2019 میں سخت پالیسی سے معاشی نمومیں کمی ہوئی،ترجمان وزارت خزانہ

2019 میں سخت پالیسی سے معاشی نمومیں کمی ہوئی،ترجمان وزارت خزانہ

  



اسلام آباد(آئی این پی)ترجمان وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ معیشت 2020 کے اختتام تک بحالی کی جانب بڑھے گی۔ زراعت، صنعت اور سروسز سمیت رئیل سیکٹر کی نمو،افراط زر میں کمی، روزگار کے مواقع کی فراہمی میں اضافے کیلئے کوشاں ہے۔ترجمان کے مطابق سال 2019 میں سخت پالیسی اقدامات سے معیشت سست روی کا شکار رہی۔ زرعی شعبے کے استحکام کے لیے 287 ارب کے 13 میگا پراجیکٹس منظور کیے گئے ہیں۔ زراعت کے شعبے کے لیے کریڈٹ کا حجم نئے سال کیلئے 1,350 ارب روپے تک رکھا گیا ہے۔ زرعی قرضے اس سال 20 فیصد اضافے سے 482ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ترجمان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے لیے 301 ارب روپے جاری ہوچکے ہیں۔ جاری کھاتوں کا خسارہ 72.9 فیصد تک کم ہوچکا ہے۔ مالیاتی خسارہ 1.6 فیصد تک محدود ہوچکا ہے۔ترجمان وزارت خزانہ  کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال 20-2019 کے دوران اب تک 2,085 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی ہیں۔

سخت معاشی پالیسی

مزید : صفحہ آخر


loading...