے آگے کسی کی نہیں چل رہی۔ جنوبی پنجاب میں خاص طور پر گنے کے کاشت کاروں کے ساتھ ظلم جاری ہے، ان کا گنا خشک ہو رہا ہے، ملیں خریدنے کو تیار نہیں۔ اب اس صورت حال میں وہ کون سی کمیٹی ہے جو حکومت کی تعریفوں پر میڈیا کو مجبور کر سکے۔ لوگ سڑکوں پر نہیں آ جائیں گے؟ حیرت ہے کہ ابھی تک عثمان بزدار کا اس حوالے سے ایک بھی بیان نہیں آیا، ایک بھی وارننگ انہوں نے نہیں دی، کسی نے یہ نہیں کہا کہ گنے کے کاشتکاروں پر ہونے والے ظلم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کی فصل کا ایک ایک گنا خریدیں گے۔ اب زمینی حقائق تو اتنے مایوس کن ہیں اور ساری توجہ میڈیا کو کنٹرول کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ میڈیا کیا کاٹھ کا گھوڑا ہے کہ جسے جیسے چاہے چلایا جا سکے، کیا اس کی آنکھیں اور کان نہیں، کیا وہ عوام کو جوابدہ نہیں ہوتا، کیا اسے قابو میں رکھنے کی ایسی تدابیر کامیاب ہو سکتی ہیں، جو زمینی حقیقتوں کے برخلاف ہوں ……کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم عمران خان کوئی ایسی کمیٹی بناتے جو پنجاب حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھتی، جو صوبائی وزراء کے محکموں کی مانیٹرنگ کرتی، جو عوام کو ریلیف نہ دینے والے محکموں کی نشاندہی کر کے وزیر اعظم کو ان کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کرتی۔ صوبائی وزیر اطلاعات سمیت 9 وزراء کو میڈیا سٹرٹیجی کمیٹی میں ڈال کر یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وزراء کی کارکردگی بہت بہتر ہے، بس میڈیا میں اس کی پروجیکشن نہیں ہو رہی، اس لئے پروجیکشن کے لئے وزراء اپنا زور لگائیں۔

اس میڈیا کمیٹی میں صحت کی صوبائی وزیر یاسمین راشد بھی شامل ہیں، مَیں سوچ رہا ہوں کہ پنجاب میں ہسپتالوں کی جو حالت ہو گئی ہے اور جس طرح مریضوں کو سوائے دھکوں کے سرکاری ہسپتالوں سے کچھ نہیں مل رہا، اس صورت میں صوبائی وزیر کو ساری توجہ اس صورتِ حال کو بہتر بنانے پر دینی چاہئے یا وہ اس کام میں الجھ جائیں کہ میڈیا کیا کہہ رہا ہے،کیا چھاپ رہا ہے؟ میڈیا تو وہی دکھائے گا، وہی چھاپے گا جو زمین پر نظر آ رہا ہے۔ بدلنا ہے تو اُسے بدلا جائے نہ کہ یہ کوشش کی جائے کہ میڈیا کسی طرح کالے کو سفید کہنا شروع کردے۔ میرا خیال ہے کہ حکومت کسی وژن کے بغیر چل رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے چند روز پہلے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ مثال دی کہ جب کسی کا آپریشن ہوتا ہے تو اسے بڑی تکلیف ہوتی ہے، تاہم اس تکلیف کے بعد اسے جو آرام ملتا ہے، اس پر وہ بہت خوش ہوتا ہے۔ اس وقت ہم ملک میں معیشت کا آپریشن کر رہے ہیں، جس سے عوام کو تکلیف ہو رہی ہے، لیکن جلد ہی وہ راحت محسوس کریں گے۔

اب کوئی بتائے کہ وزیر اعظم کے اس بیانیہ کا کوئی بھی میڈیا کمیٹی کیسے دفاع کر سکتی ہے؟ وہ تو بار بار یہ بھی کہتے ہیں کہ عوام نے گھبرانا نہیں ہے، بجلی کے بلوں میں ایف پی اے سرچارج لگا کر حکومت جو تاریخی ظلم کر رہی ہے، اس کے بعد تو وزیر اعظم کی یہ بات ایک نشتر کی طرح عوام کے دلوں پر لگتی ہے۔ اب بات گھبرانے سے تو بہت آگے جا چکی ہے۔ اب تو عوام کا دم گھٹنے لگا ہے۔ اس گھمبیرتا سے نکلنے کے لئے یوٹیلٹی سٹور، راشن کارڈ اور پناہ گاہوں کے فارمولے پیش کئے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ تو بہت پہلے پٹ چکا ہے۔ ان سے چند فیصد کو ریلیف ملتا ہے، کروڑوں پاکستانی تو کسمپرسی میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ سامنے کی حقیقت ہے، جسے بدلنے کی بجائے لگتا ہے حکومت میڈیا کے آئینے کو تبدیل کرنا چاہتی ہے، تاکہ وہ آنکھیں بند کرلے اور سب اچھا کی خبر دیتا رہے…… بھلا آئینہ بھی کبھی تبدیل ہوا ہے؟

مزید : رائے /کالم


loading...