مودی سرکار کی نگرانی میں ، امریکہ سمیت یورپی یونین کا مقبوضہ کشمیر سے دورہ سے انکار، وادی میں 159ویں روز بھی فوجی محاصرہ برقرار متنازعہ شہریت قانون کیخلاف مظاہروں میں شدت

مودی سرکار کی نگرانی میں ، امریکہ سمیت یورپی یونین کا مقبوضہ کشمیر سے دورہ سے ...

  



نئی دہلی/سرینگر(آئی این پی،این این آئی)امریکہ سمیت یورپی یونین کے سفیروں پر مشتمل وفد نے حکومتی نگرانی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا،بھارتی میڈیا کے مطابق یورپی یونین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کا بھارتی حکومت کی نگرانی میں گائیڈڈ دورہ نہیں کرنا چاہتے، حقائق جاننے کیلئے بعد میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے۔بھارتی میڈیا کے مطابق یورپی یونین کے وفد نے حکومتی نگرانی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔گذشتہ روز امریکا سمیت 16 ممالک کے سفیروں کو مودی سرکار کشمیر کے دورے پر لے جانا چاہتی تھی لیکن یورپی یونین کے وفد نے دورہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے موقف میں کہا ہے کہ کشمیر کا بھارتی حکومت کی نگرانی میں گائیڈڈ دورہ نہیں کرنا چاہتے، حقائق جاننے کے لیے بعد میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 159ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ برقراررہا جس کے باعث وادی کشمیر کی صورتحال جوں کی توں ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وادی کشمیر میں دفعہ 144کے تحت نافذپابندیوں اورجگہ جگہ بڑی تعداد میں تعینات بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کے باعث ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور پری پیڈ موبائل فون سروسز 5اگست سے تاحال معطل ہیں جس کی وجہ سے لوگوں خاص طور پر صحافیوں، طلباء اور تاجر وں کوسخت مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانببھارت بھر میں متنازع قانون اور نہرو یونیورسٹی کے طلبہ پر بد ترین تشددکیخلاف مظاہرے شدت اختیار کرنے لگے۔طلبا نے مظاہرے میں کشمیرکی آزادی کا پوسٹر بھی لہرا دیا۔ آسام میں بھارت، سری لنکا ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران سٹیڈیم شہریت قانون اور بی جے پی کے خلاف نعروں سے گونج اٹھا۔ بی جے پی رہنما اور وزیراعلی کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت کے مختلف شہروں میں مسلم دشمن قانون اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا پر آر ایس ایس کے غنڈوں کے تشدد پر ہزاروں افراد کے مظاہرے جاری ہیں۔ دیگر ریاستوں میں خواتین مظاہرین کی بھی بڑی تعداد سڑکوں پرسراپااحتجاج ہے۔دہلی میں جے این یو میں طلبا اور اساتذہ یونین کا احتجاجی مارچ جاری ہے۔ دہلی میں طلبا آزاد کشمیرکے پوسٹرز بھی آوازیں کیے جانے لگے۔ مظاہرین کہتے ہیں کہ اگرہم خاموش رہے تومذہبی رسومات کا ادا کرنا بھی مشکل ہوجائیگا۔ 

یورپی یونین/انکار

مزید : صفحہ اول


loading...