نیب آرڈیننس کی بعض دفعات غیر شرعی،قبلہ ایاز، مذہبی طبقات کو اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی حاصل نہیں: فواد چودھری

      نیب آرڈیننس کی بعض دفعات غیر شرعی،قبلہ ایاز، مذہبی طبقات کو اسلامی ...

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) اسلامی نظریاتی کونسل نے نیب آرڈیننس کی کچھ دفعات کوغیر شرعی قرار دے دیا۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا نیب قانون کو دین اسلام کے جرم و سزا کے قوانین سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سربراہ اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا نیب آرڈیننس کی دفعات 14 ڈی، 15 اے اور 26 غیر اسلامی ہیں، وعدہ معاف گواہ بننا، پلی بارگین کی دفعات غیر اسلامی ہیں، ملزم کو زیادہ وقت کیلئے زیر حراست رکھنا اور تشہیر کرنا غیر شرعی ہے۔قبلہ ایاز نے کہا کہ پرویز مشرف کی لاش کو ڈی چوک میں لٹکانا عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ جج کی آرا ہے، لاش کو گھسیٹ کر لانے کے حوالے سے ریسرچ ونگ جائزہ لے رہا ہے۔ قبلہ ایازنے کہا کہ نیب کے قانون میں سقم ہیں،نیب کے احتساب کاعمومی تصوراسلامی تصوراحتساب کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ نیب آرڈیننس کی متعدد دفعات شریعت سے متصادم ہیں۔قبلہ ایاز نے کہا کہ ملزمان کوہتھکڑی لگانا، اس کی میڈیا پر تشہیر حراست میں رکھنا غیر شرعی ہے، اس کے علاوہ بے گناہ کوملزم ثابت کرنا، وعدہ معاف گواہ بننا اور پلی بارگین کی دفعات غیر اسلامی ہیں۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ ہم ایک نئے دورجنسیات میں داخل ہو رہے ہیں، پرائمری اسکول سے ہی بچوں کیلئے ماہر نفسیات کی ضرورت ہے، قبلہ ایاز نے کہا کہ مذہب کی جبری تبدیلی اسلام کے خلاف ہے، اس سلسلے میں اقلیتی مذہبی رہنماوں کی آرا حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل نے سوشل میڈیا پر توہین کے خلاف قومی اسمبلی کی قرارداد کی تائید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے پر پابندی لگائی جائے۔ڈاکٹر قبلہ ایاز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بچوں سے جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے تجاویز دے دی ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل نے بچوں سے جنسی تشدد کیلئے خصوصی عدالتیں بنانے کی سفارش کر دی ہے۔  وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ 20ممبران پر مشتمل اسلامی نظریاتی کونسل آئینی ادارہ ہے، نیب قوانین پر حکومت جبکہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ بھی عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے،فواد چودھری کو ہم سے رابطہ کرنا چاہیے تھا تو ہم ان کو مطمئن کرتے۔ قبلہ ایاز نے کہا کہ فواد چوہدری کا ٹویٹ سمجھ سے بالاتر ہے، فواد چوہدری شرعی دلیل دیں تو ہم غور کیلئے تیارہیں۔ انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، 20ممبران پر مشتمل اسلامی نظریاتی کونسل آئینی ادارہ ہے۔ قبلہ ایاز نے کہا کہ نیب قوانین پر حکومت خود بھی عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے جبکہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ بھی عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے،ہم نے نیب قوانین کا شرعی لحاظ سے جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کے قمری کلینڈر کو ہم نے بہت سراہا تھا، فواد چوہدری بہت کھلے ڈلے آدمی ہیں، انہیں ہمارے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے تھا تو ہم ان کو مطمئن کرتے۔دوسری جانب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے بیان پرر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا ہے کہ آج تک مذہبی طبقات کو اسلامی نظریاتی کونسل سے کوئی رہنمائی نہیں ملی، ایسے ادارے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو کی اشد ضرورت ہے۔وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات ہیں، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور انتہائی جید لوگ اس ادارے کو سنبھالیں۔۔فواد چودھری کے بیان پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلوں پرفواد چودھری کا بیان ایک آئینی ادارے کی توہین ہے۔حافظ حمداللہ نے کہا کہ ایک وفاقی وزیراسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے کی توہین کا مرتکب ہورہا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کو ناکارہ کہنا کیا یہ ہے ریاست مدینہ کا تقاضہ؟انہوں نے کہا کہ کونسل میں مذہبی سکالرز، آئینی و قانونی ماہرین بطور رکن شامل ہیں اوراگر نہیں ہیں تو صرف حریم شاہ نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ناقص کارکردگی اور بد زبانی کے باعث فواد چودھری سے وزارت اطلاعات لے لی گئی تھی، فواد چودھری دوسروں پر تنقید کی بجائے اپنی کارکردگی دکھائیں یا مستعفی ہوجائیں۔

قبلہ ایاز/فواد چودھری

مزید : صفحہ اول


loading...