ایم این اے پلوشہ زئی کا خلع کیلئے دعوی دائر، سابق جنرل ظہیر الاسلام کو نوٹس جاری 

ایم این اے پلوشہ زئی کا خلع کیلئے دعوی دائر، سابق جنرل ظہیر الاسلام کو نوٹس ...

  



لاہور(نامہ نگار)فیملی جج عبدالمنعم کی عدالت میں خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ ظہیرالاسلام کی اہلیہ نے خلع کا دعوی دائر کردیاہے،دعویٰ میں درخواست گزارپاکستان پیپلز پارٹی کی ایم این اے پلوشہ محمدزئی خان کی جانب سے حق مہر کی رقم 10لاکھ اور 5 لاکھ روپے ماہانہ خرچے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔عدالت نے ظہیر الاسلام سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کردی۔عدالت میں پلوشہ محمد زئی خان نے دائردعویٰ میں خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ ظہیرالاسلام کو فریق بنایا ہے۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ اس کی سربراہ ظہیرالاسلام سے 3 مئی 2015 کو شادی کی،نکاح میں 10 لاکھ روپے حق مہر مقرر کیا گیا، 21 اکتوبر 2015 کو ان کابیٹا شمشیر الاسلام پیدا ہوا،شادی کے بعد شوہر نے میرے اور بیٹے کے حقوق ادا نہیں کئے، شادی کے بعد شوہر نے کسی بھی قسم کی نگہداشت بھی نہیں کی، شادی کے بعد شوہر نے بچے اور میری ذمہ داری ادا نہیں کی، لمبے عرصے تک ملاقات نہ ہونے کے باعث بیٹا شمشیر الاسلام اپنے والد کو بھی نہیں پہچانتا، شوہر نے ازدواجی حقوق اور ذمہ داری بھی ادا نہیں کی، درخواست گزار نے مزید کہا کہ پہلی اور دوسری بیوی کے درمیان مساوی سلوک روا نہیں رکھا، شوہر نے شادی کے بعد سے ابتک 2 دن بھی لگاتار میرے ساتھ نہیں گزارے، ظہیرالاسلام نے ہماری شادی کو معاشرے، خاندان اور پہلی بیوی سے خفیہ رکھا، شوہر نے شادی کے بعد سے ابتک گھر لے کر نہیں دیا، شوہر کی غفلت، لاپرواہی اور عدم دلچسپی کے باعث اپنی شادی کو برقرار رکھنا ناممکن ہو رہا ہے، ظہیرالاسلام نے جی ایچ کیو میں میرا اور بچے کا ریکارڈ ظاہر نہیں کیا، ریکارڈ ظاہر نہ کرنے سے سابق فوجی افسر کی مراعات لینے سے محروم ہوں، نکاح کے وقت مقرر کئے گئے 10 لاکھ روپے حق مہر کی رقم بھی ادا نہیں کی گئی،سابق فوجی افسر ہونے کے ناطے شوہر کی ماہانہ آمدنی لاکھوں روپے ہے، عدالت سے استدعاہے کہ ان حالات میں شادی کو برقرار رکھنا ناممکن ہے اس لئے خلع کی ڈگری،حق مہر کی مقرر کی گئی 10 لاکھ روپے کی رقم اوربچے سمیت بیوی کا 5 لاکھ روپے ماہانہ خرچہ بھی ادا کرنے کا حکم دیاجائے۔

پلوشہ زئی

مزید : صفحہ آخر