ماحولیاتی آلودگی پر تمام متعلقہ محکمے یومیہ کارکردگی رپورٹ اپ لوڈ کریں: لاہورہائیکورٹ

ماحولیاتی آلودگی پر تمام متعلقہ محکمے یومیہ کارکردگی رپورٹ اپ لوڈ کریں: ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف دائر درخواستوں پرپنجاب حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کو سموگ کی بابت کئے گئے اقدامات کی پیش رفت رپورٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے حکم دیاہے کہ یہ رپورٹ روزانہ کی بنیادپر اپ لوڈ کی جائے،فاضل جج نے آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف کی گئی کارروائی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈپٹی سیکرٹری صنعت کومتعلقہ ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی ہے،فاضل جج نے لاہورمیں گندگی کی صورتحال کے بارے میں وضاحت کے لئے کمشنر لاہور کو بھی آئندہ تاریخ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے،عدالت نے کابینہ کمیٹی کی رپورٹ پر حکومتی محکموں کو عمل درآمد کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیاہے،عدالت نے واسا سے سیوریج پلانٹس کی حالت زار جبکہ محکمہ زراعت سے فصلوں کی باقیات جلانے اور کیڑے مار ادویات کے حوالے سے ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے رپورٹ طلب کی ہے،عدالت نے ساہیوال کول پلانٹ کی مانیٹرنگ رپورٹ بھی آئندہ تاریخ سماعت پر 16جنوری کو پیش کرنے کاحکم دیاہے۔ ڈائریکٹر لیگل پنجاب گورنمنٹ نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ عدالت کے حکم کی روشنی میں ہر ممکن پراگرس رپورٹ اپ لوڈ کر دی جائے گی،عدالت نے واسا سے صاف پانی کی بابت بھی رپورٹ طلب کی ہے۔درخواست گزار وکیل وقاراے شیخ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ لاہور کی ہاؤسنگ سوسائٹیز سیوریج چارجز کے نام پر اپنے مکینوں سے رقم وصول کررہی ہیں،پی ایچ اے کے وکیل نے کہا کہ یہ سوسائٹیز  گندہ پانی باہر پھینکتی ہیں، فاضل جج نے کہا کہ لاہور میں مساجد کے ساتھ لگائے گئے واسا کے ڈسپوزل پمپوں سے گندگی اور تعفن پھیلتا ہے،اس بابت واسا کے ایگزیکٹو انجینئر تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو فاضل جج نے کہا کہ کیوں نہ پھر یہ معاملہ محکمہ اینٹی کرپشن میں بھیج دیا جائے۔ڈی جی ایل ڈی اے نے کہا کہ لاہور میں 39جگہوں پر درخت لگائے جارہے ہیں،عدالت نے پوچھارنگ روڈ کی کیا صورتحال ہے، ڈی جی ایل ڈی اے نے کہاوہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، جس پر عدالت نے آئندہ تاریخ سماعت پرلاہور رنگ روڈ اتھارٹی کے متعلقہ حکام کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔

 رپورٹ طلب

مزید : صفحہ آخر